#کالم

خوشبو کا وجود، بولتی ہوائیں

Untitled 23343

​تحریر: عاصم نواز خان طاہر خیلی

​کائنات کا یہ ایک مسلمہ اور اٹل اصول ہے کہ پتھر ہمیشہ اسی درخت کو مارے جاتے ہیں جس کی شاخیں میٹھے پھلوں سے لدی ہوں۔ ویران اور بے فیض درختوں کی طرف تو کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ سچ تو یہ ہے کہ تنقید، حسد اور مخالفت دراصل انسان کے صاحبِ کمال ہونے کی پہلی دستاویزی دلیل ہے۔ پیر سید نصیر الدین نصیرؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ: "جس شخص میں کوئی خوبی ہوگی، اس سے حسد بھی ضرور کیا جائے گا۔ لوگ تنقید بھی اسی پر کرتے ہیں جس میں کوئی کمال ہو، ورنہ بے ہنر انسان پر بھلا کون وقت ضائع کرتا ہے؟”
​آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا کے سستے رابطوں نے ہر شخص کو بولنے اور لکھنے کی بے ہنگم آزادی دے دی ہے، دوسروں کی کامیابیوں پر بے جا تنقید کرنا ایک مروجہ مشغلہ بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں شکوہ کرنے کے بجائے اپنے ظرف کو بڑا کرنا سیکھنا چاہیے۔ یہ منفی رویے دراصل انسان کی اپنی محرومی کا وہ اعترافِ عجز ہوتے ہیں جو وہ لاشعوری طور پر دنیا کے سامنے کر رہا ہوتا ہے۔
​یہاں ہمیں یونان کے عظیم فلسفی سقراط کا ایک خوبصورت واقعہ یاد رکھنا چاہیے جو اس موضوع پر گہرا اثر رکھتا ہے۔ سقراط کی دانشمندی اور مقبولیت سے متاثر ہو کر جہاں بے شمار لوگ ان کے گرویدہ تھے، وہاں کچھ نادان ان کی مخالفت بھی کرتے تھے۔ ایک بار ایک شخص نے بھرے بازار میں سقراط کو روک کر ان پر شدید تنقید کی، ان کی وضع قطع کا مذاق اڑایا اور نہایت نامناسب جملے کہے۔ سقراط آرام سے کھڑے مسکراتے رہے۔ جب وہ شخص چلا گیا، تو سقراط کے ایک شاگرد نے حیرت سے پوچھا: "استادِ محترم! آپ نے اس نادان کو اس کی زبان میں جواب کیوں نہیں دیا؟” سقراط نے دھیمے لہجے میں تاریخی جواب دیا: "اگر کوئی مسافر راستے میں نادانی کا مظاہرہ کرے، تو کیا عقل مند کو بھی اپنا سفر چھوڑ کر اسی رنگ میں رنگ جانا چاہیے؟”
​مخالفت اور طعنہ زنی کے اس طوفان میں ہمارے لیے اصل مشعلِ راہ قرآنِ کریم کی وہ آفاقی حکمت ہے جہاں اللہ رب العزت فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: "اور جب جاہل ان سے (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں، تو وہ سلام کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں” (الفرقان: 63)۔ یہ آیتِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کم ظرف لوگوں کی باتوں کا جواب دینا دراصل اپنے وقار کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اسی طرح حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاسدین کی نفسیات اور ان کے اندر کی آگ کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "حسد سے بچو! کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو کھا جاتی ہے” (سنن ابوداؤد)۔ گویا نکتہ چینی کرنے والا خود اپنی ہی صلاحیتوں اور نیکیوں کو راکھ کر رہا ہوتا ہے، صاحبِ کمال کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
​سچ ہے کہ "پیمانے میں جو کچھ ہوتا ہے، وہی باہر چھلکتا ہے”۔ جس کے ذہن اور دل کے پیمانے میں منفی سوچ اور تلخی بھری ہو، وہ زبان کے راستے اسی کا اظہار کرے گا۔ اس رویے کی سب سے خوبصورت مثال چاند کی ہے۔ کچھ معترضین چاند کی چاندنی پر خاک اچھال کر اپنا دل ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا ان کی اس لاحاصل حرکت سے چاند کے حسن اور اس کی روشنی میں کوئی فرق پڑتا ہے؟ ہرگز نہیں! اگلی رات چاند اسی آب و تاب اور چمک کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوتا ہے، جبکہ نادان اپنی ہی کوشش پر نادم رہ جاتے ہیں۔ عروج کا سفر طے کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں خوشبو کا وجود ہو، وہاں منفی باتیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ بدزبانی کرنے والا حقیقت میں اپنا تعارف خود کروا رہا ہوتا ہے۔ بقول شاعر:
​وہ نہ بدلے گا کبھی، اپنی جبلت کے طفیل
نِیم کی جڑ میں اگر دُودھ بھی ڈالا جائے
​صاحبو! انسان کا خمیر اور اس کا اصل ظرف تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنے سے بہتر انسان کو دیکھتا ہے۔ بلند ظرف لوگ دوسروں کے عروج کو دیکھ کر خود آگے بڑھنے کی تحریک پاتے ہیں، جبکہ کم ظرف لوگ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے، دوسروں کی پستی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کے چراغ کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش میں اپنی ہی توانائی ضائع ہوتی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ: "حاسد کا حسد دیکھ کر تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ تمہارا کوئی کمال اس پر گراں گزر رہا ہے، کیونکہ وہ تمہاری نعمت کا زوال چاہتا ہے”۔ جب انسان کا اپنا ظرف اور نیت صاف ہو، تو اسے دنیا کی نکتہ چینیوں کی پروا نہیں ہوتی، کیونکہ سونا مٹی میں گر کر بھی اپنی قیمت نہیں کھوتا۔
​ادبِ عالیہ کا یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ جب کاروانِ زندگی اپنے سفر پر رواں دواں ہو، تو راستے کی چھوٹی موٹی رکاوٹوں اور آوازوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر مسافر ہر موڑ پر رک کر صفائیاں دینے لگے، تو وہ اپنی منزلِ مقصود تک کبھی نہیں پہنچ پائے گا۔
​حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر آپ زندگی میں کسی اچھے راستے پر گامزن ہیں، محنت کر رہے ہیں اور لوگ آپ کی راہ میں تنقید کے پتھر پھینک رہے ہیں، تو کہنے والوں کو کہنے دیں، یہ ان کا اپنا ذوق ہے۔ ان کی منفی باتوں پر توجہ دے کر اپنا قیمتی وقت اور مثبت توانائیاں ضائع مت کریں۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ آپ چاند کی طرح چمکتے رہیں، اپنا اخلاق بلند رکھیں اور اپنے کام کو اپنی پہچان بنائیں۔ واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا تھا: "حاسد کی تنقید سے تمہارا مرتبہ کم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس بات کی سند ہے کہ تم اس سے آگے نکل چکے ہو”۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے