#اداریہ

غیرمتوقع شکست پر شائقین کرکٹ اور سابق کھلاڑی بول پڑے

Fahad 01

آج کا اداریہ

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں ہوم کراؤڈ اور ہوم گراؤنڈ کےایڈوانٹیج کے باوجود آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے کر تین روزہ میچوں کی سیریز ایک-ایک سے برابر کر دی ہے۔ اپنی مرضی کی وکٹ تیار کرنے کے باوجود اس غیر متوقع شکست پر شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز اور ماہرین بھی انتظامیہ پر تنقید کررہے ہیں۔ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی اور آسٹریلوی ٹیم نے پہلی اننگز میں پاکستان کو 232 رنز کا ہدف دیا تھا۔کپتان شاہین آفریدی نے تین جبکہ حارث رؤف، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔آسٹریلوی کپتان جاش انگلس اور کیمرن گرین کی نصف سنچریوں کے باوجود کئی بلے باز پاکستانی بولرز کے سامنے بے بس نظر آئے۔ اس کے باوجود اننگز کے اوآخر میں اولیور پیک کی تیز بیٹنگ کی بدولت آسٹریلوی ٹیم پہلے میچ کے مقابلے زیادہ بڑا ہدف دینے میں کامیاب رہی۔232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم 44ویں میں 190 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔پاکستان کی جانب سے شاداب خان 71 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ غازی غوری نے 37 اور عرفات منہاس نے 33 رنز بنائے۔آسٹریلیا کی جانب سے ناتھن ایلس نے چار اور میتھیو شارٹ نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔میچ کی پہلی گیند پر ہی شاہین کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی جب ایلکس کیری کے بلے سے لگنے کے بعد گیند وکٹوں سے جا ٹکرائی۔ابرار احمد نے دوسری وکٹ حاصل کی اور میتھیو شارٹ کا کیچ خود ہی پکڑ کر انھیں 15 رنز پر واپس پویلین کی راہ دکھائی۔کپتان جاش انگلس نصف سنچری بنانے کے بعد پہلے میچ میں پانچ وکٹیں بٹورنے والے نوجوان عرفات منہاس کا شکار بنے۔ انگلس کٹ شاٹ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے مگر گیند کا اچھال کم رہا اور وہ بولڈ ہو گئے۔مارنس لبوشین محض پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ان کی وکٹ بھی عرفات منہاس نے ہی حاصل کی۔کیمرن گرین نے 92 گیندیں کھیلیں اور 53 رنز بنا کر آسٹریلوی بیٹنگ کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ابرار احمد کا دوسرا شکار بنے۔حارث رؤف نے میٹ رینشا کو عمدہ ان سوئنگنگ گیند پر بولڈ کیا جس کے بعد شاہین نے میتھیو کوہنیمن کی وکٹ حاصل کی۔پاکستانی ٹیم کی ہار پر جہاں کرکٹ شائقین خاصے افسردہ ہیں اور سوشل میڈیا پر ردِعمل سامنے آ رہا ہے وہیں سابق کرکٹرز بھی انتظامی معاملات پر ناخوش نظر آئے۔ وکٹ کی تیاری اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
کوئی کہہ رہاہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بالکل شرمناک (انتہائی ناقص) رہی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب انھوں نے کنڈیشنز کو اپنے فائدے کے مطابق تیار کیا تھا۔تو کسی نے کہا’اپنی مرضی کی سلو پچ بنائی اور پھر بھی اپنے گھر میں، اپنی ہی سازگار کنڈیشنز میں ان کے خلاف میچ ہار گئے۔میچ کے 27ویں اوور میں عرفات منہاس نے اپنی پہلی گیند پر انگلس کو بولڈ کیا۔ اس گیند کو اچھال نہیں مل سکا تھا اور اس پر انگلس بھی مایوس دکھائی دیے تھے۔
اس وکٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی جا رہی ہے اور شائقین پچز پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔ایک سابق کرکٹر نے پوچھا ہے کہ کپتان اور کوچ کی نوکریاں بچانے کے سوا ان کنڈیشنز میں آسٹریلیا کی بی ٹیم کے خلاف دو طرفہ سیریز جیتنے کے علاوہ کیا حاصل ہوگا۔ایک دوسرے سابق کھلاڑی کی رائے ہے کہ ‘یہ پچ سست ہے اور زیادہ باؤنس نہیں ہے۔ اس لیے یہاں سیدھا کھیلنا ہوگا۔ آؤٹ فیلڈ تیز ہے اور ہر شاٹ کی پوری قدر کرے گی۔ان کنڈیشنز میں کوچ مائیک ہیسن ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی پچز بالکل قذافی سٹیڈیم کی پچ جیسی ہوں گی اور ورلڈ کپ میں اوسط سکور 200 سے 220 کے درمیان رہے گا۔
خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن نے حال ہی میں ایکس پر ایک پیغام میں پچز پر اعتراضات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ ’میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں پچز کو جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے مثالی تیاری نہیں سمجھا جا رہا۔ان کی رائے میں ’یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ورلڈ کپ مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا۔ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے میدان موجود ہیں جہاں سپن بولنگ ایک اہم عنصر ہوتی ہے اور ہمیں ان ممالک میں بھی میچز کھیلنے ہیں۔’یہ تصور کہ جنوبی افریقہ کی تمام پچز تیز اور اچھال والی ہوتی ہیں، درست نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ پچز ایسی ضرور ہیں تاہم ملک کے مختلف حصوں میں پچز کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ ‘جو لوگ پاکستان کے جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے آخری ون ڈے سیریز کو یاد رکھتے ہیں، انھیں معلوم ہو گا کہ پارل میں کھیلے گئے میچ میں سپن نے نتیجے پر اثر ڈالا تھا۔’یقین رکھیں کہ ہم نے اس حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 مہینوں میں مختلف کنڈیشنز کے لیے تیاری کریں گے۔‘

غیرمتوقع شکست پر شائقین کرکٹ اور سابق کھلاڑی بول پڑے

04/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے