#چیف ایڈیٹر

پاکستان کا آبی بحران۔۔۔ایک مسلسل چیلنج

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں

14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا تو اسے صرف سیاسی اور انتظامی مسائل ہی ورثے میں نہیں ملے بلکہ کئی ایسے تنازعات بھی ساتھ ملے جو آج تک اس کے قومی وجود اور ترقی پر اثر انداز ہیں۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کو وراثت میں ملا کیونکہ کشمیری عوام تب بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے جہد و جہد کر رہے تھے اور ان کی جہد و جہد مقبوظہ کشمیر میں تاحال جاری ہے جس کا براہ راست اثر پاکستان پر ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں انڈیا سے 1948 میں ہی پہلی کشمیر جنگ برپا ہوئی اور اب تک کل ملا کر پانچ جنگیں ہو چکی ہیں ۔اسی طرح پانی کا مسئلہ ہے جو گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور زراعت کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے وسیع آبی نظام سے وابستہ ہے۔ ملک کے اکثر بڑے دریا، جن میں دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج شامل ہیں، یہ دریا اپنے بالائی علاقوں میں کشمیر اور ہمالیائی خطوں سے نکلتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی انڈیا نے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں بدنیتی دکھانا شروع کر دی اور یہ مسئلہ دونوں نئے وجود میں آنے والے ممالک ، پاکستان اور انڈیا ، کے درمیان اختلاف کا باعث بن گیا چنانچہ جب
1948 میں بھارت نے مشرقی دریاؤں سے آنے والے پانی کی فراہمی کو عارضی طور پر محدود کیا تو پاکستان میں یہ احساس مزید گہرا ہوگیا کہ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور کیا اور بالآخر 1960 میں Indus Waters Treaty طے پایا، جسے عالمی سطح پر پانی کی تقسیم کے کامیاب ترین معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق پاکستان کو جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کا اختیار بھارت کو دیا گیا۔

اگرچہ یہ معاہدہ کئی جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود قائم رہا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے مسائل نے جنم لیا۔ بھارت کی جانب سے بالائی علاقوں میں مختلف آبی منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر پر پاکستان نے بار ہا تحفظات کا اظہار کیا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ ان منصوبوں سے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے معاہدے کی حدود کے اندر ہیں۔ یوں پانی کا مسئلہ آج دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک حساس موضوع کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے آبی بحران کی تمام تر ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈال دینا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہو گا۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کے اندر آبی وسائل کے انتظام میں کئی دہائیوں سے سنگین کمزوریاں موجود ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک نے اپنے دستیاب پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بڑے ذخائر اور جدید آبپاشی نظام قائم کیے، جبکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آبادی اور ضروریات کے تناسب سے بہت محدود رہی اور ہم اس اہم ترین ایشو پر بھی سیاست سیاست کھیلنے میں ابھی تک مصروف ہیں۔ مون سون کے موسم میں آنے والے پانی کا بڑا حصہ سمندر میں چلا جاتا ہے جبکہ خشک موسم میں پانی کی کمی شدت اختیار کر جاتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ ، شہروں میں توسیع، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال ، نہری نظام میں بد انتظامی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو پانی کی شدید قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی ، بے ترتیب بارشیں اور طویل خشک سالی مستقبل میں اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔

      پانی کا مسئلہ محض زراعت تک محدود نہیں بلکہ یہ توانائی ، خوراک ، صنعت ، ماحولیات اور عوامی صحت سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اگر زرعی زمینوں کو مطلوبہ پانی نہ ملے تو غذائی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جس کے اثرات قومی معیشت اور مہنگائی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح پن بجلی کی پیداوار میں کمی توانائی کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو صرف ایک سیاسی یا سفارتی تنازع کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے قومی بقا اور ترقی کے تناظر میں سمجھے۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر، نہری نظام کی بہتری، جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کا فروغ، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے ، زیرِ زمین پانی کے ذمہ دارانہ استعمال اور عوام میں پانی بچانے کے شعور کو قومی ترجیحات کا حصہ بنایا جائے اور اس کے ساتھ ہی ، بین الاقوامی سطح پر آبی حقوق کے تحفظ اور Indus Waters Treaty پر مکمل عملدرآمد کے لیے مؤثر سفارت کاری بھی ناگزیر ہے۔ پانی کے مسئلے کا حل محض بیانات یا وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی، قومی اتفاقِ رائے اور سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی میں پوشیدہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جن چیلنجز نے اس نومولود ریاست کا استقبال کیا تھا، ان میں پانی کا مسئلہ آج بھی نمایاں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں یہ ایک تنازع تھا، جبکہ آج یہ قومی بقا کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر بروقت اور دانشمندانہ فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اس بحران کی کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کر سکتی ہیں۔ آپ یقین کریں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو اس بات کا احساس بہت پہلے ہو چکا تھا اور شاید انہوں نے کشمیر کو شہ رگ اس لیے ہی  کہا تھا کہ شہ رگ میں صرف خون نہیں بہتا، زندگی بہتی ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں سے اترنے والا پانی پاکستان کے کھیتوں، بستیوں اور صنعتوں کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ آج جب خطے کی سیاست میں پانی ایک تزویراتی ہتھیار بنتا جا رہا ہے تو محسوس ہوتا 
پاکستان کا آبی بحران۔۔۔ایک مسلسل چیلنج

02/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے