#کالم

پھلوں کے بادشاہ  کو "خوش آمدید”

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

گرمیوں  کا موسم ہو اور پھلوں کے بادشاہ کی بات نہ ہو یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔لنگڑا ،سندھڑی ،انور رٹول ،چونسہ نام سنتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے ۔آم فقط ایک پھل نہیں بلکہ برصغیر کی گرمیوں کا جشن ،میلہ   اور رونق ہوتا ہے ۔یہ وہ میٹھا موسم ہے جس کے آنے سے جنوبی پنجاب کے ہر صحن میں خوشبو ،دسترخوانوں میں رنگ اور ذائقہ  اور دلوں میں بچپن اتر آتا ہے ۔خوش آمدید اۓ خوش ذائقہ آم ! خوش آمدید  ! جی آیاں نوں ! ۔تو آیا ہے تو جیسے دھوپ کی شدت میں مٹھاس گھل گئی ہو ،کچے آم کی چٹنی سے لے کر رس بھرۓ ٹھنڈۓ آم کے قتلے   اور ایک ایک پھانک تک  ہر ذائقہ زندگی کی کسی خوبصورت یاد کو جگا دیتا ہے ۔بچپن میں  دوستوں کے ہمراہ  باغوں  سےتپتی دوپہر میں آم چوری کر کے  کھانے کا اپنا ہی ایک ذائقہ اور مزا ہوتا تھا ۔ سعید چشتی مرحوم کے باغیچہ میں گھنٹوں  درختوں پر پکے آم تلاش کرنا اور پھر ایک آدھا کچا پکا آم تلاش کرکے کھانا بڑا دلچسپ ہوتا تھا ۔گرمیوں میں امی جان کہتیں کہ جاو !منڈی سے  ایک ٹوکرا آموں کا لے آو تو ہم بڑی خوشی سے جاتے اس وقت یہ پورا ٹوکراصرف ایک روپے کا ملتاتھا  اور ہم چالاکی سے ذائقہ چیک کرنے کے بہانے ہر ٹوکرۓ سے ایک آم ضرور   مفت میں چکھتے تھے۔امی جان کی بنائی ہوئی آموں کے رس کی چٹنی جس میں پیاز اور ہری مرچ بھی شامل ہوتی تھی دوپہر میں سالن کا کام دیتی تھی ۔آم کو چوس کرروٹی کھانے کا تو مزا ہی الگ ہوتا تھا ۔جبکہ ناشتے میں آم کا مزیدار مربہ ضرور  ملتا تھا ۔جنوبی پنجاب میں یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس علاقے کا  پورا ماحول پیلے اور زرد رنگ کے آموں سے یوں سجا جاتا ہے جیسے شادی  کے موقعہ پر مہندی کی تقریب ہو تی ہے ۔آموں کی کثرت کی وجہ سے گلیوں اور محلوں میں ہر گھر سے  بھی آم کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے 

کہتے ہیں کہ آم  تمام پھلوں کا بادشاہ ہے چاہے وہ لنگڑا ہی کیوں نہ ہو ؟ یہ وہ بادشاہ ہے جس کے استقبال  میں امیروغریب   کا فرق مٹ جاتا ہے ۔کوئی ٹوکروں میں سجاتا ہے ،کوئی بالٹی میں ٹھنڈا کرتا ہے ، کوئی نہر کنارۓ یا سوئمنگ پول کے پانی میں ڈال دیتا ہے ،کوئی چوس کر کھاتا ہے اور کوئی کاٹ کر مگر آم سے محبت اور چاہت سب کی ایک سی ہوتی ہے ۔یہ واحد پھل ہے جو گن کر  یا تول کر نہیں بےحساب اور جی بھر کر کھایا جاتا ہے ۔ بس بقول غالب "آم میٹھے ہوں اور بہت سے ہوں "گرمی کی شدت اگر آزمائش ہے تو آم قدرت کی طرف سے ایک شریں تسلی بھی ہوتی ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے موسم گرما پیغام دۓ رہا ہے کہ ” میری تپش سہہ لو مٹھاس تمہاری منتظر ہے ” جونہی گرمی اپنے جوبن پر پہنچتی ہے دھوپ کی تمازت سے زمین تپ جاتی ہے تو قدرت اپنے مخصوص انداز میں آم کی مٹھاس کی آمد کا اعلان کردیتی ہے کہ "آم آگئے ہیں "یہ صرف ایک پھل کی آمد نہیں ہوتی یہ موسموں کی سلطنت میں خوشبووں ،رنگوں اور ذائقوں کی شاندار تقریب کا آغاز ہوتا ہے ۔درختوں پر پھیلی بور کی خوشبو کے ساتھ ہی ان پر جھومتے سبز ِزرد ،سرخ اور سنہری آم ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے دھوپ نے خود کو میٹھے رنگوں کا روپ دے دیا ہے ۔یہ آم برصغیر کی  کی عموما” اور جنوبی پنجاب کی خصوصا” تہذیب  کا دلکش استعارہ ہوتا ہے جو امارت و غربت ،شہر وگاوں سب فاصلے مٹا دیتا ہے ۔کچے آم کی املی سے بنی چٹنی سے لے کر رس بھرۓمیٹھے آم تک ہر ذائقہ ہمارے بچپن کی کوئی نہ کوئی شرارت ،کوئی صحن ،کوئی دوپہر یا کوئی پرائی ہنسی یا خوشی سمیٹے ہوتا ہے ۔گرمی اگر سوچ کی سختی ہے تو آم  قدرت کی نرم مسکراہٹ بھی ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے موسم گرما انسان کو سورج کی تپش کے بدلے آم کے رسیلے مٹھاس کا انعام دے رہا ہے ۔

جنوبی پنجاب خصوصی بہاولپور ،ملتان اور رحیم یار خان میں تو یہ آم  کوئی پھل نہیں بلکہ یہ یہاں کے لوگوں کی  محبت ،مہمان نوازی  کی روایت اور تہذیب کی خوشبو سے بھرا  ہوا ایک خاص موسم ہوتا ہے ۔جونہی آم کے باغات سنہریرنگ اوڑھتے ہیں ۔تو یہاں کی یہ سوغات صرف بڑے لوگوں کے دستر خوانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہر خاص وعام تک اس پھل کی رسائی یہاں کے لوگوں کی خندہ پیشانی ،دلوں کی کشادگی اور پہچان بن جاتی ہے ۔گاوں کی پگڈنڈیوں سے لےکر شہروں کی گلیوں تک او رہر دروازۓپر آموں کی ٹوکری یا پیٹی محبت کا پیغام بن کر پہنچ جاتی ہے ۔ بسوں ،ریل گاڑیوں ،ڈائیوو اور فیصل مورز پر ان پیٹیوں کی بکنگ ہزاروں کی تعداد میں ہوتی ہے اور یہ ان کے علاوہ ہیں جو بذریعہ کورئیر یا دستی بھیجی جاتی ہیں ۔جو دور دراز کے لوگوں کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ وہ بھی اپنے علاقے کے پھلوں کو دوسروں کو بھجوا کر ان کے دل جیت سکتے ہیں اور اپنے خلوص اور اپنائت کا اظہار کر سکتے ہیں ۔سچ تو یہ ہےکہ آم کھایا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے ۔آم کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ مہنگائی کے باوجود  جنوبی پنجاب خصوصی بہاولپور ڈویژن کے ہر گھر تک خود ہی رسائی حاصل  کرلیتا ہے ۔یہاں کا کوئی فرد اس کے ذائقے سے محروم نہیں رہتا ۔اکثر گھروں میں گرمی شدت میں سالن کی بجاۓ آم سے روٹی کھائی جاتی ہے ۔دوسری جانب آم کی فصل جنوبی پنجاب کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے ۔اور ایک بہترین "کیش کراپ "کے طور پر جانی جاتی ہے ۔اس لیے یہاں کے لاکھوں لوگ کا روزگار بھی اس فصل سے وابستہ ہے ۔آم کے باغات اور ان کی ہریالی موجودہ موسمی تبدیلیوں میں اپنی ایک خاص اہمیت بھی رکھتے ہیں ۔

ساون کی رم جھم اور آموں کی یہ  مٹھاس جب مل جاتے ہیں تو جنوبی پنجاب کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے ۔باغوں ،نہروں اور سوئمنگ پول پر درختوں کے ساۓ تلے ،مٹی کی خوشبو اور ٹھنڈے پانی میں ڈوبے آم اور پھر پر تکلف کھانے دوستوں کی محفلوں کو چار چاند لگا دیتے ہیں  اور ایسی یادیں تخلیق کرتے ہیں جن سے برس دل مہکتا رہتا ہے ۔یہ آم آج بھی روایتوں کی وہ مٹھاس سنبھالے ہوۓ ہے جہاں مہمان کو صرف  آم اور کھانا  ہی نہیں کھلایا جاتا بلکہ محبت کے جذبات بھی پیش کئے جاتے ہیں ۔اسی لیے ہمارے علاقے کے آموں کا ذائقہ  صرف زبان پر نہیں دلوں پر بھی محسوس کیا جاتا ہے ۔ دوستوں کی ٹولیوں میں ساونی اور پکنک کے دوران ہنسی مذاق  اور خوش گپیوں کے علاوہ آم کے بعد  دودھ کی نمکین کچی لسی اور  باداموں کی ٹھنڈائی کا دور بھی ضرور چلتا ہے ۔یہاں کے زندہ دل لوگ ساونی یا پکنک منانے کو آم کے پھل سے مشرو ط کر دیتے ہیں ۔

یاد رہے کہ آم کی یہ فصل جنوبی پنجاب کے لوگوں کی معاشی ضروریات پورا کرنے میں بھی خصوصی کردار ادا کرتی ہے ۔          آم کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے بڑے ملکوں میں ہوتا ہےاور ہر سال ہزاروں  ٹن آم بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے  جبکہ صوبہ پنجاب مجموعی پیداوار میں ستر فیصد حصہ ڈالتا ہے جو بیشتر جنوبی پنجاب سے ہی ہوتا ہے۔یہ زرمبادلہ ملکی معیشت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا ۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور موسم سرما کے طویل ہونے سے آم کی نئی فصل اس طرح تیار نہیں ہو پائی جیسے ماضی میں ہوا کرتی تھی ۔اس لیے موجود ہ  فصل کے حصول کےلیے آم کے کاشتکار کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بارۓ میں  آگاہی  اور رہنمائی اور اس کو لگنے والی بیماریوں سے بچاو کی زرعی ادویات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ایک بڑی تعداد میں آم ضائع بھی ہو جاتا ہے جس کے لیے جنوبی پنجاب میں آم کو محفوظ رکھنے کے لیے  ایسے پلانٹ لگانے کی اشد ضرورت ہے جو انہیں  دیر تک محفوظ کرکے  خراب ہونے سے بچا سکیں ۔

پھلوں کے بادشاہ  کو "خوش آمدید”

01/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے