گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات ‘ مہم آخری مرحلے میں داخل
اج کا اداریہ
گلگت بلتستان میں7 جون بروز اتوار ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دس اضلاع کی 24 جنرل نشستوں پر الیکشن ہورہے ہیں اور اس سلسلے میں انتخابی مہم اپنے آخری مراحل میں ہے۔
وفاق میں برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما بشمول نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اس انتحابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور انھوں نے کئی انتخابی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب بھی کیا ہے۔اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو پاکستان میں ہوئے فروری 2024 کے عام انتخابات کی طرح گلگت بلتستان میں رواں ہفتے ہونے والے انتخابات میں بطور پارٹی الیلشن قواعد کی خلاف ورزیوں اورتخریبی سرگرمیوں کے باعث حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔پارٹی کا الزام ہے کہ اُن کی جماعت کے چیئرمین سلمان اکرم راجہ سمیت متعدد سینیئر رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی حق میں مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان داخل ہونے کی اجازت تک نہیں دی گئی جبکہ جو رہنما وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے انھیں بعدازاں علاقہ بدر کر دیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے انتحابی عمل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔جہاں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ‘لیول پلئینگ فیلڈ’ نہ ملنے کا الزام عائد کر رہے ہیں وہیں پاکستان میں وفاقی حکومت کو سپورٹ کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔تاہم مسلن لیگ ن لیگ کے ایک سینیئر رہنما اور گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بطور سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنہ 2024 میں اعتراضات اٹھائے تھے اور اس جماعت کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف تھا کہ پی ٹی آئی میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں پر ابھی تک یہ معاملہ زیر التوا ہے۔
یاد رہے کہ اس معاملے کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوئی جسے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔سیاسی جماعتوں کی کوریج کرنے والے مقامی صحافیوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو گلگت بلتسان ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹکٹ ملنے تھے تاہم عین وقت پر اس پارٹی کی رجسٹریشن یہ کہتے ہوئے معطل کر دی گئی کہ اُن کی جانب سے کچھ دستاویزات گلگت بلتستان الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی گئیں۔تاہم گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر بہادر جمیل نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، جس کی پابندی سب پر لازم ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دی تھیں، جس کی بنیاد پر ان جماعتوں کو این او سی جاری کیا گیا۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ کسی ایک جماعت یا آزاد امیدوار سے انفرادی سطح پر سلوک کیا گیا۔دوسری جانب اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہے تاہم اس کے رہنما بھی انتخابی عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔گلگت بلتستان اور امور کشمیر کے وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت یا کسی ریاستی ادارے نے انتخابی مہم چلانے سے متعلق کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کو نہیں روکا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چند مرکزی رہنماؤں کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے درجن بھر ارکان گلگت بلتستان میں اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب گذشتہ دنوں پی ٹی ئی سے تعلق رکھنے والے رُکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو گلگت بلتستان سے نکالا گیا تھا تو انھوں نے ہی مداخلت کر کے متعقلہ حکام سے کہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے۔امیر مقام کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ایسے علاقے ہیں جہاں پر تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہو گا۔
گلگلت بلتستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 24 نشستوں پر امیدواروں کی تعداد 396 ہے جس میں آٹھ خواتین بھی بطور امیدوار میدان میں ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں کے پاس نوجوان سپورٹرز موجود ہیں اور وہ اس انتخابی مہم میں متحرک نظر آ رہے ہیں۔






