#اداریہ

کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی

Fahad 01

آج کا اداریہ

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں بھی ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن سبسڈی یا رعایت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایسے صارفین کے میٹرز کو کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے سبسڈی جاری رکھے گی لیکن اس نظام کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران بجلی کی سبسڈی لینے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ 15 لاکھ ہو گئی ہے اور ملک میں بجلی استعمال کرنے والے مجموعی گھریلو صارفین کی تعداد دو کروڑ 95 لاکھ ہے جن میں سے 86 فیصد ایسے صارفین ہیں جو پروٹیکیڈ صارفین کی کیٹگری میں آتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور زرعی شعبے اور گھریلو صارفین کو ملنے والی سبسڈی 527 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی پر سبسڈی لینے والوں سے کیو آرکوڈ کے ذریعے تفصیل مانگی جارہی ہیں جس کے ذریعے سبسڈی لینے والے تمام صارفین کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور صرف مستحق صارفین کے لیے ہی بجلی کی سبسڈی کا سلسلے جاری رہے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ کئی افراد اس رعایت کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور انھوں نے بڑے بڑے سولر سسٹم لگا لیے اور گرڈ سے آنے والی بجلی کو 200 یونٹ سے نیچے رکھا ہوا ہے تاکہ وہ فی یونٹ سبسڈی لے سکیں۔
انھوں نے کہا کہ ایسے صارفین حکومتی خزانہ پر بوجھ ہیں۔حکومت کی جانب ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے بلوں میں ملنے والی ماہانہ سبسڈی کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔رواں ماہ صارفین کے بجلی کے بلوں میں کیو آر کوڈ موجود ہے اور صارفین سے کہا گیا ہے کہ اس کوڈ کو سکین کرنے کے بعد دیا گیا فارم میں اپنی تفصیلات درج کریں۔
اس فارم میں صارف سے آمدن سمیت دیگر معلومات لی جا رہی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی لینے والی صارفین کی رجسٹریشن مکمل کی جائے اور اس کے بعد ہی سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا کہ کیو آر کوڈ کی ذریعے اب تک 20 لاکھ صارفین کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی ہے۔پاکستانی عوام آج جس سب سے بڑے معاشی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، وہ مہنگی بجلی، پٹرول اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ ایک عام مزدور، تنخواہ دار طبقہ اور کم آمدن والا خاندان ہر مہینے بجلی کے بل دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ گھروں کا پورا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک قوم اس دباؤ کو برداشت کرے گی؟
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر عوامی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومتوں کو صرف عوام کی جیبیں کاٹنے کا موقع چاہیے۔ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی اور عالمی حالات کے اثرات بھی براہِ راست پاکستانی عوام پر پڑے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہوا تو اس کے ساتھ ٹرانسپورٹ، سبزیاں، آٹا، چینی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
پہلے ہی پسے ہوئے طبقے کے لیے زندگی مشکل تھی، مگر اب مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہوا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دوسری طرف صوبائی حکومتوں کے مختلف محکمے دکانداروں کو زبردستی نرخ کم کرنے کے احکامات دیتے ہیں، حالانکہ ایک دکاندار کے اپنے اخراجات، کرایے، بجلی کے بل اور ٹیکس بھی ہوتے ہیں۔ صرف اعلانات اور سیاسی شعبدہ بازی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
جب قومی و سوشل میڈیا پر ترقی اور خوشحالی کے دعوے دکھائے جاتے ہیں تو عوام کا ردِعمل ملا جلا ہوتا ہے۔ سادہ لوح لوگ حقیقت اور سیاست میں فرق نہیں کر پاتے۔ اگر حکومت واقعی عوام کا درد محسوس کرتی ہے تو کم از کم مزدور اور کم آمدن والے خاندانوں کو خلوصِ دل سے ریلیف دینا ہوگا۔
حکومت اگر چاہے تو ایک محدود مدت کے لیے غریب طبقے کو بجلی میں سبسڈی یا مفت یونٹس فراہم کر سکتی ہے تاکہ لوگ اپنے معاشی حالات سنبھال سکیں۔ اسی طرح پاکستان کو فوری طور پر متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر چین یا کسی بھی دوست ملک کی مدد سے ہمارے ڈیم جلد مکمل ہو جائیں یا ملک میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز اور سولر ٹیکنالوجی کے کارخانے لگائے جائیں تو نہ صرف بجلی سستی ہو سکتی ہے بلکہ ملک توانائی کے بحران سے بھی نکل سکتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں صرف دعووں کے بجائے عملی اقدامات کریں، کیونکہ ایک تھکا ہوا اور پریشان معاشرہ زیادہ دیر تک بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ عوام کو صرف وعدے نہیں بلکہ حقیقی ریلیف چاہیے۔ایک ایسے وقت میں جب تیل کی قیمتوں میں نروا اضافے کے باعث روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں عام شہری کی قوت خرید باہر ہوتی چلی جارہی ہیں ان حالات میں یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی صارفین کے بس میں نہیں رہی۔حکمران طبقے کو عوام کی اس تکلیف کا صرف اس حد تک خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یوشربا اضافہ کرکے بعد ازاں معمولی کمی کر دی جاتی ہے۔جہاں تک بجلی بلوں میں دوسو یونٹ کے پروٹیکٹڈ صارفین کیلیے ریلیف کا سوال ہے تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ حکومت عوام کو سبسڈی کے نام پہ لولی پوپ دینے کی بجائے بجلی کی قیمتوں پر نظرثانی کرے اور بجلی بنانے اور تقسیم کرنے والیب کمپنیوں سےمہنگے معاہدے ختم کرے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے