#کالم

آزاد صحافت:مستحکم، ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے

Abcag

تحریر: راؤ غلام مصطفٰی

Email:rgmustafa555@yahoo.com

کہتے ہیں کہ جب معاشروں میں سچ بولنے والے خاموش ہونے لگیں۔ تو سمجھ لیجیے کہ اندھیروں نے اپنے قدم جما لیے ہیں۔ صحافت بھی دراصل اسی سچ کی تلاش اور اس کی حفاظت کا نام ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل نہیں۔ بلکہ قوموں کے شعور کی بیداری، ظلم کے خلاف آواز اور وقت کے چہرے پر لکھی حقیقت کو پڑھنے کا فن ہے۔ پاکستان میں صحافت کی تاریخ بھی قربانیوں، جدوجہد اور استقامت کی ایک طویل داستان ہے۔ مگر آج یہی صحافت اپنے وجود، آزادی اور وقار کی بقا کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہے۔
ایک وقت تھا جب اخبار قوم کی آواز سمجھے جاتے تھے۔ اداریے عوام کی سوچ بدلتے تھے۔کالم دلوں میں سوال جگاتے تھے اور صحافی طاقتور ایوانوں کے دروازوں پر دستک دیتے تھے۔ مگر اب منظر یکسر بدل چکا ہے۔ لفظوں پر پہرے ہیں۔سچ بولنے والوں کے راستے تنگ کر دیے گئے ہیں۔ اور آزادیٔ اظہار ایک ایسے چراغ کی مانند ہو گئی ہے۔ جسے ہر سمت سے چلتی ہوائیں بجھانے کے درپے ہیں۔بین الاقوامی رپورٹس بھی اسی تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہیں۔ ریپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی تازہ درجہ بندی میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے۔ جہاں صحافت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان صحافیوں کے خوف، بے بسی اور قربانیوں کی کہانی ہے۔ جو آج بھی حقائق بیان کرنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
آج صحافت کو سب سے بڑا خطرہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ قانون، دباؤ اور خاموشی سے ہے۔ پیکا ایکٹ جیسے قوانین میں ترامیم کے بعد ڈیجیٹل دنیا بھی نگرانی کے حصار میں آ چکی ہے۔ “فیک نیوز” اور “ڈیجیٹل دہشت گردی” جیسے الفاظ اب اکثر سچ بولنے والوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سوال پوچھنا جرم بن گیا ہے۔ اور اختلافِ رائے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔معاشی دباؤ نے بھی میڈیا کی کمر توڑ دی ہے۔ اشتہارات کی بندش، مالی بحران اور کاروباری مفادات نے کئی اداروں کو مصلحت کا قیدی بنا دیا ہے۔جس کے باعث ہزاروں کارکن صحافی بے روزگار کر دئیے گئے ہیں۔اب اکثر خبریں حقائق سے زیادہ مفادات کے ترازو میں تولی جاتی ہیں۔ صحافی قلم تو رکھتے ہیں مگر ان کے لفظ خوف کی زنجیروں میں جکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ خود سنسرشپ کا بڑھتا ہوا رجحان دراصل اسی خاموش جبر کی علامت ہے۔صحافیوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ایک المیہ بن چکا ہے۔ کتنے ہی چراغ اس راہ میں بجھا دیے گئے۔ کتنے ہی قلم ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیے گئے۔ مگر انصاف کے دروازے اکثر بند ہی رہے۔یہی بے سزائی معاشرے کے ماتھے پر وہ بدنما داغ ہے۔ جو ہر دور میں آزادیٔ صحافت کو کمزور کرتا آیا ہے۔ڈیجیٹل دور نے اگرچہ اظہار کے نئے راستے کھولے ہیں۔ مگر نگرانی اور ہراسمنٹ کے نئے در بھی وا کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کردار کشی، دھمکیاں اور نفرت آمیز مہمات خاص طور پر خواتین صحافیوں کے لیے ایک مستقل اذیت بن چکی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لفظ اب صرف لکھے نہیں جاتے۔ بلکہ ان کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ نہ اب لفظ بولتے ہیں اور نہ ہی حقائق چیختے ہیں۔
لیکن ان تمام تاریکیوں کے باوجود امید کی ایک شمع اب بھی روشن ہے۔ پاکستان میں آج بھی ایسے صحافی موجود ہیں۔ جو تمام تر دباؤ کے باوجود سچ کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ کچھ ادارے اب بھی حقائق کی روشنی کو بجھنے نہیں دے رہے۔ نوجوان نسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی آوازیں بلند کر رہی ہے۔ اور یہ ثابت کر رہی ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے۔ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ بھی ہوتی ہے اور ضمیر کی آواز بھی ہوتی ہے۔ اگر آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے اور ضمیر کو خاموش کر دیا جائے۔ تو قومیں اندھیروں میں راستہ بھٹکنے لگتی ہیں۔ پاکستان کو اگر ایک مضبوط، باشعور اور جمہوری ریاست بننا ہے۔ تو اسے قلم کی حرمت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھنا ہوگا۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ تخت و تاج ہمیشہ نہیں رہتے۔ طاقت کے ایوان بھی وقت کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں۔ مگر سچ لکھنے والے قلم اپنی روشنائی سے زمانوں کے رخ بدل دیتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے جابر کو سب سے زیادہ خوف کسی ہتھیار سے نہیں۔ بلکہ ایک آزاد قلم سے ہوتا ہے۔صحافت کی آزادی محض صحافیوں کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ پورے معاشرے کے جمہوری، فکری اور آئینی مستقبل کا سوال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے مؤثر اور غیر جانبدار قانون سازی کی جائے۔ صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ میڈیا اداروں کو معاشی استحکام فراہم کیا جائے۔ اور صحافتی تنظیموں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔ اسی طرح صحافت کے شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت، تحقیقاتی صحافت کے فروغ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ تاکہ صحافت اپنی اصل روح کے مطابق عوامی خدمت کا فریضہ انجام دے سکے۔
تعلیمی اداروں میں میڈیا لٹریسی کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ عوام سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکیں۔ اور گمراہ کن معلومات کے سیلاب میں حقیقت کا دامن نہ چھوڑیں۔حکومت، عدلیہ، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور میڈیا مالکان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ سمجھنا ہوگا۔ کہ ایک آزاد، بااختیار اور ذمہ دار صحافت ہی مضبوط ریاست اور باشعور قوم کی ضمانت ہے۔ جب قلم آزاد ہوتا ہے تو قومیں بیدار ہوتی ہیں۔ انصاف مضبوط ہوتا ہے اور جمہوریت پروان چڑھتی ہے۔ اگر ہم نے سچ کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیا۔ تو یقیناً پاکستان ایک روشن، مستحکم اور ترقی یافتہ مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے