#کالم

نور مقدم کیس: تیز رفتار انصاف اور ایک قابل جج کی قانونی بصیرت

Untitled 1665577

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بعض مقدمات محض قانونی تنازعات نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے نظامِ انصاف کی کارکردگی، عدالتی صلاحیت اور قانون کی بالادستی کا پیمانہ بن جاتے ہیں۔ نور مقدم قتل کیس بھی انہی چند مقدمات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف عوامی توجہ حاصل کی بلکہ عدالتی نظام کے مختلف پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا۔ 20 جولائی 2021 کو پیش آنے والے اس المناک واقعے سے لے کر 4 جون 2026 کو سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست کے فیصلے تک تقریباً چار سال اور گیارہ ماہ کا عرصہ گزرا، جس دوران یہ مقدمہ عدالتی نظام کے تمام اہم فورمز سے گزر کر اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔
اس مقدمے کے دو پہلو خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں۔ پہلا پہلو عدالتی کارروائی کی رفتار ہے اور دوسرا پہلو سیشن کورٹ کے جج عطا ربانی کی قانونی قابلیت اور فیصلے کی مضبوطی ہے۔
پاکستان میں عدالتی مقدمات کے طویل التوا پر اکثر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات برسوں بلکہ بعض اوقات دہائیوں تک مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایک مقدمہ ٹرائل کورٹ سے اپیل، پھر ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ تک پہنچتے پہنچتے اتنا طویل عرصہ لے لیتا ہے کہ متاثرہ فریق انصاف کے انتظار میں زندگی گزار دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں نور مقدم کیس کی پیش رفت ایک منفرد مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
اگر اس مقدمے کی زمانی ترتیب دیکھی جائے تو وقوعہ جولائی 2021 میں پیش آیا، اس کے بعد تحقیقات مکمل ہوئیں، ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنایا، پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپیل کا فیصلہ کیا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپیل کی سماعت کی اور آخر میں نظرثانی درخواست پر بھی فیصلہ صادر ہوگیا۔ یوں چار سال گیارہ ماہ کے اندر اندر مقدمہ تمام عدالتی مراحل طے کرگیا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان جیسے عدالتی نظام میں کسی سنگین فوجداری مقدمے کا تمام فورمز سے گزر کر اتنے مختصر عرصے میں اختتام پذیر ہونا ایک غیر معمولی امر ہے۔
یہ عدلیہ، استغاثہ، تحقیقاتی اداروں اور قانونی عمل سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں اور مقدمات کی نگرانی سنجیدگی سے کی جائے تو انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جاسکتا ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں بلکہ بروقت ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ تاخیر سے ملنے والا انصاف اکثر اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔
اس مقدمے کا دوسرا اور شاید زیادہ اہم پہلو سیشن جج عطا ربانی کا وہ فیصلہ ہے جو بعد کے تمام عدالتی مراحل میں برقرار رہا۔ ایک ٹرائل جج کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کا فیصلہ نہ صرف ہائی کورٹ بلکہ سپریم کورٹ اور پھر نظرثانی کے مرحلے پر بھی قانونی جانچ کے تمام پیمانوں پر پورا اترے۔
ٹرائل کورٹ کسی بھی مقدمے کی بنیاد ہوتی ہے۔ گواہوں کے بیانات، دستاویزی شواہد، فرانزک رپورٹس اور قانونی نکات کا ابتدائی اور تفصیلی جائزہ یہی عدالت لیتی ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کی جانب سے شواہد کا درست تجزیہ نہ کیا جائے یا قانونی اصولوں کو صحیح انداز میں لاگو نہ کیا جائے تو بعد کی عدالتیں ایسے فیصلے میں ترمیم یا اسے کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔ لیکن نور مقدم کیس میں ایسا نہیں ہوا۔
جج عطا ربانی نے اپنے فیصلے میں جس قانونی مہارت، باریک بینی اور شواہد کے تجزیے کا مظاہرہ کیا، وہ بعد کی تمام عدالتی سطحوں پر درست ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا فیصلہ مسلسل برقرار رہا۔ کسی بھی جج کی قابلیت کا ایک اہم پیمانہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں کے سامنے کتنی مضبوطی سے کھڑا رہتا ہے۔ جب ایک فیصلہ مختلف فورمز پر تفصیلی قانونی جانچ کے باوجود برقرار رہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق دیا گیا تھا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر ججز کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن جہاں تنقید ضروری ہو وہاں اچھے کام کی تحسین بھی ہونی چاہیے۔ جج عطا ربانی اس حوالے سے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک حساس اور غیر معمولی عوامی اہمیت کے حامل مقدمے میں قانون کے مطابق فیصلہ دیا اور بعد میں آنے والی ہر عدالتی سطح نے ان کی قانونی رائے کی توثیق کی۔
پاکستانی عدلیہ کو ایسے ہی ججز کی ضرورت ہے جو دباؤ، شہرت، میڈیا کی توجہ یا عوامی جذبات سے بالاتر ہو کر صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ ایک مضبوط عدالتی نظام کی بنیاد صرف عمارتوں یا قوانین پر نہیں بلکہ ایسے اہل، دیانت دار اور پیشہ ور ججز پر ہوتی ہے جو اپنے فیصلوں کے ذریعے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔
نور مقدم کیس اپنی المناکی اور سماجی اثرات کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، لیکن اس مقدمے کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا نظامِ انصاف اگر چاہے تو بروقت اور موثر انصاف فراہم کرسکتا ہے۔ اسی طرح اس مقدمے نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک قابل ٹرائل جج کا مضبوط اور قانونی طور پر درست فیصلہ کس طرح اعلیٰ ترین عدالتی جانچ کے بعد بھی برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ مقدمہ عدالتی رفتار اور عدالتی معیار، دونوں اعتبار سے ایک اہم مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، اور جج عطا ربانی کا نام بھی ان ججز میں شمار ہوگا جن کے فیصلے نے اعلیٰ عدالتوں کے سامنے اپنی قانونی مضبوطی ثابت کی۔ یہی وہ معیار ہے جس پر کسی جج کی پیشہ ورانہ قابلیت کو پرکھا جاتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو مزید مستحکم بناتا ہے۔

نور مقدم کیس: تیز رفتار انصاف اور ایک قابل جج کی قانونی بصیرت

دلوں کے قافلے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے