#کالم

چیف منسٹر مریم نواز کا ویژن اور فیصل آباد میں منشیات کے خلاف سہیل اختر سکھیرا کی جنگتحریر

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

:محمد ندیم بھٹی

پنجاب میں منشیات کے خلاف جاری مہم محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک فکری، سماجی اور اخلاقی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ھـے۔

یہ وہ جنگ ھـے جس کا مقصد صرف جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ نوجوان نسل کو تباھی کے راستے سے ہٹا کر ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی طرف لے جانا ھـے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے جب اس ویژن کا اعلان کیا کہ پنجاب کو منشیات سے پاک کیا جائے گا تو یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اب ریاست روایتی انداز سے ہٹ کر عملی اور سخت اقدامات کرے گی۔ آج پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں اسی عزم اور وژن کا عملی اظہار دکھائی دیتی ہیں۔
فیصل آباد جو پاکستان کا صنعتی دل سمجھا جاتا ھـے، یہاں منشیات جیسے ناسور نے طویل عرصے سے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی تھیں۔ گنجان آباد علاقے، صنعتی زون اور تعلیمی اداروں کے اطراف میں منشیات فروش عناصر نے نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے نہ صرف معاشرتی بگاڑ کو جنم دیا بلکہ کئی خاندانوں کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ ایسے میں ایک منظم اور مؤثر حکمت عملی کی اشد ضرورت تھی تاکہ آنے والی نسلوں کو اس تباہ کن لعنت سے بچایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ھوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کیں کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے۔ ان ہدایات کے بعد فیصل آباد پولیس نے ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی کارروائیاں شروع کیں اور عملی میدان میں نمایاں نتائج سامنے آنے لگے۔ حکومت کی یہ پالیسی صرف بیانات تک محدود نہیں رھی بلکہ اس کے اثرات عملی سطح پر محسوس کیے جانے لگے۔
اس پورے آپریشن میں آر پی او فیصل آباد ریجن سہیل اختر سکھیرا کی قیادت کلیدی حیثیت رکھتی ھـے۔ ان کی زیر نگرانی پولیس نے نہ صرف بڑے منشیات فروش نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا بلکہ ان کے سہولت کاروں تک بھی رسائی حاصل کی۔ جدید انٹیلی جنس، مسلسل نگرانی اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے کئی خطرناک گروھوں کو قانون کے شکنجے میں لایا گیا۔ یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے شہریوں کے اندر اعتماد بحال کیا کہ ریاست اب واقعی حرکت میں آ چکی ھـے۔
سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں پولیسنگ کے انداز میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف گرفتاریاں کافی نہیں بلکہ منشیات کی سپلائی چین کو مکمل طور پر توڑنا ضروری ھـے۔ اسی سوچ کے تحت مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مارے گئے، منشیات کی بڑی کھیپیں برآمد ھوئیں اور کئی منظم گروہ ختم کیے گئے۔ ان کارروائیوں نے جرائم پیشہ عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی اور قانون شکن عناصر کو واضح پیغام دیا کہ اب ان کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رھی۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ھـے کہ منشیات فروش گروہ ہمیشہ معاشرے کے کمزور طبقات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو وقتی لالچ اور جھوٹی آسائشوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ ایک بار جب نوجوان اس لعنت میں مبتلا ھو جائےتو نہ صرف اس کی زندگی متاثر ھوتی ھـے بلکہ اس کا پورا خاندان مشکلات کا شکار ھو جاتا ھـے۔ کئی گھرانے معاشی تباہی، ذہنی اذیت اور سماجی مسائل کا شکار ھو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس ناسور کے خاتمے کے لیے صرف پولیس کارروائی نہیں بلکہ سماجی شعور بھی ضروری ھـے۔
پنجاب حکومت نے اس بات کو سمجھتے ھوئے آگاہی مہمات کا آغاز کیا۔ تعلیمی اداروں، مذہبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے نوجوانوں کو نشے کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ان کی سرگرمیوں سے باخبر رہیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ھوگا کیونکہ منشیات کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ھـے۔
منشیات کے خلاف مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آر پی او فیصل آباد ریجن کی جانب سے ایک اہم اور قابلِ تحسین اعلان بھی سامنے آیا۔ منشیات فروشوں کے بارے میں مصدقہ اطلاع فراہم کرنے والے شہری کے لیے 25 ہزار روپے نقد انعام مقرر کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو اس قومی مشن کا حصہ بنانا اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کے لیے شہریوں کی حوصلہ افزائی کرنا ھـے۔ یہ اعلان اس حقیقت کا مظہر ھـے کہ معاشرے کے دشمنوں کے خلاف کامیابی اسی وقت ممکن ھـے جب عوام اور پولیس ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ھوں۔
فیصل آباد میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ھوا۔ شہریوں نے معلومات فراہم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے نتیجے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ھوئیں۔ یہ بات اس حقیقت کو ثابت کرتی ھـے کہ جب ریاست اور عوام ایک ساتھ کھڑے ھوں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ھـے۔ عوامی تعاون نے پولیس کو ایسے مقامات اور نیٹ ورکس تک رسائی دی جہاں روایتی ذرائع سے پہنچنا آسان نہیں تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پولیس اصلاحات پر بھی خاص توجہ دی جا رھی ھـے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، تھانوں کی بہتری اور پولیس اہلکاروں کی تربیت جیسے اقدامات نے مجموعی نظام کو مزید مؤثر بنایا ھـے۔ اس کے مثبت اثرات فیصل آباد میں واضح طور پر نظر آ رھے ہیں جہاں پولیس نہ صرف جرائم کے خلاف متحرک ھـے بلکہ عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار دکھائی دیتی ھـے۔
آر پی او فیصل آباد ریجن نے اپنے افسران کو یہ واضح ہدایت دی کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس مضبوط مؤقف نے پولیس فورس میں ایک نئی روح پیدا کی۔ نتیجتاً نہ صرف جرائم میں کمی آئی بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ھوا۔ ایک کامیاب پولیس افسر کی پہچان صرف جرائم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے