#کالم

موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان کا ثقافتی ورثہ: خاموشی سے مٹتی تہذیبوں کی داستان

new desinggfdgfg

تحریر: سعدیہ مقصود

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اس کے اثرات صرف ماحول، زراعت، معیشت اور انسانی صحت تک محدود نہیں رہے بلکہ اب ہزاروں سال پرانی تہذیبیں، تاریخی عمارتیں، آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثہ بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ، یونیسکو اور عالمی ماہرینِ ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو دنیا کے کئی اہم ثقافتی ورثے آنے والی نسلوں کے لیے صرف کتابوں اور تصاویر تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ پاکستان، جو پانچ ہزار سال سے زائد قدیم تہذیبوں، ثقافتوں اور تاریخی ادوار کا امین ہے، اس خطرے سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب ملک مقصود کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی تاریخی ورثے کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے اور محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب یونیسکو کی ہدایات اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور ’’ورثہ بحالی منصوبے‘‘ کے تحت صوبے بھر میں تاریخی عمارتوں، آثارِ قدیمہ اور ثقافتی مقامات کی بحالی، دستاویز بندی اور سائنسی نگرانی کے لیے خصوصی منصوبوں پر کام جاری ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران منعقد ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنسوں (اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس ستائیس سے تیس تک) میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے نقصانات، موسمیاتی موافقت، ثقافتی تحفظ اور نقصانات و ازالہ جیسے موضوعات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کانفرنسوں میں ماہرین نے زور دیا کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ صرف تاریخ کو محفوظ رکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ مقامی معیشت، سیاحت اور کمیونٹی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر 2022 کے تباہ کن سیلاب کی صورت میں سامنے آیا، جب ملک کے بڑے حصے زیرِ آب آ گئے اور 750 سے زائد رجسٹرڈ تاریخی و ثقافتی مقامات متاثر ہوئے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف عمارتوں کا نقصان نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط تہذیبی ورثے کو پہنچنے والا بڑا دھچکا تھا۔سندھ میں واقع موہنجو دڑو، جو وادیٔ سندھ تہذیب کا عظیم شاہکار ہے، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کی واضح مثال ہے۔ شدید بارشیں اور سیلابی پانی اس کے قدیم ڈھانچوں کو متاثر کر رہے ہیں جبکہ نمی اور نمکیات اس کے تحفظ کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔اسی طرح مکلی کا تاریخی قبرستان اور بھنبھور جیسے ورثے بھی ساحلی کٹاؤ اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے دوچار ہیں۔ پنجاب میں ہڑپہ جبکہ لاہور میں شاہی قلعہ اور شالامار باغ شدید گرمی، سموگ اور فضائی آلودگی کے باعث تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔گندھارا تہذیب کے مراکز ٹیکسلا اور تخت بھائی بھی شدید موسمی تبدیلیوں کی زد میں ہیں۔ شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو آثارِ قدیمہ کے لیے نیا خطرہ ہیں۔موسمیاتی تبدیلی صرف عمارتوں کو نہیں بلکہ ثقافتی روایات، دستکاریوں اور مقامی علم کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ سیلاب اور نقل مکانی کے باعث کئی روایتی ہنر اور مقامی ثقافتیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔یونیسکو کے مطابق ثقافتی ورثے کا تحفظ دراصل موسمیاتی مزاحمت کا حصہ ہے اور اسے موسمیاتی مالی معاونت اور نقصانات کے ازالہ کے عالمی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے تقریباً تمام اہم تاریخی مقامات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ صرف ماضی کی یادیں نہیں بلکہ قومی شناخت اور تہذیبی تسلسل کا مسئلہ ہے جس کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات گزیر ہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے