جب استاد اور جج کا کردار صرف ملازم والا بن جائے
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
کسی بھی معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں دو طبقات بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں: استاد اور جج۔ استاد قوم کے ذہن و فکر کی آبیاری کرتا ہے جبکہ جج انصاف کے چراغ روشن رکھتا ہے۔ اگر یہ دونوں ادارے اپنی آزادی، وقار اور اخلاقی قوت برقرار رکھیں تو معاشرہ علم، انصاف اور تہذیب کے راستے پر گامزن رہتا ہے۔ لیکن جب اساتذہ اور ججز کا کردار محض ملازموں جیسا ہو جائے یا انہیں ایسا بنا دیا جائے کہ وہ اپنی اصل ذمہ داریوں کے بجائے صرف احکامات کے تابع رہ جائیں، تو معاشرے میں پیدا ہونے والی بے چینی، محرومی اور انتشار کا علاج تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
ہمارا معاشرہ آج جن گوناگوں بحرانوں کا شکار ہے، ان کی جڑیں محض معاشی مسائل میں نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی زوال میں بھی پیوست ہیں۔ بدقسمتی سے تعلیم اور انصاف جیسے مقدس شعبے بھی اس زوال سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ ایک وقت تھا جب استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ اس کے پاس نہ دولت تھی نہ اقتدار، لیکن اس کی عزت و توقیر حکمرانوں سے کم نہ تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ استاد کو محض ایک تنخواہ دار ملازم سمجھا جانے لگا ہے جس کی کارکردگی کا معیار علم و تربیت نہیں بلکہ فائلوں، رپورٹس اور انتظامی احکامات کی تکمیل بن چکا ہے۔
جب استاد کے ہاتھ سے فکری آزادی چھین لی جائے، جب اسے ہر وقت نوکری کے عدم تحفظ کا خوف لاحق ہو، جب اس کی معاشی مشکلات اس کی علمی سرگرمیوں پر غالب آ جائیں، تو وہ نئی نسل میں تخلیقی سوچ، جراتِ اظہار اور کردار سازی کی روح کیسے منتقل کر سکتا ہے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیمی ادارے علم کے مراکز کے بجائے ڈگریاں تقسیم کرنے والے کارخانے بن جاتے ہیں۔ ایسی تعلیم یافتہ نسل بظاہر ڈگریاں تو حاصل کر لیتی ہے لیکن اس کے اندر قیادت، تحقیق، دیانت اور قومی شعور کی وہ صلاحیت پیدا نہیں ہو پاتی جو کسی قوم کو عظمت عطا کرتی ہے۔
اسی طرح عدلیہ کسی بھی مہذب معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جج اگر آزاد، خودمختار اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والا ہو تو کمزور ترین شہری بھی خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ لیکن اگر جج کو محض ایک سرکاری ملازم کی حیثیت تک محدود کر دیا جائے، اگر اس کے فیصلوں پر غیر ضروری دباؤ اثر انداز ہونے لگے، اگر انصاف کی رفتار اور معیار مصلحتوں کے تابع ہو جائے تو عوام کے دلوں سے قانون کا احترام ختم ہونے لگتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب لوگوں کو انصاف نہیں ملتا تو ان کے اندر مایوسی، غصہ اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔ یہی احساس محرومی بعد ازاں سماجی بے چینی، جرائم، انتہاپسندی اور بداعتمادی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیم کمزور اور انصاف مشکوک ہو، وہاں ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں آج ہر طرف زوال کی علامات نمایاں ہیں۔ اداروں پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے، نوجوان بے یقینی کا شکار ہیں، میرٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں، معاشرتی برداشت کم ہو رہی ہے اور اخلاقی اقدار مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔ ان تمام مسائل کا تعلق براہِ راست تعلیم اور انصاف کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ جب استاد قوم کے معمار کے بجائے محض ایک ملازم بن جائے اور جج قانون کے محافظ کے بجائے صرف ایک سرکاری افسر دکھائی دے تو معاشرے کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا کی کامیاب قوموں نے اپنے اساتذہ اور ججز کو غیر معمولی عزت، تحفظ اور آزادی فراہم کی۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ قوموں کی قسمت وزارتوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ کلاس رومز اور عدالتوں سے لکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں استاد کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور جج کی آزادی کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو زوال سے نکالنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے استاد اور جج کے مقام کو بحال کرنا ہوگا۔ استاد کو معاشی اور فکری آزادی دینا ہوگی تاکہ وہ نوجوان نسل کی درست رہنمائی کر سکے۔ اسی طرح عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد رکھنا ہوگا تاکہ عام آدمی کو بلاامتیاز انصاف مل سکے۔ قوموں کی تعمیر سڑکوں اور پلوں سے نہیں بلکہ انسانوں کی تعمیر سے ہوتی ہے، اور انسانوں کی تعمیر کا فریضہ استاد انجام دیتا ہے جبکہ ان کے حقوق کا تحفظ جج کرتا ہے۔
آج ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ایک باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر استاد کو محض ملازم اور جج کو صرف سرکاری افسر سمجھنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ کیونکہ جس دن علم اور انصاف کے یہ دو مینار کمزور پڑ جاتے ہیں، اسی دن معاشرے کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ اور جب زوال ہمہ گیر ہو جائے تو پھر افراد کی بےتابیوں، محرومیوں اور مایوسیوں کا کوئی آسان علاج باقی نہیں رہتا۔






