#بغیر زُمرہ

قربانی: عبادت، احساس یا محض نمائش؟

WhatsApp Image 2025 12 24 at 01.29.32

عید الاضحیٰ کا مبارک دن مسلمانوں کے لیے ایثار، قربانی، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ وہ عظیم عبادت ہے جس کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال اطاعت اور قربانی پر رکھی گئی۔ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات اور خود غرضیوں کو اللہ کے حکم کے سامنے جھکا دینا ہے۔ اسی طرح قربانی کے گوشت کی تقسیم کے ذریعے معاشرے کے کمزور، محروم اور نادار طبقات کو خوشیوں میں شریک کرنا بھی اس عبادت کا بنیادی فلسفہ ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قربانی کی روح کہیں نہ کہیں دھندلا سی گئی ہے۔ آج قربانی ایک بڑی حد تک سماجی مقابلے، نمود و نمائش اور برتری ثابت کرنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ جانور کی قیمت، جسامت، نسل اور تعداد کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ اس عبادت کے اصل مقاصد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عید قربان کے دنوں میں ایک عجیب قسم کا مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کوئی اپنے پڑوسی سے بڑھ کر قربانی کرنا چاہتا ہے، کوئی رشتہ داروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی اپنے مخالفین کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ مالی لحاظ سے کس قدر مضبوط ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے جہاں جانوروں کی نمائش، ویڈیوز اور تصاویر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات عبادت سے زیادہ توجہ اس کے اظہار پر دی جا رہی ہے۔

دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ موجود ہیں جو سال بھر بڑی عید کا انتظار اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید اس موقع پر انہیں گوشت کھانے کا موقع مل جائے۔ بدقسمتی سے ان میں سے بہت سے لوگ عید گزر جانے کے بعد بھی اس نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یہ محض ایک اندازہ یا قیاس نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا میں خود برسوں سے مشاہدہ اور تجربہ کرتا آ رہا ہوں۔ بحیثیت ایک ٹیچر، سوشل ورکر، مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کے نمائندے اور مذہبی حلقوں سے گہری وابستگی رکھنے والے فرد کے طور پر مجھے معاشرے کے مختلف طبقات سے قریب سے ملنے اور ان کے حالات جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اسی مشاہدے اور تحقیق کے دوران یہ تلخ حقیقت بارہا سامنے آئی ہے کہ بہت سے سفید پوش اور مستحق افراد عید قربان کے دنوں میں بھی گوشت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی عزتِ نفس کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، خاموشی سے محرومی برداشت کرتے ہیں اور اکثر کسی کی توجہ کا مرکز بھی نہیں بنتے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم اکثر ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہم اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں میں گوشت تقسیم کرتے ہیں، جن میں سے اکثر خود بھی قربانی کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ان افراد کی خبر نہیں لیتے جو واقعی اس گوشت کے مستحق ہیں۔

ایک اور تشویشناک پہلو مذہبی اور سماجی تنظیموں کے اندر بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ مختلف تنظیموں، انجمنوں اور فلاحی حلقوں میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں اور قربانی نہیں کر سکتے۔ لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تنظیمی تعلقات صرف اجلاسوں، پروگراموں اور رسمی ملاقاتوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ عید قربان جیسے مواقع پر بھی بہت کم لوگ اپنے ساتھیوں کی مالی حالت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایک ہی پلیٹ فارم پر کام کرنے والے لوگ ایک دوسرے کے حالات سے واقف نہیں تو پھر بھائی چارے اور اخوت کے دعووں کی عملی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اگر کوئی ساتھی قربانی نہیں کر سکا تو کیا اسے خاموشی سے محرومی برداشت کرنی چاہیے یا پھر دوسرے ساتھیوں کو اس کی خبر گیری کرنی چاہیے؟

اسی طرح مساجد، جو محبت، بھائی چارے اور اجتماعی شعور کی علامت سمجھی جاتی ہیں، وہاں بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسجد میں ایک ساتھ نماز پڑھنے والے، ایک دوسرے سے روزانہ ملنے والے اور دین کی تعلیمات سننے والے افراد اگر ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر رہیں تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ انسانوں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی نمازی بھائی قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو کیا ہم اس کی ضرورت کا احساس کرتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اس سے پوچھا کہ اسے گوشت ملا یا نہیں؟ شاید ہم میں سے بہت سوں کا جواب نفی میں ہوگا۔

معاشرے کا ایک اور طبقہ وہ ہے جو صفائی ستھرائی کے کاموں سے وابستہ ہے۔ عید قربان کے دنوں میں یہی لوگ گلیوں، محلوں اور سڑکوں کو صاف رکھتے ہیں تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ کئی مرتبہ یہی لوگ قربانی کے گوشت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بعض افراد نے شکوہ کیا کہ پورا دن آلائشیں اٹھاتے گزر گیا لیکن کسی نے گوشت کا ایک ٹکڑا تک پیش نہ کیا۔

یہ صورتحال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر قربانی کا اتنا زیادہ گوشت جاتا کہاں ہے؟ اگر ہر گلی، ہر محلے اور ہر شہر میں ہزاروں جانور ذبح ہوتے ہیں تو پھر اتنے لوگ گوشت سے محروم کیوں رہ جاتے ہیں؟

اس کا ایک بڑا سبب شاید ہماری ترجیحات ہیں۔ ہم گوشت کے بڑے حصے اپنے گھروں کے فریزرز میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ رشتہ داروں اور جاننے والوں میں تقسیم کرتے ہیں، جبکہ مستحق افراد تک پہنچنے کا اہتمام نہیں کرتے۔ حالانکہ قربانی کا اصل حسن اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب اس کی خوشیاں ضرورت مندوں تک پہنچیں۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام لوگ ایسا کرتے ہیں۔ الحمدللہ آج بھی بے شمار ایسے مخیر حضرات موجود ہیں جو خاموشی سے مستحقین تک گوشت پہنچاتے ہیں، یتیموں، بیواؤں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے