نویس
احسان ناز
گلگت بلتستان کے الیکشن جو کہ سات جون کو ہو رہے ہیں پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں بڑے دھڑلے سے الیکش
مہہم چلا رہی ہیں لیکن تحریک انصاف کو اٹھ فروری 2024 کی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی نہ تو سنمبل دیا گیا ہے اور نہ ہی پارٹی جھنڈے لہرانے کی اجازت ہے جس جگہ پر بھی پاکستان تحریک انصاف کے لوگ نکلتے ہیں وہاں پر پولیس دھوا بولتی ہے یا تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے یا پھر ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ھے حالیہ الیکشن کے دنوں میں تحریک انصاف خیبر پختون خواہ کے صدر ممبر قومی اسمبلی جنید اکبر جونہی گلگت بلتستان کی حدود میں داخل ہوئے تو گلگت بلتستان کی پولیس نے انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور بعد میں رہا کر کے گلگت بلتستان بدر کر دیا تو اس طریقے سے یہ کمپین اور یہ الیکشن مہم پہلے ہی یہ ثابت کر چکی ہے کہ بالکل صاف شفاف غیر جانبدارانہ اور منصفانہ الیکشن جس طرح اٹھ فروری 2024 کو ہوئے تھے اسی کی فوٹو کاپی ہو گئی الیکشن مہم میں حصہ لینے کے لیے مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف بڑی مدت کے بعد گلگت کے جلسہ عام میں خطاب کرنے کے لیے پہنچے میاں نواز شریف کی گلگت بلتستان کے الیکشن میں الیکشن مہم کے سلسلے میں جو دھواں دار تقریر تھی وہ گلوں شکوؤں سے بھرپور تھی اور ایک دفعہ پھر انہوں نے اپنی تقریر میں مجھے کیوں نکالا کا ذکر کیا اور گلگت بلستان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ھوے کہا مجھے نکالنے کے وقت اپ نے کسی قسم کی کوئی اواز نہیں اٹھائی اس طرح اپ مجھے نکالنے میں قصور وار ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں کہا میں نے گلگت کے ایئرپورٹ سے لے کر جلسہ گاہ تک جس بھی سڑک پر سفر کیا مجھے مخووش نظر ائی اور جو گلگت بلتستان میں چھوڑ کر گیا تھا یہ وہ تو نہیں ہے کسی بھی حکمران نے یہاں کوئی کام نہیں کیا اب میں جاتے ہی وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے گلگلت ایر پورٹ اور سڑکیں بہتر بنانے کے بات کروں گا اور مانسہرہ سے چار لائن کی موٹروے جو گلگت بلتستان سے اگے تک جائے گی بنانے کے بات کروں گا اور جو محرومیاں گلگت بلتستان میں ہیں ان کو دور کرنے کے لیے میں میاں شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو اکٹھے بٹھا کر بات کروں گا کہ گلگت بلتستان کا اپ نے کیا حل کر دیا ہے اس موقع پر انہوں نے بڑے بھرپور انداز میں یہ کہا کہ حکمرانوں نے بالکل گلگت بلتستان کو اس کنارے لا کھڑا کیا ہے اس کو میں کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2017 میں میں نے دل کھول کر گلگت بلتستان کو سڑکیں ایئرپورٹ اور دیگر سہولیات فراھم کرنے کے لیے فنڈز کا بھی اجراء کیا تھا جو مجھے نظر نہیں ار ہے انہوں نے یہ بھ کہا ( سابق چیف جسٹس ثاقب نثار) بابا ڈیم کہاں ھے میں نے تو بھاشا دیا میر ڈیم کے لیے بھی ایک سو ارب روپے جاری کیے تھے جو کہ ڈیم ابھی تک نہیں بن سکا انہوں نے بار بار اپنی طرف سے دیے ہوئے فنڈز کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ کہاں ہیں اس طرح میاں نواز شریف جو کہ بڑے سالوں کے بعد الیکشن مہم میں ائے تھے اور ساری ان کے الیکشن کی تقریر نالاں نالاں تھی اب یہ تقریر ان کی صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ میاں شہباز شریف اور مریم نواز سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہیں خود وزیراعظم بنانے کا جو کسی نے کیا وعدہ نہیں پورا کیا اس لیے ان کو اب بھی وزارت عظمی کی سیٹ کھڑکتی ہے اس الیکشن میں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت کے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپ ہمیں فارم 45 لے دیں میں 47 فارم کا خود انتظام کر لوں گا تو اس طرح مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں ہی گلگت بلتستان میں الیکشن اٹھ فروری والے چاہ رہے ہیں تاکہ فارم 45 پہ انے والے فارم47 پر حکمران بن جائیں اس کے علاوہ جو 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو فنڈز مل رہے ہیں اسی طرح گلگت بلتستان کو بھی فنڈز مہیا کرنے کی باتیں بلاول بھٹو نے کیں جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تو صرف ساڑھے تین سال پاکستان کے وزیراعظم رہے اور گلگت بلتستان میں بھی خالد خورشید خاں وزیر اعلی مدت پوری نہ کر سکے اس طرح 50 سال سے باریاں لینے والے میاں نواز شریف اور اصف علی زرداری نہ جانے کن حکمرانوں کا ذکر کر رہے ہیں کہ جنہوں نے گلگت بلتستان میں کام نہیں کیا اور جتنے بھی فنڈ ہیں فنڈ دیے گئے وہ کہیں نظر نہیں اتے میں اس موقع پر اپنے دونوں حکمانوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں ک وہ باتیں مت کریں وہ یہ دیکھیں کہ واقعی جو فنڈ ہم نے جاری کیے تھے وہ کہاں گئے بھاشا ڈیم کی تعمیر عمران خان کے دور میں زور شور سے جاری تھی وہ ابھی تک کیوں نہیں بن سکا جب کہ سابق چیف جسٹس اف پاکستان ثاقب نثارجس کو میاں نواز شریف نے بابا ڈیم کے نام سے پکارا انہوں نے بھی ڈیم کے نام پر جو فنڈز اکٹھے کیے تھے وہ بھی قوم کے سامنے لاے جایں کہ وہ فنڈز کہاں ہے اور جو ایک سو ارب روپیہ میاں نواز شریف نے دیا میر باشا ڈیم کے لیے مختص کیے تھے وہ کہاں ہیں اور اسی طرح پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اپنے دور میں جو فنڈز گلگت بلتستان کو دیے تھے حکمران خود احتسابی کریں میرے سروے کے مطابق عوام نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ سات جون 2026 کو ہونے والے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے جن کو بلے نشان کے علاوہ جہیز کا سارا سا مان نشان کے طور پر دے دیا گیا ھے تحریک انصاف کے کارکن چن چن کر اپنے امیدواروں کو ووٹ دیں گے جب کہ امید کی جا رہی ہے اٹھ فروری 2024






