آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےایران جنگ اور امن کے درمیان
(شاہد بخاری )
مولانا ظفر علی خاں فاؤنڈیشن کی خصوصی نشست اس ہفتے کو ایران جنگ اور امن کے درمیان کے موضوع پر تھی ۔9 مئی کو منعقدہونے والی اس علمی وادبی نشست کی صدارت چیئرمین فاؤنڈیشن خالد محمودصاحب نے کی، سٹیج سیکرٹری حکیم راحت نسیم سوہدروی نے تعارفی کلمات میں کہا کہ یہ کتاب ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا سفر نامہ ایران ہے جس کا آغاز ان کے قیام ایران کے دوران ہوا، جو ان کے سفر ایران اور پھر بحیثیت صدر نشین کرسی اردو پاکستان شناسی تہران یونیورسٹی ایران میں سرگرمیوں کی داستان کے ساتھ ساتھ ڈھائی ہزار سالہ ایران کی تاریخ و ثقافت اور روایات سے آگاہ کرتا ہے۔ جشن نوروز ،شب یلدا کی کہانی اور مشاہدات بھی اس میں موجود ہیں ۔پھر اسی قیام کے دوران 2025 میں ایران اسرائیل جنگ جس کے وہ عینی شاہد ہیں،کی روداد بھی اس میں شامل ہے۔ اور جس طرح وہ جنگ شروع ہونے پر حکومت پاکستان کے انتظامات میں واپس اپنے وطن آئے اس سفرکے حالات بھی اس میں بیان کر دئیے گئے ھیں۔ایرانی قوم کی تاریخ اور مزاج کو جاننے کے لیے اور جنگ کے حوالے سے ان کے خیالات اور کردار سے آگاہی ہی کے لیے یہ ایک مستند دستاویز ہے ۔ڈاکٹر صاحب ایک جامع الکمال شخصیت ہیں، مصنف، کالم نگار ،تجزیہ کار، محقق، شاعر، تاریخ دان اور خطیب بھی ہیں۔ وہ علم و ادب کے میدانوں کے شہسوار ہیں۔ ان کا یہ سفر نامہ جس کی ایران میں خوب پذیرائی ھوئی، ایران و پاکستان کے تعلقات کو بڑھانے میں اہم ثابت ہوگا۔اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایرانی ثقافت میں جبر کے خلاف جدوجہد میں شدت آ جاتی ہے جبکہ ان کی تہذیب میں رواداری پائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر شفیق جالندھری نے کہا کہ 1995 سے اب تک ڈاکٹر زاہد منیر عامر تین بار ایران میں جا کر اپنے پر مغز لیکچرز کی بدولت پاکستان کا نام روشن کر چکے ہیں ۔تہران میں منعقدہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ان کا مقالہ بہترین قرارپایا جس کی بناپر انھیں بہترین محقق کا اعزازدیاگیا جو ھمارے لئیے باعث فخر ھے۔نئی نسل کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ ان کی معلومات میں اضافہ ھو۔
معروف دانشورو نقاد پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ” ایران جنگ اور امن کے درمیان” کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے صرف حالات و واقعات کو قلمبند نہیں کیا بلکہ ان کے پس پردہ موجود تہذیبی اور فکری محرکات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ مشرق اور مغرب کے فکری دبستانوں کے مطالعے میں گزرا ہے۔ ان کی نظر جہاں کلاسیکی اردو اور فارسی روایت پر ہے وہیں وہ جدید دور کے فکری رجحانات سے بھی پوری طرح باخبر ہیں۔ ان کے تبصروں اور تجزیوں میں جو توازن نظر آتا ہے وہ ان کے اس وسیع مطالعے کا مرہون منت ہے۔
ایران کے حوالے سے لکھتے ہوئے ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا قلم ایک ایسے دانشور کا قلم بن جاتا ہے جو دو قوموں کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے۔ وہ تہران کی گلیوں، وہاں کی یونیورسٹیوں اور علمی مجلسوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بار بار اس مشترکہ ورثے کی طرف لوٹتے ہیں جو ہمیں ایران سے جوڑتا ہے۔ ان کے نزدیک ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک ایسی زندہ تہذیب ہے جو اپنے اندرماضی کی عظمت اور مستقبل کے امکانات سموئے ہوئے ہے۔
کتاب کے مختلف ابواب میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے جس طرح دونوں خطوں کی تہذیب اوراپنی شخصیت اور فکر کو سمویا ہے وہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ ایسے تخلیق کار ہیں جو لفظ کی حرمت اور اس کے اثر سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی تحریر میں ایک ایسی کشش ہے جو قاری کو ایران کے ان مقامات اور واقعات سے روشناس کراتی ہے جن تک رسائی عام طور پر ممکن نہیں ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک ایسے سفر کی روداد ہے جو مادی ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی اور فکری بھی ہے۔انھوں نے اپنی اس تصنیف کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ علمی اور ادبی روابط ہی وہ اصل بنیاد ہیں جن پر پائیدار تعلقات کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔ ان کی یہ کاوش پاک ایران دوستی کے تناظر میں ایک ایسی دستاویز ہے جو آنے والے وقتوں میں محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں مفید ثابت ہو گی۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اپنے قیام تہران کو کس طرح ایک با مقصد اور دور رس علمی مہم میں تبدیل کر دیا اس کا عکس اس کتاب کے ہر صفحے پر نظر آتا ہے۔
سابق سیکرٹری خارجہ پاکستان اور ایران میں پاکستان کے سابق سفیرشمشاد احمد خاں نے کہا یہ کتاب ڈاکٹر زاہدمنیرعامر کے ایران کے3 مختلف اسفار کا سفر نامہ ہے پہلا سفر 95ء میں کیا گیا۔ دوسرا 2015 میں اور تیسرا سفر ابھی جاری ہے ،وہ اردو انگریزی کے ساتھ فارسی پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔انھوں نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے سفیروں اور سفارت خانوں سے بڑھ کر کام کیاہے،میں ان کی خدمات کو بہت قدرکی نگاہ سے دیکھتاہوں اور مجے ان پر بہت فخرمحسوس ہوتاہے ۔ کتاب کے آخری حصے سے ہم ایران کے بڑے بڑے اداروں میں ان کے اردو اور فارسی خطا با ت سے آشنا ہوتے ہیں جن سے پتہ چلتاہے کہ انھوں نے کم عرصے میں ایران کے کتنے اہم اداروں تک رسائی حاصل کرلی ہے اور وہاں ان کا کتنااحترام پایاجاتاہے ۔ وہ جہاں تہران یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں وہاں وہ پاکستانی پریس میں اپنے مقالات و مضامین کے ذریعے اہل وطن کو اہل ایران سے آشنا کرواتے رہے ہیں۔ ایرانی اخبارات میں اہل ایران کو پاکستان اور اس کے نظریے اور موقف سے آگاہ کرتے رہتے ہیں میری نظر میں یہ حقیقی سفارتی خدمت ہے۔ یہ کتاب ایک سکالر کا سفر نامہ ہی نہیں پاک ایران دوستی کی ایک ناقابل فراموش دستا ویز ہے۔ مجھے یہ کتاب پڑھ کر فخر ہوا کہ ھم میں ڈاکٹر زاہد جیسے لوگ بھی موجود ہیں، جنھیں ہم دوسری اقوام کے سامنے پورے فخر اور اعتماد کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ایران کے ساتھ طویل تعلق کے باوجود اس سے پہلے میں نے ایران کے حوالے سے ایسا ادبی فن پارہ نہیں دیکھا۔ اس کتاب سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ محب وطن استاد، وسکا لر دوسرے دوست ملک کے دانش وروں نوجوانوں اور عوام تک اس طرح اپنے وطن کا پیغام پہنچاتا ہے یہ ایک بہت اہم اور دلچسپ کتاب ہے۔مجھے
یقین ہے کہ ایک بار اس کا مطالعہ شروع کرنے کے بعد آپ اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتے
ڈائریکٹر اقبال اکادمی ، ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی نے کہا کہ جس طرح جنگ عظیم دوم کے بعد برطانیہ کے زوال کا آغاز ھوا تھا،اسی طرح ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کےبعد USA کے زوال کا آغاز ھو چکا ھے،جس کا مشاہدہ ڈاکٹر زاھد نے کیا اور اس کتاب میں وہ تاثرات قلمبند کیئے ھیں۔انھوں نے کہاکہ ڈاکٹرزاہدمنیرعامرپاکستان کے حقیقی نمائندے ہیں ایران جیسے ملک میں پاکستان کی جانب سے ایسے ہی شخص کو بھیجناچاہیے تھاجو اپنے کرداراور عمل میں علم وفضل اورمشرقی تہذیب کاایک سچا نمونہ ہو۔اس اعتبارسے ڈاکٹر زاہدکاانتخاب بہترین ہے انھوں نے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک ایران پاکستان کا پیغام پہنچایاہے جس پر ہم سب ان کے شکرگزارہیں ۔
ڈاکٹر ارسلان راٹھور نے کہا کہ پروفیسر موصوف کی شخصیت ہنداسلامی تہذیب کا مجسم نمونہ ہے ۔ان سے مل کر آپ ہماری پوری روایت اور ادبی تاریخ کو مجسم دیکھ سکتے ہیں وہ ایران کے ایک سچے چاہنے والے اور نظریہ پاکستان کے حقیقی نمائندے ہیں انھوں نے اس کتاب کے ذریعے اپنے مشن کے ساتھ کمال وفاداری کا ثبوت دیاہے ڈاکٹرارسلان راٹھورنے کتاب کے ادبی پہلوؤں پر گفتگو کی ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب ایران میں تعیناتی سے بہت پہلے،دہائیوں پہلے،کثرت مطالعہ سے ان کے باطن میں نشوونما پاتی رھی،جس کا اظہار
استاد محترم کی شخصی علمی اور عملی زندگی میں ھوتا رھا ۔
ڈاکٹر ندیم اسحاق نے کہا کہ یہ کتاب آج کے موجودہ منظرنامے کاعکس ہی نہیں بلکہ اپنے مندرجات اور اپنی فکر کے حوالے سے مستقبل کے ڈائنمکس کو تبدیل کردینے والی کتاب ہے آج کے عالمی منظر نامے میں اس کتاب کی بہت اہمیت ہے اور ہماری نوجوان نسل کو اس کتاب کا ضرورمطالعہ کرنا چاہیے ۔ ایرانی اعتراف کرتے ہیں کہ امام خمینی کی قیادت اور علامہ اقبال کے فارسی کلام نے مغرب زدہ ایرانیوں میں روح بیداری پھونک دی۔
ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے کہا کہ پہلی بار 1995 میں ایران جانے کا موقعہ ملا۔ 20 برس بعد پھر ایران جانا ہوا اس کتاب کا پہلا حصہ نقش اول پہلے اور دوسرے سفر ایران سے متعلق ہے۔ 2024 میں تہران یونیورسٹی کے استاد کی حیثیت سے گیا تو ایران کی تاریخ میں عزم و ھمت کے نئے ابواب کا اضافہ ہو رھا تھا ۔جون 25 میں ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد واپس پاکستان آگیا یہ کتاب اسی اولین دور کا سفرنامہ، ایران کا تابندگی نامہ ہے۔۔حالیہ اسرائیلی امریکی بمباری میں بھی ایرانیوں کے حو صلے بلند رھے
استاد الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے کہا کہ رئیس کرسی اردوپاکستان شناسی دانش کدہ زبانہا و ادبیات خارجی دانش گاہ تہران ،ایران
ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی 60سے زیادہ تصانیف و تالیفات کوالٹی کے اعتبار سے معیار ی اور قابل مطالعہ ھیں۔ ا۔انھوں نےپندرہ 15برس کی عمر میں اپنی اولین کتاب لکھی تھی جس پر اس وقت کے نام ور اہل علم نے انھیں بہت داددی تھی جن میں احمدندیم قاسمی ڈاکٹرسیدعبداللہ اور ڈاکٹروزیرآغاجیسے اصحاب شامل تھے ۔پھرانھوں نے مضامین نوکے انبارلگادیے انھوں نے مصر میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے حقیقی سفیرکاکرداراداکیا اور اب وہ ایران میں ملک وقوم کی نمائندگی کا حق اداکررہے ہیں ڈاکٹرزاہدمنیرعامراپنے عالمانہ لیکچرز ،انٹر ویوز، مقالات کے ذریعے رسمی سفیر نہ ھوتے ھوئے بھی پاکستان کی بہترین سفارت کاری کرتے رھے ھیں۔ اپنی تحقیقات اور تصانیف کے ذریعے ڈاکٹرزاھدمنیر عامر نے کئی مشاہیر کو گوشہء گم نامی سے نکالنے کا کار خیر بھی کیا ھے۔وہ ایک قابل قدرشخص ہیں جن کی جتنی بھی داددی جائے کم ہے ۔تقریب کاآغاز حکیم راحت نسیم سوہدروی نے کیاتھا بعدمیں نظامت کے فرائض نوجوان مصنف اور شاعر جناب غلام علی نے انجام دیے ۔یہ ایک معیاری اور بلندپایہ تقریب تھی جسے مدتوں یادرکھاجائے گا۔۔






