عالمی یومِ ماحولیات
"قدرت سے رہنما ئی ، آب و ہوا کے لیے، ہمارے مستقبل کے لیے
تحریر : شاہنوازخان
دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تحت ہر سال 5 جون کو یومِ ماحولیات کےعالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد آلودگی کے خاتمے سے متعلق عوام الناس میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا اور ماحول کو جینے کے قابل بنانے کے لئے جدوجہد تیز کرنا ہے۔
ماحولیات انسانی زندگی کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ صاف ہوا، شفاف پانی، سرسبز جنگلات اور متوازن ماحولیاتی نظام ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہیں۔ لیکن صنعتی ترقی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، جنگلات کی کٹائی اور آلودگی نے ہمارے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے
قدرتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک صحت مند درخت سالانہ اوسطاً 20 سے 25 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح جنگلات زمین کے درجہ حرارت کو کم کرنے اور بارش کے نظام کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان اس وقت سنگین ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے پاکستان اس وقت ماحولیاتی آلودگی کے شکار ملکوں فہرست میں پہلے دس ممالک میں شامل ہے اور پاکستان کا شمار سب سے زیادہ آب و ہوا کے خطرے سے دوچار ممالک میں ہے پاکستان انتہائی گرمی، سیلاب، طویل خشک سالی اور گھٹن والی فضائی آلودگی کو برداشتکررہا ہے
فضا میں کاربن گیسسز کا بڑھتا دباؤ، جنگلات کی کٹائی، صنعتی سرگرمیوں کا بڑھتے رہنا، فوسل فیول کا استعمال۔پلاسٹک کی وجہ سے ہونے والی آلودگی اس کے علاوہ میں فضائی آلودگی میں غیر معمولی اضافہ ایک اہم وجہ ہے،
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا کہ اگر اسی طرح گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا رہا تو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ناممکن ہو جائے گا۔ گرمی کی شدت میں اضافے سے سیلاب، خشک سالی اور دیگر مسائل میں اضافہ متوقع ہے۔
سال 2024 دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال رہا جس میں گرمی کی حدت نے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ماہرین موسمیات کی تحقیق کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافہ ڈیڑھ فیصد حد سے زائد ہے۔ آلودگی کو بڑھانے میں جہاں دیگر عوامل کا ہاتھ ہے وہیں پاکستان کی فضا کو آلودہ کرنے پلاسٹک کا اہم کردار ہے جس کی وجہ سے ہمارا سوریج کا پورا نظام برباد ہوگیا پانی آلودہ ہورہا ہے
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان میں 55 ارب شاپنگ بیگز روزانہ استعمال ہو رہے ہیں۔ جس میں سالانہ 15 فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او سمیت کچھ ممالک کی تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا کا ہر بالغ شخص سالانہ 50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے ۔دنیا کو پلاسٹک کی آلودگی کو روکنا ہوگا جو انسانوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ ملکوں کو عالمی سطح پر ری سائیکلنگ انفرا اسٹرکچر اور ویسٹ مینیجمنٹ سسٹم کو بہتر بنانا چاہیے، اس کے لیے تعاون کو بڑھانا چاہیے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پلاسٹک بیگز بنانے والی رجسٹرڈ فیکٹریوں کی تعداد 18ہزار سے زیادہ ہے۔ لاکھوں افراد کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہے۔ چھوٹے بڑے شاپنگ بیگز کی یومیہ پیداوار 500 کلوگرام ہے۔ اس کے علاوہ سیوریج کا نظام پلاسٹک بیگز جمع ہونے سے چوک ہوجاتا ہے۔ہم نے پلاسٹک کو اپنی ضرورت بنا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ پابندی کے باوجود ابھی تک اسے ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔گزشتہ سال ۵ جون کو حکومت پنجاب نے پلاسٹک کو بین کردیا تھا لیکن ابھی تک عمل نہیں ہوسکا۔
اس کے علاوہ ملک میں جنگلات کا رقبہ صرف 4.8% ہے، جبکہ عالمی معیار کم از کم 25% ہونا چاہیے
پاکستان میں سالانہ تقریباً 40,000 سے زائد افراد فضائی آلودگی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں
کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں میں اسموگ کے دوران Air Quality Index (AQI) 300 سے 500 تک پہنچ جاتا ہے (جو خطرناک سطح ہے)ملک میں پانی کی فی کس دستیابی کم ہو کر تقریباً 900 کیوبک میٹر سالانہ رہ گئی ہے، جو پانی کی شدید قلت کی علامت ہے ہر سال مون سون اور گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان سیلاب کی صورت میں ہوتا ہے اس ساری صورت حال میں ہمیں مل کر پاکستان کو اس صورتحال سے نکانے کے لیے کام کرنا ہے پاکستان میں درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 1 ارب درخت لگانے کے ہدف کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ ہر شہری کو سال میں کم از کم 2 درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کا پابند بنایا جائے۔پاکستان میں سورج کی روشنی سالانہ تقریباً 300 دن دستیاب ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سولر انرجی کو قومی گرڈ کا کم از کم 30% حصہ بنایا جا سکتا ہے۔زرعی شعبہ پاکستان میں تقریباً 90% پانی استعمال کرتا ہے۔ اس لیے ڈرپ ایریگیشن اور اسمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹم اپنانا ناگزیر ہے۔پاکستان میں سالانہ تقریباً 30 ملین ٹن سالڈ ویسٹ پیدا ہوتا ہے، جس میں سے بڑی مقدار مناسب طریقے سے تلف نہیں ہوتی۔ ری سائیکلنگ اور پلاسٹک بیگز پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کو لازمی مضمون بنایا جائے اور ہر اسکول میں "ایکو کلبز” قائم کیے جائیں تاکہ بچے عملی سرگرمیوں کے ذریعے ماحول سے جڑ سکیں۔پاکستان کی آبادی کا تقریباً 64% حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر یہ نوجوان ماحولیاتی تحریکوں میں شامل ہو جائیں تو ملک میں بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ماحولیات کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا اجتماعی فرض ہے۔ اگر ہم آج عملی اقدامات نہ اٹھائیں تو آنے والی نسلوں کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہاں آپ کے متن کو زیادہ منظم، پیشہ ورانہ اور مؤثر انداز میں بہتر کر کے پیش کیا گیا ہے:
حکومت پنجاب نے گزشتہ دو سالوں میں کلائمیٹ چینج کے حوالے سے قابلِ تحسین اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک جامع کلائمیٹ ایکشن پلان اور پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف سرکاری محکموں کیواضح ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ سے متعلق ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے جبکہ کلائمیٹ چینج ڈپارٹمنٹ کو مزید مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے تاکہ ماحولیاتی چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
اسی طرح مختلف سول سوسائٹی آرگنائزیشنز بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ پنجاب میں پنجاب کلمیٹ ایکشن نیٹ ورک ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے جس میں سول سوسائٹیتنظیمیں، کلائمیٹ ایکسپرٹس، جامعات اور اکیڈمیا شامل ہیں۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف پالیسی ایڈووکیسی اور کلائمیٹ ایجوکیشن کو فروغ دے رہا ہے بلکہ کمیونٹیز کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیےآگاہی بھی فراہم کر رہا ہے۔مزید برآں، چائلڈ سینٹرڈ کلائمیٹ ایکشن کے فروغ کے لیے بھی مختلف اقدامات کیےجا رہے ہیں تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے عمل میں فعال طور پر شامل کیا جا سکے۔
"قدرت سے رہنمایی، آب و ہوا کے لیے، ہمارے مستقبل کے لیے” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ ہمیں آج سے ہی ماحول دوست طرز زندگی اپنانا ہوگا تاکہ پاکستان ایک سرسبز، صاف اور محفوظ ملک بن سکے۔





