محمد نوید مرزا کی ادبی خدمات اور بشیر رحمانی ایوارڈ
ندیم اختر غزالی
محمد نوید مرزا اُن ممتاز علمی و ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سرکاری خدمات اور ادبی و فکری سرگرمیوں کو بیک وقت نہایت وقار، توازن اور سنجیدگی کے ساتھ نبھایا۔ اُن کی شخصیت روایت و جدّت، فکر و احساس، تنقید و تخلیق اور ادب و کردار کا ایک نہایت دل نشیں اور دل آویز امتزاج پیش کرتی ہے۔ وہ اُس عظیم علمی و ادبی شخصیت کے چشم و چراغ ہیں جس نے نہ صرف اپنے ادارے میں دیانت، اخلاص اور فرض شناسی کے روشن نقوش ثبت کیے بل کہ اردو ادب کی فکری و تخلیقی روایت کو بھی اپنے قلم کی تاب ناکی سے جِلا بخشی۔
جناب نوید مرزا بظاہر نہایت سادہ مزاج اور دھیمے لہجے کے حامل دکھائی دیتے ہیں اور جب اُن کی ادبی نگارشات کا مطالعہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُن کے باطن میں ایک عہد ساز ادیب اور حساس شاعر خاموشی کے ساتھ اپنی فکری دنیا آباد کیے بیٹھا ہو۔ اُن کی شخصیت میں نہ مصنوعی بڑائی کا کوئی شائبہ دکھائی دیتا ہے، نہ شہرت یافتہ لوگوں کی قربت کا غرور اور نہ ہی نام و نمود کی کوئی بے جا خواہش۔ عاجزی، انکساری اور خلوص اُن کے مزاج کا ایسا دل آویز وصف ہے جو اُن کی تحریروں کی طرح اُن کے کردار سے بھی نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اُن کا قلم محض لفظوں کی ترتیب نہیں بل کہ فکر، احساس اور تہذیبی شعورکا ایک نہایت باوقار ترجمان محسوس ہوتا ہے۔
نوید مرزا کے والدِ گرامی بشیر رحمانی مرحوم پاکستان ملٹری اکاؤنٹس میں اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے منصب پر فائز تھے۔ وہ اپنے عہد کے نہایت باوقار، نفیس الطبع اور علم دوست انسانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں دیانت، نظم و ضبط اور فرض شناسی اُن کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، جب کہ ادب و ثقافت سے اُن کی وابستگی غیر معمولی گہرائی اور وسعت کی حامل تھی۔ یہی علمی، ادبی اور تہذیبی فضا محمد نوید مرزا کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی، گویا ادب اُنہیں محض ایک مشغلے کے طور پر نہیں ملا بل کہ ایک قیمتی تہذیبی ورثے کی صورت میں اُن کی روح اور فکر کا لازمی حصہ بن گیا۔
یہ نوید مرزا کی کاوشوں کا ثمر ہے کہ انہوں نے اس ادبی ورثے کو محض محفوظ رکھنے پر اکتفا نہیں کیا بل کہ اپنی تخلیقی بصیرت، تنقیدی شعور اور فکری وسعت کے ذریعے اسے نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ بشیر رحمانی ایوارڈ کا اجراء درحقیقت اُن کے والدِ گرامی کی علمی و ادبی خدمات کو پیش کیا جانے والا ایک شاندار اور بامعنی خراجِ عقیدت ہے۔ اس اقدام کے ذریعے محمد نوید مرزا نے نہ صرف اپنے خانوادۂ علم و ادب کی تابندہ روایت کو زندہ رکھا بل کہ یہ پیغام بھی دیا کہ وہ شخصیات جو علم، کردار اور ادب کے میدان میں اپنے روشن نقوش ثبت کر جاتی ہیں، وقت کے دھارے میں معدوم نہیں ہوتیں بل کہ اپنی فکر اور خدمات کے باعث ہمیشہ تابندہ و زندہ رہتی ہیں۔
اپنے والدِ محترم کی طرح محمد نوید مرزا بھی پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں بحیثیت سرکاری افسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کی عملی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ایک باصلاحیت انسان بیک وقت انتظامی ذمہ داریوں اور علمی و ادبی مصروفیات کو نہایت حسنِ ترتیب، وقار اور توازن کے ساتھ نبھا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کو کبھی بھی ادبی سفر کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا بل کہ دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شخصیت محض ایک سرکاری افسر کی نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ، صاحبِ فکر اور صاحبِ اسلوب ادیب کی حیثیت سے بھی پہچانی جاتی ہے۔
ادبی حلقوں میں محمد نوید مرزا کو بطور نقاد، شاعر، محقق اور ادیب نہایت قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اُن کی علمی و ادبی شخصیت سنجیدہ فکر، تخلیقی بصیرت اور تہذیبی شعور کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ اب تک اُن کی چھتیس سے زائد کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں جو اُن کی مسلسل علمی ریاضت، فکری وسعت، گہرے مطالعے اور ادب سے غیر معمولی وابستگی کا واضح ثبوت ہیں۔ اُن کا قلم محض اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں بل کہ فکر و احساس کی ایسی جہتوں کا آئینہ دار ہے جو قاری کو غور و تدبر کی نئی راہوں سے آشنا کرتا ہے۔
اُن کی تصانیف میں تنقید، شاعری، اقبالیات، فکری و تحقیقی مضامین اور بچوں کے لیے لکھی گئی دل چسپ اور تربیتی کہانیاں شامل ہیں۔ یہ ہمہ جہتی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اُن کی فکر کسی ایک صنف یا محدود دائرۂ اظہار تک مقید نہیں بل کہ ادب کے متنوع اور رنگا رنگ گوشوں پر محیط ہے۔ اُن کی تحریروں میں جہاں فکری گہرائی اور علمی وقار جلوہ گر ہوتا ہے، وہیں زبان و بیان کی شگفتگی، اسلوب کی دل آویزی اور احساس کی لطافت بھی قاری کو اپنی جانب بے حد متوجہ کرتی ہے۔ یہی جامعیت اُنہیں معاصر ادبی منظرنامے میں ایک منفرد، معتبر اور نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔
اُن کی معروف کتاب ”دھیان ٹوٹتا ہے“ قاری کو داخلی کیفیات، انسانی احساسات اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کی ایک نہایت لطیف اور معنی خیز دنیا میں لے جاتی ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں جذبوں کی صداقت، احساس کی نزاکت، زبان کی شگفتگی اور فکر کی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح تنقید کے رنگ جیسی تصنیف اُن کی تنقیدی بصیرت کا روشن مظہر ہے۔ محمد نوید مرزا ادب کو محض تفریح یا جذباتی اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتے بل کہ اسے فکری ارتقاء، تہذیبی شعور اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ اُن کی تنقید میں علمی وقار، استدلال، اعتدال اور فکری دیانت نمایاں طور پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔ وہ تنقید کو تخریب کے بجائے تعمیر کا عمل سمجھتے ہیں، اسی لیے اُن کے اسلوب میں تلخی کے بجائے متانت اور دلیل کی روشنی جھلکتی ہے۔
اُن کی معروف کتاب ”سراغِ زندگی“ کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ کتاب نہ صرف قارئین میں مقبول ہوئی بل کہ اقبال اکیڈمی پاکستان کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ”سراغِ زندگی“ دراصل فکرِ اقبال کی روشنی میں انسانی زندگی، خودی، کردار، امید اور عمل کا ایک فکری سفر ہے۔ اس کتاب میں محمد نوید مرزا نے نہایت سادہ مگر دلنشیں انداز میں اقبالی فکر کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
محمد نوید مرزا کی ادبی خدمات کا ایک نہایت اہم اور قابلِ قدر پہلو بچوں کے ادب کے حوالے سے اُن کی تخلیقی کاوشیں ہیں۔ اُنہوں نے علامہ محمد اقبال کے افکار، تصورات اور منتخب اشعار کو بچوں کے لیے کہانیوں کی صورت میں پیش کرنے کا ایک منفرد، دل چسپ اور بامقصد تجربہ کیا، جو اُن کی ادبی انفرادیت اور تخلیقی بصیرت کا نمایاں مظہر ہے۔ اُن کی یہ کاوش محض ادبی خدمت تک محدود نہیں بل کہ نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کی ایک سنجیدہ، مؤثر اور دور رس کوشش بھی ہے، جس کے ذریعے انہوں نے بچوں کے ذہنوں میں فکرِ اقبال کی روشنی، مطالعے کا ذوق اور اعلیٰ انسانی اقدار کو اُجاگر کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔
نوید مرزا کی متعدد کتب اقبال اکیڈمی پاکستان سے شائع ہو چکی ہیں، جو اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اُن کے علمی و ادبی کام کو معتبر ادبی، فکری اور تحقیقی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اقبال اکیڈمی جیسے اہم قومی ادارے سے اُن کی تصانیف کی اشاعت دراصل اُن کی فکری سنجیدگی، ادبی وقار اور اقبالیات سے گہری وابستگی کا بھرپور اعتراف ہے۔
جناب نوید مرزا کی ادبی خدمات اس حقیقت کی روشن آئینہ دار ہیں کہ ادب اگر خلوصِ نیت، گہرے مطالعے، فکری دیانت اور مثبت شعور کے ساتھ تخلیق کیا جائے تو وہ معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں نہایت بنیادی اور دیرپا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف اردو ادب کے دامن کو وسعت عطا کی بل کہ نئی نسل کو فکرِ اقبال، مطالعے کے ذوق، تہذیبی شعور اور اعلیٰ انسانی اقدار سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ اور کامیاب کوشش بھی کی ہے۔
محمد نوید مرزا کی تحریریں محض ادبی اظہار نہیں بل کہ ایک ایسی فکری روشنی ہیں جو قاری کے ذہن و دل کو بیدار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ اُنہوں نے ادب کو انسان دوستی، شعور آگہی اور اخلاقی ارتقا کا مؤثر وسیلہ بنایا اور اپنی تخلیقی و تنقیدی کاوشوں کے ذریعے اردو ادب میں ایک باوقار اور معتبر مقام حاصل کیا ہے۔ بلاشبہ وہ عصرِ حاضر کے اُن اہم اور سنجیدہ ادبی ناموں میں شمار ہوتے ہیں جن کی علمی و ادبی خدمات نہ صرف اہلِ ادب کے لیے باعثِ افتخار ہیں بلکہ مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔






