نقش ہائے ناتمام بکھرے چراغوں کی مکمل روشنی
منشا قاضی حسبِ منشا
اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ زبان و ادب کی خدمت کے لیئے وقف کر دیتی ہیں، مگر ان کے فکری اور تخلیقی نقوش مختلف رسائل، اخبارات، نجی ڈائریوں اور منتشر اوراق میں بکھرے رہ جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ قیمتی ادبی سرمایہ گمنامی کی دھند میں نہ کھو جائے۔ ایسے میں اگر کوئی سعادت مند فرزند اپنے والد کے علمی ورثے کو تحقیق، محنت، محبت اور دیانت کے ساتھ یکجا کر دے تو یہ محض ایک ادبی خدمت نہیں بلکہ ایک تہذیبی امانت کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔
"نقش ہائے ناتمام” دراصل اسی محبت، وفاداری اور ادبی شعور کی روشن مثال ہے۔ یہ کتاب معروف شاعر اور ادیب سید انجم جعفری کی کلیات پر مشتمل ہے، جسے ان کے صاحبزادے سید وقاص جعفری نے نہایت جاں فشانی اور تحقیق کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ بکھری ہوئی نگارشات کو یکجا کر کے ایک مربوط ادبی خزانے میں تبدیل کرنا ایک دشوار اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے، مگر اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید وقاص جعفری نے اس ذمہ داری کو نہ صرف نبھایا بلکہ اسے ایک مقدس فریضے کے طور پر انجام دیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں شامل "عرضِ مرتب” خود ایک جذباتی اور فکری دستاویز ہے۔ اس میں سید وقاص جعفری نے نہایت انکسار کے ساتھ اس سفر کی داستان بیان کی ہے جس کے ذریعے والد محترم سید انجم جعفری کی منتشر تحریروں کو محفوظ کیا گیا۔ یہ چند صفحات دراصل ایک بیٹے کی اپنے باپ سے محبت، عقیدت اور فکری وابستگی کا آئینہ ہیں۔ یہاں قاری کو صرف ایک مرتب نہیں بلکہ ایک ایسا فرزند دکھائی دیتا ہے جو اپنے والد کے خوابوں، احساسات اور ادبی سرمائے کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
سید انجم جعفری کی ادبی شخصیت کا ایک نمایاں وصف اردو زبان سے ان کی بے لوث محبت ہے۔ وہ ان تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے تہذیب، شعور اور انسانی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ ان کی شاعری میں جذبات کی لطافت، فکر کی گہرائی اور زبان کی شائستگی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کے مختلف رنگوں، انسانی تجربات اور باطنی کیفیات کا عکاس بن جاتا ہے۔
کتاب کا عنوان "نقش ہائے ناتمام” میں بھی ایک گہری فلسفیانہ معنویت پوشیدہ ہے۔ انسان کی زندگی، اس کے خواب، اس کی خواہشیں اور اس کی تخلیقات کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔ ہر شاعر اپنے پیچھے کچھ ادھورے خواب، کچھ ان کہی باتیں اور کچھ نامکمل نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ مگر یہی نامکملیت دراصل فن کی ابدیت بن جاتی ہے۔ سید انجم جعفری کے یہ "ناتمام نقش” آج کلیات کی صورت میں ایک ایسی تکمیل پا گئے ہیں جو آنے والے زمانوں میں اردو ادب کے قاری کو روشنی فراہم کرتی رہے گی۔
اس کلیات کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف ایک شاعر کے کلام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی فکری اور ادبی تاریخ بھی ہے۔ اس کے صفحات میں محبت، انسان دوستی، تہذیبی شعور، سماجی احساس اور زندگی کے نشیب و فراز کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ قاری جب ان تحریروں سے گزرتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ شاعر اپنے عہد کے دکھوں، امیدوں اور خوابوں کو لفظوں کا لباس پہنا رہا ہے۔
ادبی اعتبار سے اس کلیات کی اشاعت ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین کارنامہ ہے۔ خصوصاً اس دور میں جب مطالعے کا ذوق کم ہوتا جا رہا ہے، ایسی کتابیں نئی نسل کو اپنے ادبی ورثے سے جوڑنے کا اہم ذریعہ بنتی ہیں۔ سید وقاص جعفری کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی لائقِ ستائش ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے والد کے ادبی سرمایہ کو محفوظ کیا بلکہ اردو ادب کے قارئین کو ایک قیمتی تحفہ بھی عطا کیا۔ ارمغانِ نقش ہائے نا تمام میرے لیئے حکیم راحت نسیم سوھدروی کی جانب سے ارمغانِ حجاز سے کم نہیں،
"نقش ہائے ناتمام” دراصل ایک کتاب نہیں، یادوں کا چراغ، محبت کا استعارہ اور ادب کے ساتھ وفاداری کی روشن مثال ہے۔ سید انجم جعفری کے فکری و تخلیقی نقوش اس کلیات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے، جبکہ ان کے فرزندِ دلبند سید وقاص جعفری کی یہ خدمت اس بات کا ثبوت ہے کہ جب محبت علم سے ملتی ہے تو وقت کے بکھرے ہوئے اوراق بھی ایک لازوال داستان میں ڈھل جاتے ہیں۔
یہ کلیات نہ صرف سید انجم جعفری کے ادبی قد و قامت کی گواہی دیتی ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ اہلِ قلم جسمانی طور پر رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کے لفظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، اور انہی لفظوں میں ان کی اصل حیات پوشیدہ ہوتی ہے ۔ سید انجم جعفری نے شعری ، ادبی بلکہ فنونِ لطیفہ کی ہر اصناف سے انصاف کیا ہے ۔ قارئین ذرا ان کا نمونہ کلام تو ملاحظہ فرمائیں آپ دیر تک ماہی بے آب کی طرح تڑپ جائیں گے ۔
دعا یہ ہے کہ دمِ واپسیں ہو جب انجم
ہو لب پہ وردِ زباں لا الہ الا اللہ
محسنِ قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان
سلامِ مابرسانید ہر کجا ہستند
میرا فن تیرے لیئے، میری زباں تیرے لیئے
شاعری تیرے لیئے زورِ بیاں تیرے لیئے
جو لوگ کہ حالات کے سانچے میں ڈھلے ہیں
وہ لوگ ہر اک دور میں پھولے ہیں پھلے ہیں
اسلام کی اقدار کے جو لوگ علمدار
اک عمر سے وہ سیلِ حوادث کے تلے ہیں
وہ جن سے شبِ تار میں کرنیں ہیں ہویدا
وہ دیپ میرے خونِ تمنا سے جلے ہیں
تم ظلمتِ ماحول سے نالاں ہو تو آؤ
ہم لوگ اندھیروں کے تعاقب میں چلے ہیں
تم لوگ ہمارے ہو تو پھر ساتھ نبھاؤ
ہم لوگ تمہارے ہیں برے ہیں کہ بھلے ہیں
جیلیں ہیں، سلاسل ہیں، شدائد ہیں ، رسن ہیں
اظہارِ ان الحق سے مگر ہم نہ ٹلے ہیں
تقویم کا






