#اداریہ

نئے ٹیلنٹ کے حوصلہ افزائی کی ضرورت

Fahad 01

آج کا اداریہ

پاکستان نےتین ایک روزہ کرکٹ میچز کی سیریز کے سلسلے میں کھیلے گئے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے شکست دی ہےاور ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے.آسٹریلیا نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 200 رنز بنائے تاہم پوری ٹیم 44ویں اوور میں آؤٹ ہو گئی۔پاکستان نے بظاہر آسان ہدف کا تعاقب شروع کیا تو ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں، مگر اس کے بعد بابر اعظم اور غازی غوری نے تیسری وکٹ کے لیے 127 رنز کی اہم شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا دیا۔ بابر اعظم نے 69 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ غازی غوری نے 65 رنز بنا کر ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں میزبان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور ابتدا سے ہی پاکستانی بولرز نے مہمان ٹیم کی بیٹنگ لائن آرڈ کو دباؤ میں رکھا۔میچ کے ابتدائی اوورز میں آسٹریلوی اوپنرز نے قدرے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا لیکن جلد ہی پاکستانی سپنرز نے میچ کا رخ اپنی جانب موڑ دیا۔پاکستان کی جانب سے خاص طور پر سپن بؤلنگ نے آسٹریلیا کے مڈل آرڈر کو مشکلات میں ڈالے رکھا.میچ کا اصل موڑ اس سے قبل اس وقت آیا جب نوجوان سپنر عرفات منہاس نے اپنے ایک روزہ ڈیبیو پر شاندار بولنگ کرتے ہوئے 32 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو بکھیر دیا۔عرفات منہاس کو ان کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا، جنھوں نے نہ صرف پانچ وکٹیں حاصل کیں بلکہ آخر میں ناٹ آؤٹ 18 رنز بھی بنائے.عرفات مہناس کا کہنا تھا کہ گرمی کافی تھی، اور پچ خشک ہونے کی وجہ سے اسپنرز کو مدد ملی۔کنڈیشنز اسپنرز کے لیے سازگار تھیں اسی لیے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا گیا۔والدین نے بہت سپورٹ کیا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے میرے کیریئر میں میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ڈیبیو پر دباؤ ضرور ہوتا ہے لیکن مجھے بالکل بھی پریشر محسوس نہیں ہوا۔انڈر19 ہو یا پی ایس ایل، میں نے کرکٹ کی ہر سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے۔ میں کسی کا متبادل نہیں بننا چاہتا، اپنی الگ شناخت قائم کرنا چاہتا ہوں، میں ٹیم کا مستقل رکن بننے کی خواہش رکھتا ہوں۔واضح رہے کہ پاکستان کے لیفٹ آرم اسپنر عرفات منہاس آسٹریلیا کے خلاف میچ میں ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔ان کے علاوہ ابرار احمد نے بھی دو وکٹیں لے کر دباؤ برقرار رکھا۔شاہین شاہ آفریدی نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تو نسیم شاہ اور محمد وسیم جونیئر نے بھی ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔میچ میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 44.1 اوورز میں 200 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، جہاں اننگز کی بنیاد اوپنر میتھیو شارٹ نے 55 رنز بنا کر رکھی، جبکہ میٹ رینشا نے 61 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی تاہم دیگر بلے باز نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ایلکس کیری 19، جوش انگلس 13 اور میتھیو کوہنیمن 24 رنز بنا سکے جبکہ مارنس لبوشین، کیمرون گرین اور تنویئر سنگھا بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا کے بلے باز زیادہ مزاحمت نہ کر سکے، جس کے باعث وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں اور ٹیم بڑا سکور کھڑا کرنے میں ناکام رہی۔مڈل آرڈر میں مختصر مزاحمت کے باوجود ٹیم ایک بڑے مجموعے تک نہ پہنچ سکی اور پوری اننگز 200 رنز پر سمٹ گئی۔
اسطرح شاہینوں نے میزبان کنڈیشنز اور نئے ٹیلنٹ اور تجربہ کے مکسچر کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اولین مءچ میں فتح سمیٹی پاکستانی ٹیم جب اپنے ردھم میں ہوتی ہے تو پھر کسی بھی بڑی ٹیم کے لیے اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس میچ سے ایک چیز جو سامنے آئی وہ نیا ٹیلنٹ ہے جسے بھرپور مواقع کی ضرورت ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے