نواب ناظم: محبت، غربت کا المیہ اور انسان کی طلب
* باغ و بہار* ایم فاروق قمر
ادب کسی قوم کی روح کا عکس ہوتا ہے۔ شاعر اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے، اسے لفظوں کا لباس پہنا کر ہم تک پہنچا دیتا ہے۔ نواب ناظم اردو کے ایسے ہی شاعر ہیں جن کی شاعری میں درد بھی ہے، بغاوت بھی ہے اور امید کی کرن بھی۔ ان کا کلام مشکل الفاظ کا بار نہیں اٹھاتا، بلکہ سادہ زبان میں دل کی بات کر دیتا ہے۔ ادب وہ آئینہ ہے جس میں قوم کا درد، امید اور فکر دکھائی دیتی ہے۔ نواب ناظم اردو کے ان شعرا میں سے ہیں جنہوں نے سادہ لفظوں میں گہرے فلسفے بیان کیے۔ ان کے اشعار صرف ذاتی تجربے کا بیان ہیں بلکہ اجتماعی مسائل کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔یوں سمجھ لیجیے ان کی شاعری میں غم عشق ہی نہیں غم روزگار بھی ہے۔منٹو کی طرح وہ بھی سچائی بیان کرنے سے ہجکچاہت سے کام نہیں لیتے ہیں بلکہ جو دیکھتے ہیں وہی بیان کر دیتے ہیں۔ نواب ناظم کا کلام درد بھی ہے اور بغاوت بھی۔
عمر درکار ہے محبت کو
ایک پل میں تو پل نہیں سکتی
لوٹ کے جب بھی گھر گئے ہوں گے
لوگ فاقوں سے ڈر گئے ہوں گے
جو بدل دے زندگی کا مزاج
ایک ایسا بھی آدمی دے دو
محبت بیج نہیں جو فورا اگ آئے۔ اسے وقت، صبر، وفا چاہیے۔ پل بھر کے جذبے کو محبت مت سمجھو۔
آج کی جلدی والی محبتوں پر طنز۔ سچی محبت صبر کا امتحان ہے۔ ناظم صاحب کہتے ہیں کہ محبت کو پروان چڑھنے، مضبوط ہونے اور پائیدار بننے کے لیے ایک پوری عمر درکار ہوتی ہے۔ یہ کوئی ایسا پودا نہیں جو ایک لمحے میں اگ آئے اور پھل دے دے۔ ایک پل یعنی ایک لمحے میں تو یہ پل بھی نہیں سکتی، یعنی پرورش نہیں پا سکتی، بڑی نہیں ہو سکتی محبت اگر صرف کشش اور وقتی جنون ہے تو وہ دھوکا ہے۔ حقیقی محبت وہ ہے جو وقت کے ساتھ پختہ ہو۔ جیسے سونا آگ میں تپ کر خالص ہوتا ہے، ویسے ہی محبت بھی آزمائشوں سے گزر کر سچی ہوتی ہے۔ شاعر ہمیں رشتوں کی قدر سکھا رہا ہے۔
انہوں نے معاشی بدحالی کو اپنی شاعری میں
موضوع بنایا ہے، جب رزق تنگ ہو جائے تو محبت، سکون، رشتے سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ "گھر” جو تحفظ کی علامت ہے، وہاں بھی بے چینی ہے۔ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں، پورے معاشرے کا المیہ ہے۔
ان کے اشعار سماجی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں ۔ گھر واپسی خوشی کا لمحہ ہوتی ہے، مگر شاعر نے اسے ڈر کا لمحہ بنا دیا۔ کیوں؟ کیونکہ لوٹنے والے خالی ہاتھ تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر گھر والوں کو روزی کے فاقے کا خوف ستانے لگا ہو گا۔ جو لوگ گھر واپس آئے ہوں گے، ان کی حالت دیکھ کر گھر والے روزی کے فاقے سے ڈر گئے ہوں گے۔ شاید وہ خود بیروزگار، تھکے ہارے لوٹے ہوں۔ معاشی تنگدستی، وطن واپسی کا درد۔ گھر سکون کی جگہ نہیں رہا، بوجھ بن گیا۔ نواب ناظم کا "فاقوں سے ڈرنا” ایک یہ خوبصورت استعارہ ہے ، جو انسان کو اندر ہی اندر غربت، احساس طلب اور دوسری ضروریات کے پیش نظر اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ اج کا دور معاشی بدحالی کا دور ہے اور ہر انسان اس سے دوچار ہے وہ بنیادی ضروریات تک نہیں پوری، نہ کاروبار رہا معاشی ضروریات کے لیے اگر وہ وطن سے دور ہے تب بھی اسی کے دل میں درد ہے وطن کے اندر ہے تو غربت کا فاقوں کا خوف اس کے اندر موجود ہے۔ پردیس سے جب بھی لوگ گھر واپس لوٹے ہوں گے، گھر والوں نے ان کی خستہ حالت، خالی جیب، تھکے چہرے دیکھ کر بھوک اور فاقے کے ڈر سے سہم گئے ہوں گے۔ گھر واپسی کا لمحہ جو سکون دینا چاہیے، وہاں خوف نے ڈیرا ڈال لیا۔
ان کے اشعار صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، پورے سماج کی کہانی ہے۔ نواب ناظم نے اپنی شاعری میں معاشی بدحالی، بیروزگاری اور غربت کی تصویر کھینچی ہے۔ "لوٹ کے” لفظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ شاید پردیس گئے تھے، روزگار کی تلاش میں۔ مگر ناکام لوٹے۔ گھر، جو پناہ گاہ ہونا چاہیے، وہاں بھی تشویش ہے۔ بھوک انسان کو کو ایک آسیب، ایک ڈراؤنی شے بنا دیتی ہے ۔ "جب بھی” کے الفاظ سے دوام اور تکرار کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک دن کا قصہ نہیں، یہ روز کا معمول ہے۔ شاعر نے "مکالمہ” کا انداز اپنایا، یعنی وہ گویا منظر خود بیان کر رہا ہے۔ اس سے شعر میں ڈرامائی کیفیت پیدا ہو گئی۔
ان کا ہر شعر انسان کے دل کی آواز ہے۔
انسان فطرتاً تبدیلی کا متلاشی ہے۔ روز کا ایک سا معمول، دفتر، گھر، سونا، جاگنا، انسان کو تھکا دیتا ہے۔ دل چاہتا ہے کوئی آئے اور سب کچھ بدل دے۔ کوئی دوست، کوئی محبوب، کوئی ہمسفر جو زندگی کو نئی معنی دے۔
انسان فطرتاً تبدیلی چاہتا ہے۔ روز کا ایک سا معمول، اکتاہٹ، تنہائی انسان کو توڑ دیتی ہے۔ اس شعر میں شاعر خدا سے ایک ایسے انسان کی دعا مانگ رہا ہے جو اس کی زندگی کا مزاج بدل دے۔ یعنی کوئی دوست، محبوب یا ہمسفر جو زندگی میں نیا رنگ بھر دے۔ یہ صرف عشق کی بات نہیں۔ یہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمیں زندگی میں ایسے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جو ہمارا اندازِ فکر بدل دیں، ہمیں نئی امید دیں۔ یہ شعر امید کا شعر ہے۔ درد کے بعد دعا ہے۔ ان کے اشعار میں غربت اور مایوسی اگر ہے تو ساتھ وہ اس غربت اور مایوسی سے نکلنے کی دعا بھی مانگتے ہیں ، کیوں کہ مایوسی کے بعد امید کا دروازہ کھولتا ہے
نواب ناظم نے یہاں "آدمی” کا لفظ استعمال کیا جو بہت جامع ہے۔ یہ مرد بھی ہو سکتا ہے، عورت بھی، دوست بھی، مرشد بھی۔ مطلب کوئی بھی ایسا وجود جو زندگی میں امید کی شمع جلا دے۔ ان کی شاعری میں مایوسی کے بعد امید کا






