#اداریہ

گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن ‘ سوالات ‘ اعتراضات اور جوابات

Fahad 01

آج کا اداریہ

گلگت بلتستان اسمبلی کیلیے پولنگ کا عمل مکمل’ ابتدائی نتائج آرہے ہیں ۔ اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔ 24 براہ راست منتخب ارکان، 6 خواتین نشستیں، 3 نشستیں ٹیکنو کریٹس کیلیے مختص ہیں۔حکومت سازی کیلیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے 23 امیدوار، ن لیگ کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوارمیدان میں ہیں۔اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں بطور پارٹی حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔پارٹی کا الزام ہے کہ اُن کی جماعت کے چیئرمین سلمان اکرم راجہ سمیت متعدد سینیئر رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی حق میں مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان داخل ہونے کی اجازت تک نہیں دی گئی جبکہ جو رہنما وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے انھیں بعدازاں علاقہ بدر کر دیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے انتحابی عمل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔جہاں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ‘لیول پلئینگ فیلڈ’ نہ ملنے کا الزام عائد کرتے رہے وہیں پاکستان میں وفاقی حکومت کو سپورٹ کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان لگا یا۔جبکہ حکومت مخالف جماعتیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت المسلیمین اور اُن کی ہم خیال جماعتیں سرفہرست ہیں، الزام عائد کرتی رہیں کہ ’ریاستی اداروں کی جانب سے انھیں انتخابات میں حصہ لینے اور انتخابی مہم چلانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں
تاہم ن لیگ کے ایک سینیئر رہنما اور گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی جا نب سےتحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے ان الزامات کی تردید آئی
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بطور سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنہ 2024 میں اعتراضات اٹھائے تھے اور اس جماعت کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف تھا کہ پی ٹی آئی میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں پر ابھی تک یہ معاملہ زیر التوا ہے۔یاد رہے کہ اس معاملے کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوئی جسے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔سیاسی جماعتوں کی کوریج کرنے والے مقامی صحافی سعادت علی مجاہد کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو گلگت بلتسان ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹکٹ ملنے تھے تاہم عین وقت پر اس پارٹی کی رجسٹریشن یہ کہتے ہوئے معطل کر دی گئی کہ اُن کی جانب سے کچھ دستاویزات گلگت بلتستان الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی گئیں قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُن کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوارں نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹکٹ حاصل کیے تو اس کے اگلے ہی روز الیکشن کمیش نے اس جماعت کی رجسٹریشن بھی معطل کر دی اور اب اُن کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حثیت میں ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایسا تحریک انصاف کو انتخابات میں آزادانہ طور پر متحد صورت میں الیکشن سے دور رکھنے کے لیے کیا گیا۔ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر بہادر جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کی رجسٹریشن اس لیے معطل کی گئی کیونکہ اس جماعت نے الیکشن کمیشن کی واضح ہدایات کے باوجود مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کروائے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے عبوری طور پر اس جماعت کو پولومین کا نشان بھی الاٹ کر دیا تھا، مگر ساتھ ہی ہدایت کی تھی کہ مقررہ تاریخ تک مطلوبہ دستاویزات الیکشن کمیشن کو جمع کروائی جائیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ’ابھی تک اس جماعت کی طرف سے مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کروائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کی رجسٹریشن معطل ہے۔پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ انھیں انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے گلگت بلتستان نہیں جانے دیا گیا اور یہی سب ان کی جماعت کے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ ہوا۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا اُن کی جماعت کے لوگ ’انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں شامل ہیں جس کے تحت علاقے سے نکلنے کے لیے مقامی تھانے سے اجازت لینا پڑتی ہے؟قومی اسمبلی کے سابق سپیکر نے الزام عائد کیا کہ ریاستی اداروں کے اس نوعیت کے اقدامات جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں انھوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق میں شامل جماعتوں کی قیادت کو تو پروٹوکول دیا جا رہا ہے مگر اس کے برعکس اُن کی جماعت کے رہنماؤں کو علاقہ بدر کیا جا رہا ہے۔گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر بہادر جمیل نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، جس کی پابندی سب پر لازم ہے۔درحقیقت پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دی تھیں، جس کی بنیاد پر ان جماعتوں کو این او سی جاری کیا گیا۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ کسی ایک جماعت یا آزاد امیدوار سے انفرادی سطح پر سلوک کیا گیا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے