#کالم

کپاس کا زوال ،ماحول کا سوال 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

گرووغبارکے طوفان ،گرمی کی بڑھتی شدت اور غیر متوقع دنوں میں شدید بارشیں،سیلاب اور ژالہ باری   کو ابھی تو صرف عالمی موسمی تبدیلیوں کا آغاز  تصور کیا جاتا ہے ۔ان تبدیلیوں کے اثرات ایک جانب تو انسانی صحت کو متاثر کر رہے ہیں تو دوسری جانب ہماری علاقائی فصلوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں اور تیسری جانب ہمارے انفراسٹرکچر کی تباہی کی وجہ بن رہے ہیں ۔کھیتوں کھلیانوں میں کٹی اور کھڑی فصلوں پر ژالہ باری اور بارش ایک ایسا المیہ ہوتا ہے جو زراعت کی تباہی کا باعث بنتا ہے ۔تیز آندھیاں اور ژالہ باری جنوبی پنجاب کی ایک اہم فصل آم کو شدید متاثر کر رہی ہے ۔کہتے ہیں کہ ان موسمی تبدیلیوں کی وجہ جنگلات کی کٹائی اور شجر کاری کا فقدان ہے ۔لیکن  ہمارے علاقے کے عام  لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ کپاس کی فصل کا زوال بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے ۔ہیٹ برسٹ اور کلاوڈ برسٹ کی وجہ  بننے والی یہ موسمی تبدیلیاں بہت سی وجوہات کے ساتھ ساتھ سرسبز کپاس کی فصلوں کا نہ ہونا بھی سمجھا جاتا ہے ۔اس لیے شجر کاری کے ساتھ ساتھ کپاس جیسی فصلوں  کی کاشت سے بھی ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔کپاس کا پودہ دوسرۓ سبز پودوں کی طرح فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا اور آکسیجن خارج کرتا ہے ۔بڑے پیمانے پر کپاس کی فصلیں کاربن کو مٹی اور پودۓ کے اندر محفوظ کرنے میں مدد دۓ سکتی ہیں ۔ذرا تصور کریں کہ جب ہزاروں ایکڑاراضی پر کپاس کے پودۓ کاربن ڈائی اکسائڈ جذب کر رہے ہوتے ہیں تو فضا کتنی صاف ہو جاتی ہے ۔آج ماحول دوست کاشتکاری وقت کی ضرورت ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں زرعی نظام اور آلودگی کے لیے چیلنج بنتی جارہی ہیں ۔

بینک ملازمت کے دوران مجھے ہمیشہ ایسے علاقوں میں کام کرنے کا موقعہ ملا جہاں کی معیشت کا دارومدار کپاس کی فصل سے وابستہ ہوا کرتا تھا ۔کپاس کا سیزن ان علاقوں میں میلے جیسا سماں پیدا کر دیتا تھا ۔بازاروں میں چہل پہل اور سڑکوں پر رونق بڑھ جاتی تھی ۔ہر جانب کپاس ہی کپاس دکھائی دیتی  اورعلاقے کا ہرفرد اس سے منسلک ہوا کرتا تھا ۔کپاس دوہزار کی دھائی تک اپنی اہمیت کی باعث ایک نقد آور فصل سمجھی جاتی تھی ۔علاقے کی ہر خوشی اور ہر خواہش کی تکمیل اس فصل سے ہی وابستہ ہوتی تھی ۔وہاڑی شہر میں داخل ہوتے وقت آویزاں بورڈ مجھے آج بھی یاد ہے "کاٹن سٹی  وہاڑی میں خوش ا ٓمدید "کپاس کے موسم میں کپاس کے ڈھیروں اور ٹرالیوں کی آمدورفت کی باعث اکثر ٹریفک جام رہتا تھا ۔پورا تجارتی نظام اچھی کپاس کی فصل سے جڑا ہوتا تھا ۔سندھ ،ڑحیم یارخان ،بہاولپور  ،وہاڑی اور ملتان کے علاقوں میں کاٹن اور آئل فیکڑیوں کی بھر مار ہوا کرتی تھی جو لاکھوں مزدوری کے لیے روزگار کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی تھی ۔اسی فصل کی وجہ سے کاٹن جننگ ،آئل ملز اور سیڈ کارپوریشن کے کاروبار کو عروج حاصل ہوا ۔کپاس ایک اچھی فصل کے ساتھ ساتھ اپنی چھڑیوں کی وجہ سے کاشتکار کے لیے پورے سال کا ایندھن بھی مہیا کرتی تھی ۔پھر ایسا کیا ہوا کہ کپاس کا بادشاہ جنوبی پنجاب کا یہ علاقہ بتدریج   آج کپاس کے زوال کی داستان بن گیا ہے ۔موجود موسم اور گرمی کی شدت نے کپاس کی فصل کو ضرور متاثر کیا ہے لیکن اس کا زوال تو بیس سال قبل ہی وائرس اور ناقص کیڑا مار ادویات کی وجہ شروع ہو چکا تھا ۔جب کپاس کی پیداوار اور کوالٹی متاثر ہونے لگی تو کاٹن فیکڑیوں ،آئل ملز نے بھی بہتری اسی میں سمجھی کہ انہیں بند کردیا جاۓ یوں اکثر فیکڑیاں ہاوسنگ سوسائٹی میں بدل گیں اور کچھ ملبے کا ڈھیر بن کر رہ گیں ۔کاشتکار متبادل اجناس کاشت کرنے لگا اور بیشتر کاشتکاروں نے اپنا رخ گنے کی فصل کی جانب موڑ لیا ۔آج یہی علاقہ شوگرملز اور گنے کی فصل کے لیے جانا جاتا ہے ۔کپاس کی پیداوار کم ہوتے ہوتے تقریبا” پچاس فیصد سے بھی کم ہوکر رہ گئی ہے ۔کپاس سے وابستہ صنعت  کار اور جنرز ہیرو سے زیرو ہوکر متبادل کاروبار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ لاکھوں مزدور اور کاریگر بےروزگاری کا شکار ہو چکے ہیں ۔اعداد  وشمار کی بات کریں تو بیس سال قبل پاکستان میں کپاس کی پیداوار پندرہ ملین گانٹھ کی بلند سطح پر تھی جبکہ حالیہ برسوں میں یہ کم ہوکر پانچ سے چھ ملین  گانٹھ تک پہنچ چکی ہے ۔جبکہ پنجاب اور خصوصی جنوبی پنجاب ملک کی کل کپاس کا تقریبا” پینسٹھ فیصد پیداکرتا تھا ۔کپاس کے علاقے میں شوگر ملز کی بھر مار سے ماحول کب بہتر رہ سکتا ہے ؟ 

کبھی جنوبی پنجاب کے وسیع میدانوں میں لہلہاتی کپاس کے سفید پھول دور سے برف کی چادر کا گمان دلاتے تھے۔ ان کھیتوں سے چنائی کے دوران خواتین بھی یہاں کی ثقافت کی نمائندگی کرتی دکھائی دیتی تھیں ۔یہ فصل صرف کسان کی روزی روٹی یا ملکی معیشت کا سہارا نہیں تھی بلکہ اس خطے کے ماحول، ثقافت اور طرزِ زندگی کا بھی اہم حصہ تھی۔ آج جب کپاس کے کھیت سکڑتے جا رہے ہیں تو صرف ایک فصل ہی غائب نہیں ہو رہی بلکہ ایک پورا ماحولیاتی اور معاشی نظام بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کپاس کے زوال کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی قلت، شدید گرمی کی لہریں ، بے وقت بارشیں، گلابی سنڈی جیسے کیڑوں کے حملے ،ناقص بیج اور زرعی پالیسیوں کی خامیاں شامل ہیں۔ شوگر ملز کی بہتات اور کنے کی کاشت کے لیے بڑھتا ہوا رقبہ بھی ایک بنیادی وجہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کپاس کے کم ہوتے رقبے نے خود ہمارے موسم پر بھی اثر ڈالا ہے؟ زرعی ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر سبز فصلیں مقامی ماحول میں نمی، درجہ حرارت اور ہوا کے توازن کو متاثر کرتی ہیں۔ جب لاکھوں ایکڑ پر پھیلی کپاس کی جگہ دوسری فصلیں یا خالی زمین آ جاتی ہے تو مقامی ماحولیاتی نظام میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافہ، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور فضا میں گرد و غبار کا بڑھنا انہی اثرات کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ کپاس کبھی جنوبی پنجاب کی شناخت تھی۔ اس سے وابستہ جننگ فیکٹریاں، ٹیکسٹائل صنعت، مزدور طبقہ اور چھوٹے کاروبار ایک وسیع معاشی زنجیر تشکیل دیتے تھے۔ آج اس زنجیر کے کمزور ہونے سے نہ صرف معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ دیہی معاشرہ بھی نئی مشکلات سے دوچار ہو رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موسم کی تبدیلی نے کپاس کو نقصان پہنچایا، اور کپاس کے زوال نے ماحول کے توازن کو مزید متاثر کیا۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں سبب اور نتیجہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کپاس کی فصل پر ایک مرتبہ پھر توجہ دی جاۓ کیونکہ یہ پاکستانی برامدات کا ایک بڑا ہدف پورا کر سکتی ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اس لیے حکومت کی خصوصی توجہ اور کسان کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ اچھے بیج اور ارزاں کھاد اور زرعی ادویات کا مہیا کہا جانا اور کاشتکار کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا سب سے اہم ہو گا ۔کپاس کی فصل اور اسکی انڈسٹری توجہ چاہتی ہے ۔یہاں کے موجودہ  ماحول کے مطابق اچھے بیج پر ریسرچ ضروری ہو چکی ہے ۔

اگر ہم جنوبی پنجاب کے ماحول، معیشت اور زرعی شناخت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو کپاس کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ بہتر بیج، جدید تحقیق، پانی کے مؤثر استعمال اور کسان دوست پالیسیوں کے بغیر "سفید سونا” صرف یادوں کا حصہ بن کر رہ جائے گا، اور شاید آنے والی نسلیں ان سفید کھیتوں کو صرف تصویروں میں ہی دیکھ سکیں گی۔جس دھرتی نے کبھی سالانہ پندرہ ملین گانٹھ کپاس پیدا کرکے دنیا کی بڑی ٹیکسٹائل انڈسٹریز کو خام مال فراہم کیا آج وہی دھرتی پانچ ملین گانٹھوں کے قریب سمٹ چکی ہے ۔یہ صرف ایک فصل کا زوال نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے ماحول ،معیشت اور شناخت کے بتدریج بدلتے منظر نامے کی کہانی ہے ۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ کپاس کی کاشت میں اضافہ بھی ماخولیاتی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے