قومی اعزازات اور عوامی اعتراضات۔۔
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا بھر کا رواج ہے کہ اپنے باصلاحیت اور ناقابل فراموش خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن ہم بدقسمتی سے اس معاملے میں کنجوس ہی نہیں ،اس قدر حاسد اور منافق ہیں کہ کسی کی پذیرائی کرنے کی بجائے تنقید کو اپنا فرض سمجھتے ھیں، پھر بھی مرنے کے بعد خوبیاں ڈھونڈ لیتے ہیں اس روش اور تضاد بیانی کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر ٫٫دولہے اور مردے ،،کے چہرے کا حسن قابل ستائش ہوتا ہے دراصل دونوں معاملات ایک جیسے ہی ہیں ،آ پ اتفاق نہ بھی کریں تب بھی کیونکہ یہ وہ حقیقی لمحات ہوتے ہیں جب ایک زندگی ختم ہو کر دوسری زندگی شروع ہو رہی ہوتی ہے دونوں نہیں جانتے کہ مستقبل کیا ہوگا ؟مملکت پاکستان میں یہ رواج پذیرائی دیر سے آ یا لیکن پھر بھی یہ پذیز ائی اور حوصلہ افزائی کسی عوامی جمہوری دور میں نہیں ہوئی یہ کارنامہ بھی آ مرانہ دور کا ہے اور ہم ٹھہرے جمہوری اس لیے بہانے بہانے سے کیڑے نکالنا اولین ذمہ داری ہے، صدر جنرل محمد ایوب خان اور یحیی خان کے ادوار میں ٫٫تمغہ خدمت،، سے جیسے اعزازات فورسز کے علاوہ بھی دیے گئے ،جن کا٫٫ میرٹ،، کیا تھا کوئی نہیں جانتا ،پھر بھی میرا خیال ہے میرٹ اور وجہ انتخاب کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا، تیسرے آ مر جنرل صدر ضیاء الحق نے اپنی عوامی پذیرائی کے لیے بہت سے اقدامات کیے ،عوامی اسمبلی کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے نمایاں شخصیات کی ٫٫مجلس شوری ،،بنائی، خطے میں ترقی و خوشحالی اور روسی جنگ سے نمٹنے کے لیے جہاد افغانستان کیا اور تو اور نظام اسلام کے لیے ٫٫قومی ریفرنڈم،، کرایا اسی آ مر نے سول سوسائٹی کے لیے٫٫ تمغہ حسن کارکردگی،، کا اجراء بھی کیا ،جسے قوم نے ٫٫دیر آ ئید درست آ ئید،،کی بنیاد پر تسلیم کر لیا ،مجھے یاد ہے کہ پرفارمنگ آرٹ یعنی اداکاری میں جب محمد قوی خان، طلت حسین اور درجنوں دوسروں کی موجودگی میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات اور چیئرمین پی۔ ٹی ۔وی جنرل مجیب الرحمن کی منظوری سے پہلا صدارتی ایوارڈ اداکارہ عظمی گیلانی کو عطا کیا گیا تو عوامی سطح پر زبردست تنقید ہوئی تھی لیکن متاثرہ قوی خان کا موقف تھا کہ کوئی بات نہیں ،دل بڑا رکھنا چاہیے آ ج اگر یہ ٫٫تمغہ حسن کارکردگی،، ناجائز انداز میں دیا گیا تو اگر رسم چل نکلی تو کل جائز بھی تو ملے گا ؟ سوچ ہمیشہ مثبت رکھنی چاہیے اور انہیں اگلے سال ہی مثبت سوچ کا انعام دوسرا ٫٫تمغہ حسن کارکردگی،، مل گیا یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ قوی خان کو یہ ایوارڈ مجموعی طور پر ٹی وی، فلم اور سٹیج پرفارمنس پر ملا لیکن جس وقت انہیں یہ اعزاز دیا گیا اس وقت وہ میری زیر ہدایت اطہر شاہ خان کا تحریر کردہ ڈرامہ ٫٫اصلی نقلی،، سلاطین ہوٹل مال روڈ لاہور میں کر رہے تھے اور میں نے ان کے مد مقابل پہلی مرتبہ اداکارہ بندیا کو ممتاز ٹی۔ وی پروڈیوسر یاور حیات کی معرفت اسٹیج کی دنیا میں متعارف کرایا تھا تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ قوی خان اتنے بڑے اور منجھے ہوئے اداکار تھے کہ ان کی نامزدگی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا، صدر ضیاء الحق کے دور سے آ ج تک یہ اعزازات تمغہ امتیاز، صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور جنہیں یہ سب مل جائیں انہیں ٫٫لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ،، سے حکومت نوازتی ہے جبکہ کچھ پر نقد رقم بھی لاکھوں میں ادا کی جاتی ہے، شاید یہی وجہ تنقید کی ہے کیونکہ اگر نقد رقم ہمیں نہ ملے تو وہ قابل اعتراض ہے، اس لیے کہ ہمارا مزاج یہی ہے اگر ہم نہیں تو کوئی نہیں، کسی کی کیا خدمات ہیں اس سے کوئی غرض نہیں؟ہماری خدمات تسلیم نہیں کی جاتیں تو سب غلط ہے ٫٫میرٹ،، کی دھجیاں اڑائی جا رہیں ہیں، بس یہی عوامی اعتراضات ہیں
مجھے ایوارڈ نہیں ملا، ہو سکتا ہے کہ آ پ اپنے شعبے کے اہم ترین شخص ہوں، آ پ کی خدمات بھی بے تحاشا ہوں لیکن پھر بھی ایوارڈ نہ ملا ہو، اس کے باوجود میرا ایمان ہے کہ جن شخصیات کو انن اعزازات سے نوازا جاتا ہے یا نوازا گیا ہے وہ 100 فیصد میرٹ پر ہیں کیونکہ 25 کروڑ کی پوری آ بادی کو یہ اعزاز نہیں ملا، جس میں صرف آ پ نظر انداز کر دیے گئے ہوں، ایوارڈ سرکاری ہوں یا کہ نجی سطح کے۔۔۔ ہوتے گنتی کے ہیں، اس لیے انہیں دینے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں ہیں اور انہیں سرکار یا نجی ادارے کسی ضابطے میں محدود کر دیتے ہیں کمیٹی اسی ضابطے میں زیر نظر شخصیات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے، بہت کم چانس ہیں کہ کسی شعبے میں مقابلہ نہ ہو ؟ ورنہ تمام شعبہ جات کے سمجھدار لوگوں نے وقت مقررہ سے پہلے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ انتہائی ذمہ داری سے اپنے کاغذات مع کرامات جمع کرائے ہوتے ہیں ،کچھ نے میری طرح یہ کارنامہ انجام ہی نہیں دیا ہوتا، پھر بھی امید لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں حالانکہ اصول یہی ہے کہ مانگنے والے کو ملتا ہے دنیا کا یہی اصول ہے وہ اور ہے جو بن مانگے بھی اچھے برے ہر کسی کو دیتا ہے بڑا اعتراض یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ سفارش زیادہ چلتی ہے اگر اسی کو ٫٫میرٹ،، سمجھ لیں تو کیا آ پ اور میں نے یہ فارمولا استعمال کیا؟ جواب نہیں اور اگر کیا تو یقینا سفارش کا بھی کوئی معیار اور میرٹ ہوگا اس لیے اگر پھر بھی نہیں ملا تو سفارش قابل قبول نہیں تھی، ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ان اعزاات پر عوامی اعتراضات کا بازار گرم ہے لاہور کے ایک فوٹوگرافر کو٫٫ صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی،، دیا گیا اعتراض ہے کہ وہ فوٹو جرنلسٹ نہیں، صرف شادی بیاہ کی تقریبات کرتا ہے معاوضہ اس کا لاکھوں میں ہے، اب پتہ کریں اول تو ٫٫کیٹگری،، فوٹوگرافی ہوگی کہیں یہ پابندی نہیں ملے گی٫٫ فوٹو جرنلسٹس ضروری ھو، دوم جب وہ اشرافیہ کی تقریبات کا وی۔ ا
آ ئی۔ پی






