#کالم

ہمارا معاشرہ اور عورت

adusahdksajdhgd 1

عالیه خان

السلام علیکم محترم قارئین!میں نے جب سے صحافت کے میدان میں قدم رکھا ہے، خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم، ناانصافی اور افسوسناک واقعات کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتی رہی ہوں۔ اس کی وجہ صرف میرا صحافی ہونا نہیں بلکہ ایک عورت ہونا بھی ہے۔ شاید ایک خاتون ہونے کے ناطے میں ان واقعات کا درد زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ میں خود ایک پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی ہوں، اس لیے معاشرے کے رویوں، مشکلات اور خواتین کو درپیش چیلنجز کو بہت قریب سے دیکھتی ہوں۔ جب بھی کسی عورت کے ساتھ ظلم کی خبر سنتی ہوں تو ایک صحافی کے ساتھ ساتھ ایک عورت، ایک ماں اور ایک بیٹی کا دل بھی زخمی ہو جاتا ہے۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو عزت، وقار اور بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ اگر اللہ نے مرد کو جسمانی طاقت دی ہے تو اسی طاقتور مرد کو جنم دینے، اس کی پرورش کرنے، اسے محبت، تربیت اور شعور دینے کی ذمہ داری بھی ایک عورت کے سپرد کی ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو ایک مرد کی کامیابی کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی ہے، اس کی ماں، بہن، بیٹی اور شریکِ حیات بنتی ہے۔ مگر افسوس کہ اسی عورت کی عزت، وقار اور شخصیت کو بعض بیمار ذہن لمحوں میں خاک میں ملا دیتے ہیں۔چند روز قبل میں ماڈل ٹاؤن میں ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعے پر لکھنے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اسی دوران کوئٹہ سے ایک اور دل دہلا دینے والی خبر سامنے آ گئی۔ ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ ایک ایسی خاتون جو برسوں کی محنت، تعلیم، قربانیوں اور جدوجہد کے بعد اس مقام تک پہنچی تھی جہاں وہ دوسروں کی جان بچانے کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا کہ پاکستان میں تیزاب گردی کا ناسور ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔خواتین کے لیے کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن ڈاکٹری جیسے ذمہ داری اور محنت طلب شعبے میں کامیاب ہونا نسبتاً زیادہ مشکل ہے۔ ایک خاتون ڈاکٹر کو نہ صرف طویل تعلیمی سفر، سخت تربیت، امتحانات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اسے گھریلو ذمہ داریوں اور معاشرتی توقعات میں بھی توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین تعلیم اور کیریئر کے دوران سماجی، ثقافتی اور خاندانی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہیں، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود وہ آگے بڑھتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض بیمار ذہن خواتین کی کامیابی، خودمختاری اور ترقی کو برداشت نہیں کر پاتے۔کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں خواتین کو تیزاب گردی کا نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ کبھی رشتہ مسترد کرنے پر، کبھی گھریلو تنازع پر اور کبھی صرف انا کی تسکین کے لیے خواتین کی زندگیاں برباد کر دی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا خطرناک اور تباہ کن کیمیکل اتنی آسانی سے مجرموں تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟ اگر تیزاب کی فروخت اور خریداری پر نگرانی موجود ہے تو پھر یہ درندے اسے حاصل کرنے میں کامیاب کیسے ہو جاتے ہیں؟تیزاب گردی محض ایک جسمانی حملہ نہیں بلکہ ایک زندہ انسان کو زندگی بھر کی سزا دینے کے مترادف جرم ہے۔ متاثرہ خاتون نہ صرف شدید جسمانی اذیت سے گزرتی ہے بلکہ نفسیاتی، سماجی اور معاشی مشکلات کا بھی سامنا کرتی ہے۔ ایک لمحے میں چہرہ جھلس جاتا ہے مگر اس کے اثرات پوری زندگی باقی رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں تیزاب گردی کو سنگین ترین جرائم میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف جسم پر نہیں بلکہ انسان کی شناخت، اعتماد اور مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔پاکستان میں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں اور کئی مقدمات میں سخت سزائیں بھی سنائی گئی ہیں، مگر صرف قانون بنا دینا کافی نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ تیزاب کی فروخت، خریداری اور استعمال کے پورے نظام کو سخت نگرانی کے دائرے میں لایا جائے اور غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد، عدم برداشت اور انتقامی سوچ کے خاتمے کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی حلقوں، میڈیا اور ریاستی اداروں کو مل کر ایسی ذہن سازی کرنی ہوگی جو خواتین کے احترام، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کو فروغ دے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات پر چند دن شور مچتا ہے، مذمت کی جاتی ہے، سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار ہوتا ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر متاثرہ خواتین کے لیے یہ سانحہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کوئٹہ کی وہ لیڈی ڈاکٹر جب بھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے گی تو اسے صرف اپنا عکس نظر نہیں آئے گا بلکہ وہ لمحہ بھی یاد آئے گا جب اس پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ شاید وقت اس کے جسم کے زخموں کو کسی حد تک بھر دے، مگر دل اور روح پر لگنے والے زخم زندگی بھر اس کا پیچھا کریں گے۔ وہ ہر روز اپنے چہرے کے ساتھ نہیں بلکہ اس ظلم کی یاد کے ساتھ زندگی گزارے گی۔ اس کی ساری زندگی ایک ایسے کرب میں گزرے گی جس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتی ہے جس پر یہ ظلم بیتا ہو اسی طرح اگر ہم خواتین کے ساتھ ذیادتی کی بات کریں تو ایک بڑا نور مقدم کیس جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، مگر اس کے بعد بھی خواتین کے خلاف تشدد، قتل، زیادتی اور تیزاب گردی کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ ہر واقعے کے بعد چند روز تک شور مچتا ہے اور پھر متاثرہ خاندان انصاف کی راہداریوں میں تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کی معصوم بچی کا واقعہ بھی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے