#کالم

عید الاضحیٰ اور ہماری مذہبی و سماجی ذمہ داریاں

Untitled 17 1

تحریر فیصل زمان چشتی

​عید الاضحیٰ صرف ایک تہوار یا روایتی خوشی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم الشان تاریخی قربانی ، بے مثال وفاداری، اور اطاعتِ الٰہی کی یادگار ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم تسلیم و رضا کی یاد دلاتا ہے جب ایک باپ نے خدا کے حکم پر اپنے لختِ جگر کی گردن پر چھری چلانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ بقول علامہ اقبال ۔

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

​اسلام میں عبادات محض ظاہری رسومات کا نام نہیں ہوتیں بلکہ ہر عبادت کے پیچھے ایک گہرا فلسفہ، اخلاقی درس اور سماجی مقصد چھپا ہوتا ہے۔ عید الاضحیٰ کا بنیادی مقصد انسان کے اندر تقویٰ اور ایثار کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ​عید الاضحیٰ کے ایام جہاں ہمارے لیے خوشی اور مسرت کا پیغام لاتے ہیں وہیں ہم پر انفرادی، سماجی، اخلاقی اور ماحولیاتی سطح پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کرتے ہیں۔ ​عید الاضحیٰ کا آغاز انفرادی اصلاح اور مذہبی احکامات کی درست بجا آوری سے ہوتا ہے۔ ​کسی بھی عمل کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ قربانی کا جانور خریدنے سے لے کر اس کا گوشت تقسیم کرنے تک، تمام مراحل میں نیت صرف اور صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ اجتناب کریں کہ جانور کی قیمت، اس کا وزن یا اس کی خوبصورتی کو دوسروں پر رعب جمانے یا فخر و بڑائی کا ذریعہ بنایا جائے دل میں یہ احساس بیدار رہے کہ اگر اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ بھی دینا پڑے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ​قربانی کے جانور کے انتخاب اور ذبح کے طریقوں میں شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ​جانور ہر قسم کے عیب (اندھے پن، لنگڑے پن، شدید بیماری یا کمزوری) سے پاک ہو۔ ​ذبح کرتے وقت تیز چھری کا استعمال کیا جائے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔ ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے سے گریز کیا جائے۔ ​9 ذوالحج کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز میں مردوں کے لیے اور دھیمی آواز میں خواتین کے لیے تکبیرِیں پڑھنا واجب ہے۔ یہ عید کے دنوں میں اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔​عید الاضحیٰ کا سب سے خوبصورت پہلو اس کا سماجی نظام ہے۔ یہ تہوار امیر اور غریب کے درمیان حائل فرق کو ختم کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ​شرعی طور پر قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک حصہ اپنے لیے، ایک رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے اور ایک حصہ غریبوں اور مساکین کے لیے۔ معاشرے میں بہت سے سفید پوش لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سال بھر گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہیے کہ گوشت ان کے گھروں تک عزتِ نفس مجروح کیے بغیر پہنچایا جائے۔
بعض لوگ قربانی کا گوشت مہینوں کے لیے فریج اور ڈیپ فریزر میں ذخیرہ کر لیتے ہیں، جبکہ ان کے پاس پڑوس میں لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ عمل قربانی کی روح کے منافی ہے۔ ​عید کا دن دلوں کی دوریوں کو مٹانے کا دن ہے۔ اگر کسی رشتہ دار یا دوست سے کوئی رنجش ہے، تو اس عید پر پہل کر کے اسے ختم کریں۔ رشتہ داروں کے گھر جائیں، انہیں قربانی کے گوشت کا تحفہ دیں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ ​معاشرے کے وہ لوگ جو مانگ نہیں سکتے لیکن شدید معاشی تنگی کا شکار ہیں، ان کی خاموشی سے مدد کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گوشت دیتے وقت ان کی عزتِ نفس کا خاص خیال رکھا جائے اور تصویریں یا ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے مکمل پرہیز کیا جائے
​ہمارے معاشرے میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جو سب سے بڑی غفلت دیکھنے کو ملتی ہے، وہ صفائی ستھرائی کے نظام کی ابتری ہے۔ اسلام نے صفائی کو "نصف ایمان” قرار دیا ہے، لہذا اس موقع پر ماحولیاتی ذمہ داریاں دگنی ہو جاتی ہیں۔ ​جانور ذبح کرنے کے بعد خون اور آلائشوں کو گلی محلوں میں کھلا چھوڑ دینا سخت گناہ اور سنگین سماجی بے حسی ہے۔ ذبح کرنے کی جگہ کو فورا پانی سے دھوئیں اور خون پر مٹی، ریت یا چونا ڈالیں تاکہ بدبو نہ پھیلے اور تعفن پیدا نہ ہو۔ آلائشوں کو پلاسٹک کے بڑے تھیلوں میں بند کر کے بلدیہ کے مقرر کردہ کچرا دانوں یا گاڑیوں کے حوالے کریں۔ انہیں ندی نالوں یا سیوریج لائنوں میں ہرگز نہ بہائیں، کیونکہ اس سے پورا نکاسیِ آب کا نظام بلاک ہو جاتا ہے۔
​اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ گلیوں کے بیچ و بیچ تنبو لگا کر جانور باندھ دیتے ہیں یا وہیں ذبح کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے آمد و رفت معطل ہو جاتی ہے ۔ یاد رکھیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ اس کے برعکس، خود راستے میں رکاوٹ بننا کسی طور جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مریض یا ایمبولینس وہاں سے گزرنا چاہے تو اسے راستہ ملنا چاہیے ۔ ​عید الاضحیٰ سادگی کا درس دیتی ہے۔ مہنگے سے مہنگے جانوروں کی نمائش کرنا، ون ویلنگ کرنا، یا عید کی راتوں میں ہلڑ بازی کرنا اسلامی تعلیمات کے یکسر خلاف ہے۔ خوشی ضرور منائیں، لیکن مہذب اور شائستہ طریقے سے ۔ ​عید الاضحیٰ محض ایک سالانہ تہوار نہیں بلکہ یہ ایک مومن کی زندگی کی تجدید کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بھی معاشرے، ملک یا دین کو ہماری جان، مال یا وقت کی قربانی کی ضرورت پڑے، تو ہم ابراہیمی جذبے کے ساتھ لبیک کہیں۔ ​اگر ہم عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنی انفرادی، سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں گے ​تو معاشرے سے مایوسی اور غربت کا خاتمہ ہوگا ​ہمارے گلی محلے صاف ستھرے اور بیماریوں سے پاک رہیں گے ​اور سب سے بڑھ کر ہماری یہ قربانی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکے گی۔
​آئیے اس عید پر عہد کریں کہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے