الوداع بشیر بدر۔۔۔۔
روبرو ۔۔۔محمد نوید مرزا
اردو کے نامور شاعر بشیر بدر پچھلے دنوں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔بشیر بدر کی شہرت و عزت اور ان کی شاعری کے چرچے پاک و ہند میں ہی نہیں بلکہ پورے دنیا میں ہیں۔ان کی شاعری میں زندگی کے تمام معاملات ،سماجی،سیاسی،معاشی معاشرتی و عصری مسائل کے ساتھ ساتھ محبتوں کے انمول موضوعات بڑی خوبصورتی ،عمدگی ،روانی ،سادگی اور مہارت سے در آتے ہیں۔بشیر بدر کی شاعری کے مداح پوری دنیا میں موجود ہیں۔ان کے کئی شعر زبان زد عام ہیں ۔جن میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں۔۔۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دے
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کسی شام گھر بھی رہا کرو
یہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا
یہ اور اس طرح کے بہت سے شعر بشیر بدر کی تخلیقی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔بھارت اور پاکستان کے بہت سے شاعروں نے ان کی اس بھرپور تخلیقی قوت اور زمینوں سے استفادہ بھی کر رکھا ہے۔تاہم مانتا کوئی نہیں ادب کے سنجیدہ قارئین جانتے ہیں کہ بشیر بدر ایک فطری شاعر تھے،جنھیں ہمیشہ شہرت و عزت کے ساتھ پذیرائی ملی ہے۔
بشیر بدر نے 15:فروری 1935ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع امبیڈکر نگر کے قصبہ ہنسور کے قریبی گاؤں بکیا میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کچھ عرصہ میرٹھ ،دہلی اور بعد ازاں بھوپال منتقل ہو گئے۔دہلی میں ان کے گھر آگ بھی لگ گئی تھی جس میں ان کا قیمتی سامان اور مسودات ضائع ہو گئے تھے ۔یہ درد بھی ان کی شاعری کا حصہ بن گیا تھا بقول یاور ماجد۔۔۔۔بشیر بدر کی غزل کی مقبولیت کا راز ان کا مخصوص لب و لہجہ ہے۔انھوں نے غزل کے لئے ایسی زبان منتخب کی جو عام آدمی کی سمجھ میں بھی آتی ہےاور صاحبان ذوق کو بھی متاثر کرتی ہے ۔ان کے ہاں جدید دور کے مسائل،تنہائی اور انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا ذکر ایک منفرد انداز میں ملتا ہے،،
عوام اور خواص میں یکساں مقبولیت حاصل کرنے والے منفرد لہجے کے شاعر بشیر بدر کے مشہور مجموعوں میں اکائی ،آسمان امیج ،آہٹ اور آس شامل ہیں۔جب کہ ان کا کلام دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔اس کے علاؤہ بشیر بدر کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر کئی سرکاری اور غیر سرکاری اعزازت کے علاؤہ انھیں بھارت کا سب سے بڑا ایوارڈ پدم شری بھی مل چکا ہے۔ان کے کلام کا انتخاب پاکسان سے بھی شائع ہو چکا ہے۔بشیر بدر نے بھارت کے علاؤہ دنیا کے کئی ممالک میں مشاعرے پڑھے اور نہ صرف داد و تحسین حاصل کی بلکہ اردو ادب میں ان کی شہرت و عزت بڑھتی چلی گئی۔تاہم پچھلے چند برسوں سے بڑھتی ہوئی عمر اور یادداشت کی کمزوری کی وجہ سے وہ علیل تھے اور 28 مئی 2026ء کو یہ عظیم شاعر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔انا لللہ وانا الیہہ راجعون
بشیر بدر اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں تاہم ان کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے،آمین






