ایران امریکہ جنگ کے خاتمےکے ھیرو فیلڈ مارشل سید محمد عاصم منیر
نویس احسان ناز
ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے بادل اب چھٹنا شروع ہو چکے ہیں اپناے ھرمز کھل چکی ہے امریکہ نے اس کی ناکہ بندی ختم کر دی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ابناے ھرمز سے تمام بحری جہاز بغیر ٹول ٹیکس دیے گزریں گے اور جو اس وقت پھنسے ہوئے ہیں ان کا بھی سلسلہ نکلے کا شروع ہو چکا ہے یہ ساری گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے بعد اپ سے کر رہا ہوں کیونکہ ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ ختم کرانے کی کوششوں میں سر اول جو نام ہیں وہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید محمد عاصم منیر کا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ہے کہ جنہوں نے دن رات محنت کر کے ایران اور امریکہ کو امن معاہدہ کرنے پر امادہ کیا اس میں کئی موقعوں پر معاہدہ نہ ہونے کے بارے میں باتیں کی گئی لیکن پاکستان کی اعلی قیادت نے دن رات ایک کر کے تمام تر ان لوگوں کے خواب ادھورے کر دیے جو کہ یہ چاہتے تھے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کا معاہدہ نہ کرا سکے اس میں ہمارے ازلی دشمن ہندوستان اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ تھا کہ وہ ہمیشہ صدر ڈونلڈ ٹرپ پر دباؤ ڈالتے تھے یہ معاہدے نہیں ہونے چاہیے جنگ جاری رھنی چاہیے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے کبھی بھی اپنی کسی تقریر میں ہوش کے ناخن نہیں لیے انہوں نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کے سلسلے میں پاکستان کےفبلڈ مارشل سید محمد عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی کوششوں کو سراہا اور اخر کار وہ موقع ایا کہ تمام معاہدے کے خدوخال بھی سامنے اگئے اور ایم او یو بھی دستخط ہونے کے قریب اگیا اور اس موقع پر خاص کر ایرانی صدر اور ایرانی سپیکر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہ اور یہ بھی دیکھنے میں ایا ایران کے شہروں گلی کوچوں میں پاکستان زندہ باد کی ریلیاں نکالی گئی اور سرکاری میڈیا پر بھی اس کا ذکر کیا گیا اور خاص کر ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید محمد عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی ستائش کی گئی کہ انہوں نے ہمیں قریب لانے میں اپنا موثر کرانا ادا کیا ہے میں اللہ تعالی سے ملتمس ہوں وہ اس معاہدے کو کامیاب کرے اس معاہدے کے بعد پاکستان کے عوام کو جو فیوز و برکات حاصل ہوں گے وہ سب سے بڑھ کر پاکستان کی حکومت ایران سے پٹرول اور گیس سستے داموں خریدے گی عوام کو بھی دیں گے عراق پاکستان اور ایران کا بھی معاہدہ گیس کے بارے میں ہوا ہے اور ایک بحری جہاز عراق سے گیس لے کر پاکستان کی طرف روانہ ہے اور اسے ابناے ہرمز پر کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے اسی طرح انشاءاللہ ائندہ جب یہ سارے معاملات حل ہو جائیں گے تو پاکستان جن معاشی مشکلات کا شکار ہے ان کی طرف ہماری حکومت کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے پٹرول کی قیمتیں 22 روپے کم کی ہے پٹرول کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت تک عوام کو فائدہ نہیں دے سکتی جب تک اس جنگ سے پہلے جو پٹرول کی قیمتیں تھیں وہاں پر قیمتی واپس نہ ا جائیں اور اب تو عوام کی بھی خواہش ہے کہ ہمیں پٹرول زیادہ سے زیادہ 150 روپے پر لیٹر دیا جائے تاکہ ہمارے روزگار میں اور ہمارے معاملات میں بہتری ا سکے جس طرح پاکستان ایران اور عراق کا معاہدہ ہوا ہے اس طرح کا معایدہ ہمارا چینی حکام سے بھی ہوا ہے
ہمارا معاہدہ امریکہ سے بھی ہونے جا رہا ہے اور اسی طرح کے مالی فوائد
ہمیں قطر سعودیہ کویت اور دوسرے ممالک بھی چند ہفتوں کے بعد معاہدہ کر کے دیں گے پاکستانی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہم کس سے امداد نہیں لیں گے بھیک نہیں مانگیں گے ہم صرف اور صرف کاروبار کریں گے اور کاروبار کے ذریعے پاکستان کی عوام کو وہ سہولیات فراہم کریں گے جو کہ اقوام عالم کے دوسرے شہریوں کو نصیب ہیں میں یہاں پر پاکستانی فوج کے سپہ سالار سید محمد عاصم منیر کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے گھریلو مصروفیات کو پس پشت ڈال کرعید الضحی کی نماز بلوچستان کے ضلع زوب میں ادا کی اور وہاں پر انہوں نے عید کے دربار میں سپاہیوں افسروں اور نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا اور اس موقع پر انہوں نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان کی طرف گندی انکھ اٹھانے والوں کو بھی واصل جہنم کر دیا جائے گا جو بھی میرے ملک کے امن سلامتی کے درمیان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا ہم سے بچ نہیں سکے گا کیونکہ پاکستان کی حفاظت ہماری ریڈ لائن ہے ہماری اخری خواہش ھےاخری خون کے قطرے تک ہم پاکستان کی خدمت جاری رکھیں گے اسی طرح وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف جن کو میری فہم و فراست کے مطابق اگر وہ لاہور میں تھے تو ان کو بادشاھی مسجد میں نماز عید الاضحی ادا کرنی چاھیے تھی اگر اسلام اباد ہوتے تو فیصل مسجد میں ادا کرتے لیکن میں نے دیکھا اس دفعہ نہ فیصل مسجد میں اور نہ بادشاھی مسجد میں حکومتی اھم شخصیتوں نے عید کی نماز ادا نہ کی میاں شہباز شریف نے اپنے گھر اصف علی زرداری نے اپنے گھر میں اور دیگر بڑے بڑے قد کاٹھ کے لیڈروں نے اپنے گھر کی مساجد میں ہی نماز ادا کی کسی بھی بڑی عیدگاہ بڑی مسجد میں وہ نماز عید پڑھنے نہیں گئے کیونکہ اگر وہ نماز عید پڑھنے کے لیے جاتے تو انہین پتہ چلتا کہ عوام کن کن مسائل سے دوچار ہیں اس لیے صاحب اقتدار سے گزارش ہے کہ جس طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عید الضحی اپنے نوجوانوں میں پڑھی اور وہاں دربار لگایا اسی طرح حکمران بھی اگر بڑی بڑی مساجد میں نماز ادا کرتے تو ان سے عوام کی میل ملاقات ہوتی جس سے بڑے مسائل حل ہوتے ہیں بہرحال میں دیکھ رہا ہوں اس بڑی عید کے موقع پر پاکستان کے عوام






