ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران آیت نمبر 6 میں فرمایا:
"وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہی غالب اور حکمت والا ہے۔”
انسان نے ہمیشہ اپنی ابتدا جاننے کی کوشش کی ہے۔ کبھی اس نے آسمانوں کی طرف دیکھا، کبھی زمین کی گہرائیوں میں اترا، کبھی ہڈیوں کے ڈھانچوں سے سوال پوچھے، یہاں تک کہ اب اس نے اپنے ہی وجود کے اندر چھپی ہوئی ایک نئی کتاب کھول لی ہے جسے جینوم (Genome) کہا جاتا ہے۔ سائنس کا تازہ دعویٰ یہ ہے کہ اگر انسانی تاریخ کو صرف ہڈیوں اور کتابوں سے نہیں بلکہ جینوم (Genome) کی زبان سے پڑھا جائے تو وہ ایک سیدھی لکیر نہیں رہتی بلکہ ایک حیرت انگیز جال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کبھی یہ جال شاخوں میں بٹتا ہے، کبھی دوبارہ آپس میں جڑ جاتا ہے اور کبھی ایسے کردار سامنے آ جاتے ہیں جن کا ذکر نہ کسی تاریخ میں ملتا ہے اور نہ کسی لوک داستان میں۔
جدید جینیات نے بتایا کہ ہر انسان کا جسم ایک ہی بنیادی زبان پر لکھا گیا ہے یعنی ڈی این اے (DNA) کی زبان۔ اس زبان کے صرف چار حروف ہیں: A، T، G اور C۔ انہی چار حروف کے اربوں امتزاج انسان کے جینوم (Genome) کو تشکیل دیتے ہیں۔ ماں اور باپ سے آنے والے 23، 23 کروموسوم (Chromosomes) جب باہم ملتے ہیں تو 46 کروموسوم (Chromosomes) پر مشتمل ایک نیا جینیاتی مسودہ وجود میں آتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک زائیگوٹ (Zygote) تشکیل پاتا ہے۔ ایک واحد خلیہ، جو بظاہر ایک نقطے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، آگے چل کر کھربوں خلیات پر مشتمل ایک انسان بن جاتا ہے۔
سائنس اس پورے عمل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے خاصی مسرور نظر آتی ہے، گویا اس نے رازِ ہستی کی آخری گرہ بھی کھول دی ہو، مگر ایسا نہیں ہے۔ سائنس ہمیں یہ تو بتا دیتی ہے کہ 23 کروموسوم (Chromosomes) ماں سے آئے اور 23 باپ سے، مگر یہ نہیں بتاتی کہ یہ حیرت انگیز نظام وجود میں کیسے اور کیوں آیا۔ وہ نقشہ دکھا دیتی ہے، نقشہ ساز کا پتہ نہیں دیتی۔
جینوم (Genome) کے مطالعے نے ہمیں مائٹوکانڈریل ایو (Mitochondrial Eve) اور وائی کروموسومل آدم (Y-Chromosomal Adam) جیسے تصورات دیے۔ یہ دونوں پہلے انسان نہیں تھے بلکہ وہ آخری مشترک جینیاتی کڑیاں ہیں جن کی مادری اور پدری لائنیں آج تک باقی ہیں۔ پھر نینڈرتھل (Neanderthals) سامنے آئے، پھر ڈینیسوونز (Denisovans) نمودار ہوئے۔ سائنس دانوں نے روس کی ایک غار سے ایک چھوٹی سی ہڈی نکالی اور دعویٰ کیا کہ یہ ایک ایسی انسانی شاخ ہے جس کا ہمیں پہلے علم ہی نہیں تھا۔ اس کے بعد تو گویا دروازے ہی کھل گئے۔ گھوسٹ ہومیننز (Ghost Hominins) کا ذکر ہونے لگا، یعنی ایسے انسان نما گروہ جن کی ہڈیاں تو نہیں ملتیں مگر ان کے جین آج بھی زندہ انسانوں میں موجود ہیں۔
پھر مالٹا بوائے (Mal’ta Boy) سامنے آیا، پھر یمنایا (Yamnaya) اور سٹیپ (Steppe) کے چرواہے۔ اب معلوم ہوا کہ انسانی تاریخ کسی سیدھی شاہراہ کا نام نہیں بلکہ ہجرتوں، ملاپوں، جدائیوں اور دوبارہ ملاپوں کی داستان ہے۔ جو کل "معدوم” قرار دیے گئے تھے، ان کے جین آج بھی زندہ ہیں۔ اور جو آج زندہ ہیں ان کے اندر کتنی معدوم دنیاؤں کی یادگاریں گردش کر رہی ہیں، اس کا حساب شاید خود سائنس دانوں کے پاس بھی نہیں۔
یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جینوم (Genome) سے ملنے والی کہانیاں ارتقاء (Evolution) کی سیدھی لکیر نہیں بلکہ جدائی (Divergence)، اختلاط (Admixture) اور دوبارہ جدائی کی داستانیں سناتی ہیں۔ انسانی تاریخ اب درخت (Tree) سے زیادہ ایک جال (Network) دکھائی دیتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سارے علم نے بنیادی سوالات بھی حل کر دیے ہیں؟
بالکل نہیں۔
سائنس محض مادی کڑیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہے۔ وہ یہ بتا رہی ہے کہ چیزیں کیسے ہوئیں، مگر یہ نہیں بتا رہی کہ کیوں ہوئیں۔ وہ اس لمبے سفر کی دنیا میں بنی ہوئی پگڈنڈی تو دکھا رہی ہے مگر آغاز اور انجام کا پتہ نہیں دے رہی۔
قرآن چودہ سو سال پہلے انسان کو رحمِ مادر کی طرف متوجہ کر رہا تھا۔ آج سائنس بھی اسی دروازے پر کھڑی ہے۔ مرد کے سپرم (Sperm) اور عورت کے ایگ (Egg) کے ملاپ سے بننے والا زائیگوٹ (Zygote) تقسیم در تقسیم کے مراحل طے کرتا ہے۔ خلیات بنتے ہیں، بافتیں بنتی ہیں، اعضاء بنتے ہیں، اعصابی نظام تشکیل پاتا ہے، دل دھڑکنا شروع کرتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک مکمل انسان وجود میں آ جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ماں کے پیٹ میں تخلیقِ انسانی کے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک خاص مرحلے پر فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ روایت میں ایک سو بیس دن کا ذکر آتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس کے آگے سائنس کے پر جلتے ہیں۔ وہ دل کی دھڑکن سن سکتی ہے، دماغی لہروں کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے، مگر روح کو نہ تول سکتی ہے، نہ ناپ سکتی ہے اور نہ کسی شیشی میں بند کر سکتی ہے۔
رحمِ مادر کا یہ نو ماہ کا سفر بھی عجیب ہے۔ ایک واحد خلیہ، پھر خلیات کا مجموعہ، پھر اعضاء کی تشکیل اور پھر ایک مکمل انسان۔ بعض ماہرین اسے زندگی کے طویل سفر کی ایک تمثیلی جھلک قرار دیتے ہیں۔ اگر ماں کے پیٹ میں 120 دن کے بعد اللہ کے حکم سے بچے میں روح پھونکی جاتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں اس زمین پر انسان کے ارتقاء کے سفر میں بھی ایک مخصوص وقت پر انسان نے انسان ہونے کا شرف حاصل کیا۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں نومولود کی تخلیق کے اس سفر میں دراصل حیات کی طویل داستان کے بعض بڑے عنوانات جھانکتے نظر آتے ہیں۔
مگر اصل سوالات آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے۔
یہ چار جینیاتی حروف آخر اس حیرت انگیز زبان میں کیسے ڈھلے؟ شعور کہاں سے آیا؟ اخلاقی احساس کی بنیاد کیا ہے؟ محبت، قربانی، دعا اور وحی کو کس خوردبین سے دیکھا جائے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیوی زندگی کے بعد انسان کی اگلی منزل کیا ہے؟
جینوم (Genome) ایک خاموش آرکائیو






