دوہری شہریت اور سرکاری ملازم, ریاستی اعتماد کا نیا امتحان
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
ریاستیں صرف قوانین سے نہیں چلتیں بلکہ اعتماد سے چلتی ہیں۔ قانون ریاست کا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جبکہ اعتماد اس ڈھانچے میں روح پھونکتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کے معاملات چلانے والے افراد پوری دیانت داری، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ صرف قومی مفاد کو سامنے رکھ رہے ہیں تو ریاستی ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن جب کسی سرکاری عہدیدار کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو کہ اس کے مفادات، وابستگیاں یا ترجیحات کہیں اور بھی موجود ہیں تو اعتماد میں دراڑ پڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی غیر ملکی شہریت اور دوہری نیشنلٹی کے حوالے سے نئے قواعد متعارف کرواتے ہوئے ایک ایسے موضوع کو قانون کا حصہ بنایا ہے جو کئی برسوں سے قومی مباحثے کا موضوع رہا ہے۔
پاکستان میں دوہری شہریت کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد لاکھوں پاکستانی وہاں کی شہریت رکھتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان سے اپنی محبت اور وابستگی بھی برقرار رکھتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نہ صرف ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے دوہری شہریت کو محض شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنا مناسب نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کسی شخص کے پاس کتنے پاسپورٹ ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت اور وابستگیوں کے بارے میں ریاست کے ساتھ کس حد تک شفاف ہے۔سرکاری ملازم ایک عام شہری سے مختلف مقام رکھتا ہے۔ وہ ریاستی اختیارات کا امین ہوتا ہے۔ اس کے فیصلے ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں افراد کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ حساس معلومات، پالیسی سازی، مالی معاملات اور انتظامی امور تک رسائی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سرکاری ملازمین کے لیے بعض اضافی اخلاقی اور قانونی تقاضے مقرر کیے جاتے ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو عوامی مفاد پر غالب نہیں آنے دیں گے اور کسی ایسی صورتحال سے اجتناب کریں گے جو مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بن سکتی ہو۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے قواعد کے مطابق ہر سول سرونٹ کو اپنی، اپنی شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ، مستقل رہائش، امیگریشن اسٹیٹس یا دیگر متعلقہ وابستگیوں کی تفصیلات ظاہر کرنا ہوں گی۔ مزید یہ کہ اگر کوئی افسر ایسی معلومات چھپاتا ہے تو اسے باقاعدہ طور پر "مس کنڈکٹ” تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔قانون کی دنیا میں ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ عوامی عہدہ عوامی اعتماد کی امانت ہوتا ہے۔ اسی لیے ججوں، پارلیمنٹیرینز، فوجی افسران اور سول سرونٹس سے اعلیٰ معیار کی دیانت داری اور جوابدہی کی توقع کی جاتی ہے۔ جب کوئی شخص سرکاری منصب قبول کرتا ہے تو وہ بعض معاملات میں اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے اثاثوں، مالی مفادات اور بعض دیگر معاملات کے گوشوارے جمع کرواتے ہیں۔ غیر ملکی شہریت یا مستقل رہائش سے متعلق معلومات کا انکشاف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آئین پاکستان ریاست کے ساتھ وفاداری کو ایک بنیادی قومی قدر کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ اگرچہ آئین ہر شہری کو مختلف حقوق فراہم کرتا ہے لیکن ریاستی مناصب پر فائز افراد کے لیے اضافی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں حساس سرکاری عہدوں کے لیے دوہری شہریت رکھنے والوں پر پابندیاں موجود ہیں یا کم از کم ان سے مکمل انکشاف کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد کم محب وطن ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ریاست کسی بھی ممکنہ ابہام یا مفادات کے ٹکراؤ سے بچنا چاہتی ہے۔آج کی دنیا ماضی سے بہت مختلف ہو چکی ہے۔ قومی سلامتی کا تصور اب صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہا۔ سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل انفارمیشن، مالیاتی نظام، سفارتی تعلقات اور حساس ڈیٹا بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک سرکاری افسر کے پاس موجود معلومات بعض اوقات کسی ملک کے اہم ترین اثاثوں سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست کا یہ جاننا کہ اس کے افسران کی بیرونی وابستگیاں کیا ہیں، ایک معقول اور جائز تقاضا معلوم ہوتا ہے۔تاہم ہر قانون کی کامیابی اس کے نفاذ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر قانون صرف کتابوں تک محدود رہے یا اس کا اطلاق چند افراد تک محدود ہو تو اس کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ نئے قواعد کے نفاذ میں شفافیت، مساوات اور انصاف کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا۔ کسی افسر کے خلاف کارروائی صرف ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسے صفائی کا مکمل موقع دیا جانا چاہیے کیونکہ انصاف کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی کو سنے بغیر سزا نہ دی جائے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ان قواعد کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خلاف کسی مہم کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اوورسیز پاکستانی پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ مسئلہ دوہری شہریت رکھنے کا نہیں بلکہ اس کے بارے میں درست معلومات فراہم نہ کرنے کا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی تمام قانونی حیثیت اور وابستگیوں کو دیانت داری کے ساتھ ظاہر کرتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کی ساکھ بہتر ہوتی ہے بلکہ ادارے پر عوامی اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں شفافیت اور احتساب کے مطالبات بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ادارے کن اصولوں پر چل رہے ہیں اور ان کے ذمہ داران کس حد تک جوابدہ ہیں۔ حکومت کے حالیہ قواعد کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ قواعد دراصل اس تصور کو مضبوط کرتے ہیں کہ سرکاری عہدہ ایک اعزاز ضرور






