#کالم

عیدقربان و حج بیت الللہ

Untitled 13

(شاہد بخاری)
17رمضان8ھجری کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،مرالظہران سے مکہ روانہ ھوئے ۔حجون میں مسجد فتح کے پاس حضرت زبیر نے فتح کا جھنڈا گاڑا۔وھاں سے رسول
پاک مسجد حرام کے اندر تشریف لائے،بیت الللہ کا طواف کیا ۔پھر قریش سے مخاطب ھو کر فر مایا” الللہ کے سوا کوئی معبود نھیں۔وہ تنہا ھے ،اس کا کوئی شریک نھیں،اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔پھر49:13 کی تلاوت فرمائی ۔۔اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ھے۔الحجرات13
۔۔۔میں تم سے وھی بات کہہ رھا ھوں جو حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی،آج تم پر کوئی سرزنش نھیں،جاوء تم سب آزاد ھو”
6شوال تک آپ مکہ میں رھے،پھر حنین کی طرف روانہ ھوئے،غزوہ طائف میں کامیابی کے بعد جعرانہ میں اموال غنیمت کی تقسیم کی۔پھر وھیں سے عمرہ کا احرام باندھا،عمرہ ادا کیا۔حضرت عتاب بن اسید کو مکہ کا والی بناکر مدینہ روانہ ھو گئے۔24 ذی قعد 8 ھجری کو مدینہ منورہ واپس پہنچے ۔
ذی قعد9ھجری کو رسول پاک نے مناسک حج قائم کرنے کی غرض سے حضرت ابوبکر کو امیر حج بنا کر روانہ کیا۔
سورہ توبہ/براءت کے ابتدائی حصے میں مشرکین سے کئیے گئے عہدو پیمان کو برابری کی بنیاد پر
ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا تب آپ نے حضرت علی کو مکہ روانہ کیا کہ وہ یہ اعلان کر دیں۔خون اور مال کے عہد و پیمان کے ضمن میں اھل عرب کا یہی دستور تھا کہ متعلقہ شخص یا تو خود اعلان کرے یا اپنے خاندان کے کسی فرد سے اعلان کرائے۔
حضرت ابوبکر نے حج کرایا۔
سورہ بقر کی آیت 196اور سورہ حج کی آیات 28 و 33 کے مطابق قربانی، حاجی پر فرض ھے۔دسویں تاریخ یوم قربانی پر حضرت علی نے جمرہ کے پاس کھڑے ھو کر اعلان کردیا کہ عہد شکنی کرنے والوں سے عہد ختم کر دیا گیا ھے۔البتہ جن مشرکین نے مسلمانوں سے عہد نبھانے میں کوتاہی نہیں کی اور نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد کی ان کا عہد طے کردہ مدت تک برقرار رھے گا۔ 10 ھجری میں آپ حج بیت الللہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔اور خطبہ حجتہ الوداع میں15 سو برس قبل حقوق انسانی کا جو چارٹرپیش کیا،اس کے کچھ جملے آخیر میں ملاحظہ فرمائیں ۔
11ستمبر(نائین الیون) 2001ء کے بارے میں کچھ لوگوں کی توجیہ یہ ہے کہ امریکی سازش کے تحت اس نے نیو یارک کے جڑواں ٹاورز پر خود حملے کروائے تھے،تاکہ ان کی آڑ میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو تباہ کیا جاسکے۔
مگر کیوں؟ان دانشوروں کے خیال میں امریکی اور ان کے حلیف حج کے سالانہ اجتماع سے خوف زدہ ھیں۔
وہ سمجھتے ھیں کہ اس عالم گیر اجتماع کے ذریعے دنیا بھرکے مسلمان متحد ھو رھے ھیں،جو ان کے لئیے خطرے کی بات ھے۔انھیں یہ یقین کامل تھا کہ2002ء
میں حج کے موقعے پر امریکہ وھاں بمباری کروائے گا۔
راقم ان سے متفق اس لئیے نھیں تھا کہ ھم وھاں متحد ھو نے اور کچھ سیکھنے سکھانے تھوڑا جاتے ھیں،ھم تو صرف طواف کرنے(خانہ کعبہ کے چاروں طرف چکر لگانے)اور ثواب ھی ثواب سمیٹنے میں مصروف رھتے ھیں۔ھمارے پاس تو اتنا ٹائم بھی نھیں ھوتا کہ کسی گرے ھوئے کو اٹھا سکیں، ابتدائی طبی امداد دے سکیں۔کسی بھٹکے ھوئے کو اس کے مکتب تک پہنچا سکیں.
مناسک حج سیکھنے کے لئیے ھماری حکومت نے انتظامات کر رکھے ھیں، جو کچھ ھم نعتوں اور قوالیوں کے درمیان سیکھ آتے ھیں۔لیکن مناسک کا مطلب بہت کم کو معلوم ھے۔اس کا مطلب ھے پرستش،پارسائی، پہناوے کو دھونا،پاک کرنا۔ھم صرف آب زم زم ھی سے پہناوے کو دھو دھو کر پاک کرتے رھتے ھیں،رزق حلال سے اسے پاک کرنے کا کبھی سوچا ھی نھیں۔
مناسک،نسک کی جمع ھے، جس کا ایک مطلب گھر کی صحیح اور خوبصورت روش پر چلنا اور قائم رھنا صحیح راہ پر،بھی ھے۔صراط مستقیم پر ھم کتنے ھیں؟
پریشانوں کی پریشانی دور کرنے کا ھمارے پاس وھاں ٹائم ھی نھیں ھوتا
کیوں کہ حرم میں دونفلیں پڑھ کر ھم کئی لاکھ نفلوں کا ثواب سمیٹنے میں مصروف ھوتے ھیں۔علامہ اقبال نے کتنا درست فرمایا تھا کہ:
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
ھم نے قربانی کو صرف جانوروں ھی کی قربانی تک ھی محدود کر رکھا ھے۔ اسوہء ابراھیم سے تو یہ ثابت ھو رھا ھے کہ وہ اپنی سب سے قیمتی چیز،بڑھاپے کا سہارا،الللہ کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ھو گئے تھے۔ھم میں سے کتنے ھیں جو الللہ کی راہ میں،الللہ کی مخلوق کے لئیے،اپنی بہترین چیز قربان کرنے کو تیار رھتے ھیں۔ھم کشادہ سڑکوں پر گاڑیوں کو تو راستہ تک نھیں دیتے۔سست ترین قوم روڈذ پر چست نظر آتی ھے۔جلد بازی میں ٹریفک جام کرواکے،گھنٹوں لوگوں کو پریشان رکھتی ھے۔
اس دوران بجائے گانے سننے کے، اگر قرآن مجید کی سورہء حج کا ترجمہ ھی سن لیں،اس کے احکا مات کو سمجھ لیں تو کیا ھی اچھا ھو۔
یہ وہ واحد سورت ھے،
جس میں دو سجدے ھیں۔
پہلی ھی آیت میں قیامت کے زلزلے کی شدت اور اس کی ہولناکی سے ہمیں ڈرایا گیا ہے ہم روز قیامت کے حساب کتاب کے بجائےکس سے ڈرتے ہیں؟ یہ ہمیں بھی پتہ ہے اور ہم پر حکومت کرنے والوں کو بھی ۔کاش
حکمران الللہ سے ڈریں، اس کی مخلوق کے حقوق ادا کریں۔انھیں با عزت رھنے دیں۔انھیں تحفظ دیں۔جتنا
اپنی آسائشات اور تحفظ پر ٹیکسوں کا پیسہ خرچ کرتے ھیں آگر اس کا بیس واں
حصہ بھی عوام کے لئیے مختص کر دیں تو وہ تا حیات حکمرانی کے مزے لوٹ سکتے ھیں۔
تیسری آیت میں ھے کہ الللہ کے بارے میں بعض لوگ باتیں بناتے ھیں،بے علمی کے ساتھ اور ھر سرکش،شیطان کی پیروی کرتے ھیں۔حا لا ں کہ ھمیں صرف الللہ ھی کے احکامات کی پیروی کرنا چاھئیے،جو اس کی مخلوق کے فائدے کے لئیے ھیں۔دراصل ھم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے