قربانی کی روح اور عصر حاضر
تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق
ہرطرف چہل پہل، رونق میلہ اور خوشی ہی خوشی۔ عید الاضحٰی کی آمد آمد۔ ہر شخص مصروف اور سرکار بھی ہر سو متحرک۔ مویشی منڈیاں سج گئیں، رکشے، مزدے اور ٹرک کم پڑگئے، چونے کی جا بجا لکیریں۔ ستھرا پنجاب کے اہلکار اور صفائی کرنے والی گاڑیاں بھاگم بھاگ اور ہر شخص سوئے مویشی منڈی۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی اب اکیلا بکرا نہیں گائے، بچھڑا، کٹا، دنبا بلکہ تمام حلال جانوروں کی ماوں کو اتحاد کرنا پڑے گا لیکن دیکھ بھال کر پلے کرنا ہوگا کیونکہ یہاں صرف معاملہ انسان کا نہیں ہے بلکہ بظاہر ذبح عظیم کی عملی شکل دنبا بنا تھا لہذا کہانی تو اب آگے چلے گی اور اس کہانی کے کئی کردار ہیں اور اس کہانی کے کلائمکس کا تعلق معاشرتی اور معاشی فوائد سے ہے۔ زود رنج طبقہ اتنے سارے جانوروں کی قربانی پر پریشان ہے اور ویسے بھی ایسے افراد کے ذہنوں میں کیا کیا چیزیں چل رہی ہوتی ہیں اور اب تو سوشل میڈیا بالکل ہی سوشل ہوگیا ہے اور دنیا ساری کے وسنیک پردے کے ایک طرف دیکھ کرہی مذکورہ میڈیا کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور تحریر وتقریر پر اتر آتے ہیں کاش وہ پردے کے دوسرے پار بھی دیکھ سکتے۔ آر پار میں بڑا فرق ہوتا ہے اور پار دیکھنے والوں کے ہاں بصیرت ہوتی ہے اور صاحب بصیرت نے ہی پار جا کر کامیابی کے شادیانے بجانے ہوتے ہیں اور اس کے بعد تو آنے والی ساری نسلیں کچھ کر گزرنے والوں کے ڈنکے کی چوٹ پر دن مناتی ہیں اور دن منانے سے پوری دنیا میں ایک نئی تحریک پیدا ہوتی ہے اور جس کے نتیجے میں کیا کیا ہوتا ہے اس کی تفصیل اگلی چند سطور میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ دراصل حضرت شعیب علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ظہور ہوا اور پھر اللہ تعالی نے ان کے ہاں ایک بچے کو جنم دیا اور اس بچے کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ بڑا ہی خوبرو بچہ اور پھر اس کے بعد مذکورہ باپ کو خواب کے ذریعے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اسماعیل کو میری راہ میں قربان کردیں۔قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے” ابراہیم نے کہا اے میرے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں، اب تمہاری کیا رائے ہے” مزید قرآن مجید میں ہے کہ” ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اسے پورا کیجئے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائینگے” مشکل کام بلکہ مشکل ترین کام۔ امتحان اور امتحان لینے کی بھی انتہا بلکہ انتہا کی بھی انتہا شاید علامہ اقبال واقف حال تھا اس نے عشق کی انتہا کی بات کی ہے۔ حضرت انسان نے بھی تو وہ امانت قبول کی تھی جس کو حاصل کرنے سے پہاڑوں اور دیگر سب نے معذرت کرلی تھی۔ انسان اور امتحان۔ اس کہانی کے بوقت وقوعہ تین کردار۔ ابراہیم، اسماعیل اور ہاجرہ۔ تینوں کے صبر کا امتحان۔ خاصان کا خاصا ہے کہ ان کے ہاں آمنا وصدقنا کے بجز کچھ نہیں ہوتا اور یوں مذکورہ سب نے اپنے خالق ومالک کے سامنے گردنیں جھکائیں اور صبرورضا کی کیفیت اپنی معراج کو پہنچی۔ ماں چپ، باپ بیٹے کو لے کر سوئے مقتل چلے اور بیٹا مکمل طور پر راضی بہ رضا( جو رب بھاوے سو یو تھیسی سو یو بات ہے چنگی) چھری باپ کے ہاتھ میں اور یوں گلے اور چھری کا درمیانی فاصلہ ختم۔ اللہ اکبر اور یوں ذبح عظیم نے ساری صورتحال کو یکسر تبدیل کردیا۔ ماں باپ اور بیٹا تینوں کامیاب ٹھہرے۔ قربانی کی ایک نئی داستان اور وہ بھی بےمثال اور لازوال داستان۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ نسل اسماعیل سے حضرت عبداللہ( والد محترم سیدنا محمد الرسول اللہ) پیدا ہونگے اور ان کو بھی قربان کئے جانے کا معاملہ زیرغور آئے گا اور اس کے بعد تو حسین علیہ السلام کی قربانی اور یوں بقول اقبال( ابتدا اسماعیل، انتہا حسین ) بلاشبہ اس وقت کے درودیوار نے بھی سوچا ہوگا کہ اگر اسماعیل کی قربانی ابتدا ہے تو اس کی انتہا کیا ہوگی۔ دیکھنے والوں نے پھر دیکھا۔ خیرزیر نظر تحریر میں اصل موضوع عید الاضحٰی ہے اور مذکورہ پس منظر دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت کا بے مثل اور بےنظیر واقعہ ہے اور ایسے واقعات آنے والی نسلوں پر قرض ہوتے ہیں اور یہ قرض ہم سب نے مل کر چکانے ہیں۔ ویسے بھی اللہ تعالی نے ہمارا کام تو آسان کردیا ہے ہم نے اپنی قربانی تو دینی نہیں ہے ہم نے تو جانوروں کی قربانی دینی ہے اور کیوں دینی ہے۔ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں( اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ خون بلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہے) زندہ قومیں ہمیشہ اپنے مشاہیر اور بزرگوں اور وہ بھی ان بزرگوں کے جنہوں نے آنے والی نسلوں کے لئے کوئی کارخیر سرانجام دیا ہو۔ ایسے حضرات کے دن منائے جاتے ہیں آور آنے والی نسلوں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام کی میراث کے امین ہیں۔ ان کو یہ بھی بتانا مقصود ہوتا ہے کہ عبدیت کے کیا تقاضے ہیں اور یہ تقاضے کیسے نبھائے جاتے ہیں ان پر یہ بھی واضح کرنا ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کا حکم ماننا ہم پر کتنا لازم ہے وغیرہ وغیرہ۔ دوسرا عیدالاضحٰی منانے کا فائدہ ہے کہ ایک ایسی ایکٹیویٹی ہوجاتی ہے جس کے معاشی اور معاشرتی فوائد ہیں۔ ویسے جانور روزانہ کی بنیاد پر ذبح ہورہے ہیں اور جانوروں کا اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی دن ذبح ہوجانا کسی طرح بھی خلاف عقل نہیں۔ عیدالاضحٰی کی تیاریاں جب ہوتی ہیں تو بےشمار لوگ اس وقت کے لئے سارا سارا سال جانور پالتے ہیں تاکہ وہ ایسے جانور بیچ کر پیسے کما سکیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ ان جانوروں کو منڈیوں تک لے جانے کے لئے گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان گاڑیوں کے مالک بھی خوب کاروبار کرتے ہیں، پرائیویٹ منڈیاں لگانے والے تو پیسے کماتے






