#کالم

آ نکھ جو کچھ دیکھتی ھےچین کی حقیقی تصویر ازخورشید جاوید

Untitled 13

( شاہد بخاری)
نصابی کتب میں اب لکھا جاتا ھے کہ پاکستان کے شمال میں چین ھے۔راقم نے1964ءمیں میٹرک کیا تب درسی کتب میں پاکستان کے شمال میں افغانستان لکھا ھوتا تھا۔
1968ءمیں رسالہ”چین با تصویر”اور روس کا رسالہ ‘طلوع” بذریعہ ڈاک ملنے پرCID والے نے والد سے کہا کہ بیٹےکو سمجھا دیں سرخ لٹریچر منگوانا بند کردے وگرنہ بی۔اے۔کا امتحان نہ دے سکے گا۔پھروہ دور بھی آیا کہ صدر ضیاء الحق ایک طرف سرخ چین کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اوردوسری طرف سرخ USSR کو توڑتے توڑتے سیاچن پر بھارتی قبضہ کروا بیٹھے۔ جس کی بابت تیسری بار وزیر اعظم بننے سے قبل نواز شریف فرماتے تھے کہ سیاچن سے فوج بلا لینی چاہیے ،یہ جنگ لاحاصل،اور ھر لحاظ سے بھت مہنگی پڑ رھی ہے۔
ع۔۔ھمیں یاد ھے سب ذرا ذرا انھیں یادہو کہ نہ یاد ہو
یہ سب کچھ خورشید جاوید کی کتاب” چین کی حقیقی تصویر” ۔۔ماضی،حال اور مستقبل ،دیکھ کر یاد آ رھا ھے، جو6 بیگم روڈ سے تخلیقات والوں نے شائع کی ھے۔
سرمایہ داری نظام کے مظالم بصورت جارحیت وینزویلا اور ایران پر مسلط کر دہ جنگ سے عیاں ھو چکے ھیں۔اس کا توڑ صرف سوشلزم ھے، جو اسلام سے ملتا جلتاھے۔فرمان قرآن ھے ، زاید از ضرورت اللہ کی راہ میں دے دو۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن آئے تو میرے پاس اس میں سے کچھ باقی رہے” ( یعنی مال کو جمع رکھنا آپ کو بہت ناپسند تھا)لیکن استحصالیوں کے پرو پیگنڈے نے مسلمانوں کے لئیے سوشلزم کو ھوا بنایا ھواھے۔
اھل غزہ پر جو مظالم ھو رھے ھیں اس پر سب مسلمان حکمران چپ ھیں،
اسلامی اخوت کو یکسر بھولے ھوئے ھیں لیکن سوشلزم یا کیمونزم کا نام سنتے ھی سب کو اسلام خطرے میں دکھائی دیتا ھے، ,جب کہ سوشلزم سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ۔۔۔ع۔۔۔
خطرہ ہے زرداروں کو
گرتی ہوئی دیواروں کو
صدیوں کے بیماروں کو
ملک کے غداروں کو
خطرے میں اسلام نہیں
سرمایہ داری نظام کے ایجنٹوں نے سوشلزم اور کمیونزم کے الفاظ کو دہریت کا مترادف بنا دیا ہے حالانکہ ان دونوں کا مقصد ہے، پیداواری وسائل کا مشترکہ استعمال اور اس سے حاصل آمدنی کی باہمی تقسیم۔ اس سے پیداواری عمل میں شریک ہر شخص کو اپنا حصہ مل جاتا ہے۔ نہ کہ صرف چند خاندانوں کو ہی فائدہ ہو۔ اسی لئیے سوشلزم کا ترجمہ اشتراکیت (جو مشترک سے نکلاھے)کیا جاتا ہے جہاں پیداوار اور آمدنی دونوں کا اشتراک ہوتا ہے۔ کمیونزم اشتراکیت سے آگے کا مرحلہ ھے۔ سوشلزم میں استعداد کے مطابق جبکہ کمیونزم افراد کی ضرورت کے مطابق آمدنی کی تقسیم ہوتی ھے۔
کمیون قائم کرنے کا تصور قدیم ہے۔ تاریخ میں اس کے لیئے کافی جدوجہد ہوئی۔ اس کئیلیے یورپ میں کوششیں کارل مارکس سے پہلے شروع ہو چکی تھیں۔ کواپریٹوز اسکا دوسرا نام ہے۔ لیکن سوشلسٹ ممالک نے اسے سائنسی بنیادوں پر قائم کیا۔ خورشید جاوید نے اپنی کتاب”چین کی حقیقی تصویر” ۔۔۔ماضی،حال اور مستقبل میں چینی کمیون اسکی تنظیم، دائرہ کار اور فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اس تصنیف میں وضاحت کردی گئی ھے کہ کس طرح عوامی جدو وجہد اور مخلص و بے لوث قیادت کی بدولت وہ قابل رشک پوزیشن میں کھڑا ھے اور ۔۔۔ع۔۔
"چین” کھٹکتا ہے دل
” سامراج” میں کانٹے کی طرح (اور ہم فقط اللہ ہو اللہ ہو الللہ ہو۔۔علامہ کی روح سے تصرف پر معذرت
کے ساتھ ۔۔یاد رھے کہ جب انگریز اپنی فراست سے انڈیا پر قبضہ کر رھا تھا تب حضرت سلطان باھو مختلف طریقوں سے الللہ ھو کا ورد سکھلا رھے تھے)
بد قسمتی ہے کہ حجاز مقدس کا نام بدل کر، سعودی عرب رکھ کر وھاں کی ساری دولت مسلمانوں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے پر لگانے کے بجائے امریکی بینکوں میں رکھ کر ان کی معیشت کو مضبوط و مستحکم کردیا گیا ہے۔ جو ظالم اسرائیل کا گاڈ
فادر بنا ھوا ھے جس نے بیروت اور اھل غزہ کو برباد کر کے ایران پر جنگ مسلط کرکے خلیجی ریاستوں کے تیل کی تجارت ختم کروا کے وینز ویلا کا
تیل بیچ کر منافع کما رھا ھے۔
کمیون میں نجی ملکیت کا خاتمہ نہیں کیا جاتا کسان اپنی زمین اور کاشتکاری کے آلات وغیرہ کا اشتراک کر لیتے ہیں۔ صرف بڑی زمینداری کا خاتمہ کر کے ان کے پاس خود کاشتہ زمین رہنے دی جاتی ہے۔زیر نظر کتاب کے صفحات 309تا319 میں خورشید جاوید صاحب نے کمیون اور ان کے بارے میں عام فہم انداز میں لکھ کر بھت سی غلط فہمیاں دور کر دی ھیں جو سوشلزم اور کمیونزم کے بارے میں ھمارا استحصال کر نے والوں نے پھیلا رکھی ھیں۔
چین میں دوسرے سوشلسٹ ملکوں کی طرح کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی جمہوریت ہر علاقے میں پائی جاتی ہے۔ لوگ اپنی مقامی حکومت منتخب کرتے ہیں جو پارٹی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔یہ کہنا غلط ھے کہ چین میں کوئی سیاسی پارٹی نھیں۔8 سیاسی جماعتوں کے نام ممبران کی تعداد وغیرہ کتاب کے صفحات 135/136 پر درج ھے۔صفحہ318 پر لکھا ہے کہ لینن نے 1916 ہی میں یہ بتا دیا تھا کہ” نیاسرمایہ دارانہ نظام مالیاتی سرمایہ پر قائم ہے”۔اسی لیے امریکی اور یورپی ممالک ترقی پزیر ملکوں کو عالمی مالیاتی اداروں اور بینکوں کے زریعے ہی کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی سے بچنے کے لیے چینی ریاست بینکوں پر کنٹرول کے ذریعےصنعتی سرمایہ کاری کو منضبط کرتی ہے۔چین میں سوشل ازم کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ وہ چینی سرمایہ داروں کو بے لگام نیں ھونے دے گی۔
زیر نظر کتاب کے مصنف خورشید جاوید فکشن نگار، مترجم اور محقق ھونے کے باعث وسیع المطالعہ ھیں،اس کی بدولت انھوں نے سامراجی پروپیگنڈے کا مدلل جواب اس کتاب میں دیتے ھوئے واضح کیا ھے کہ یاجوج ماجوج سے اھل چین کا رشتہ جوڑنا، سرد جنگ کی
ضرورت تھی،جس کا مقصد عوام میں چینیوں کو ایک خون خوار اور خوفناک مخلوق کے طور پر پیش کرنا تھا۔ حالانکہ ھر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے