فکرِ اقبال کا عالمی سفیر : ڈاکٹر عبدالروف رفیقی (ستارۂ امتیاز)
تحریر: ندیم اختر غزالی
ڈاکٹر عبدالروف رفیقی صاحب کی علمی و ادبی قدر و منزلت، اُن کی گراں قدر تحقیقی خدمات اور اقبالیات پر غیرمعمولی دسترس سے ناچیز اگرچہ مدتِ دراز سے آگاہ تھا، مگر جب حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُنہیں ”ستارۂ امتیاز“ جیسے عظیم قومی اعزاز سے سرفراز کیے جانے کا اعلان ہوا تو اُن کی شخصیت کو قریب سے جاننے اور اُن کی بصیرت افروز گفتگو سننے کی خواہش مزید مہمیز پا گئی۔ خوش قسمتی سے ایک سرکاری تقریب میں اُن سے بہ نفسِ نفیس ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور پہلی مرتبہ اُن کے فکرانگیز خطاب کو براہِ راست سننے کا نادر اور یادگار موقع بھی میسر آیا۔
اس تقریب میں اگرچہ راقم کو بھی اظہارِ خیال کا موقع ملا، تاہم جونہی ڈاکٹر رفیقی صاحب مائیک کے روبرو آئے تو محفل کا رنگ و آہنگ یکسر تبدیل ہوگیا۔ اُن کی پُراثر گفتگو، عالمانہ اسلوبِ بیان، فکرِ اقبال پر عمیق دسترس اور دلنشیں طرزِ تکلم نے حاضرین کو مسحور کر لیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا گویا الفاظ نہیں، بل کہ عشقِ اقبال کی کوئی تابناک اور روح پرور دھارا سامعین کے قلوب میں اُتر رہی ہو۔ اُن کے خطاب نے نہ صرف محفل کو علمی وقار اور فکری عظمت سے ہمکنار کیا بل کہ حاضرین کے اذہان و قلوب پر ایسا گہرا اور دیرپا نقش ثبت کیا کہ ہر شخص اُن کی علمی رفعت، فکری بصیرت اور وسعتِ نظر کا معترف دکھائی دیتا تھا۔
اگرچہ اُن کی گفتگو کا دورانیہ مختصر تھا، لیکن اس قلیل وقت میں بھی ڈاکٹر عبدالروف رفیقی صاحب نے جس سحرانگیز انداز سے حضرتِ علامہ محمد اقبالؒ، فکرِ اقبال، فلسفۂ خودی، عشقِ رسول ﷺ اور ملتِ اسلامیہ کے فکری زوال و احیاء جیسے عمیق موضوعات پر اظہارِ خیال کیا، اُس نے پوری محفل پر ایک دل آویز روحانی و فکری کیفیت طاری کر دی۔ اُن کی گفتگو میں علم کی سنجیدگی بھی تھی، عشق کی وارفتگی بھی، تحقیق کی پختگی بھی اور فکر کی تابندگی بھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے حضرتِ اقبالؒ کی فکری شمع اُن کے باطن میں پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں ہو اور اُس کی ضیا محفل میں موجود ہر دل و دماغ کو منور کر رہی ہو۔
ڈاکٹر رفیقی جب حضرتِ اقبالؒ کے اشعار کی تشریح کر رہے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فکرِ اقبال کے سربستہ راز یکے بعد دیگرے وا ہوتے چلے جا رہے ہوں اور معانی و اسرار کی نئی نئی جہتیں منکشف ہوتی جا رہی ہوں۔ اُن کے الفاظ میں ایک عجب سوز و تاثیر پنہاں ہے؛ اُن کے لب و لہجے میں ایسی دل آویزی، روانی اور فکری حرارت پائی جاتی ہے کہ سامع محض اشعار کی تشریح نہیں سنتا بل کہ خود کو اقبالؒ کے فکری و روحانی جہان کے ایک دل نشیں اور روح پرور سفر میں شریک محسوس کرنے لگتا ہے۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اقبالؒ کی شاہین صفت فکر بلند فضاؤں میں محوِ پرواز ہو اور کبھی ایسے لگتا ہے جیسے عشقِ رسول ﷺ کی حرارت سامعین کے قلوب میں ایمان و محبت کی نئی شمعیں روشن کر رہی ہو۔
اُن کی شخصیت کا سب سے دلنشیں اور متاثرکن پہلو یہ ہے کہ وہ محض ایک محقق، مقرر یا مصنف نہیں بل کہ حضرتِ اقبالؒ کے پیغام کے حقیقی داعی، مفسر اور امین دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی گفتگو میں تصنع، بناوٹ یا خطیبانہ نمود کا شائبہ تک محسوس نہیں ہوتا بل کہ اخلاص، سادگی، علمی وقار اور فکری سوز کی ایسی دل آویز کیفیت جلوہ گر ہوتی ہے جو براہِ راست دلوں میں اُترتی چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں سننے والا محض متاثر ہی نہیں ہوتا بل کہ اُس کے باطن میں فکری بیداری، تہذیبی شعور اور اقبالؒ کے پیغام کو سمجھنے کی ایک نئی امنگ بھی جنم لینے لگتی ہے۔
رفیقی صاحب کی گفتگو اگرچہ پہلی مرتبہ سماعت کرنے کا موقع ملا تھا، مگر اُن کے اندازِ بیان، وسعتِ مطالعہ اور فکری گہرائی کو سن کر فوراً یہ احساس دل میں جاگزیں ہو گیا کہ آپ بلاشبہ حضرتِ اقبالؒ اور کلامِ اقبال پر ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ اقبالیات، فارسی ادب، پشتو ادب، اردو ادب اور برصغیر کی فکری و تہذیبی روایت پر اُن کی گہری نگاہ اور حیرت انگیز دسترس سامع کو پہلی ہی نشست میں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اُن کے اندازِ گفتگو میں محض معلومات کی فراوانی ہی نہیں بل کہ ایک صاحبِ مطالعہ محقق، درد مند مفکر اور سچے عاشقِ اقبال کی فکری حرارت اور قلبی وارفتگی بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اُن کی گفتگو سننے کے بعد دلوں میں حضرتِ اقبالؒ سے محبت کے چراغ پہلے سے کہیں زیادہ فروزاں، تابندہ اور پُرنور محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اُنہیں سننا گویا فکرِ اقبال کے ایک زندہ، متحرک اور نور آفریں جہان میں چند لمحے بسر کرنے کے مترادف ہے، جہاں سامعین رفتہ رفتہ ایک نئی فکری دنیا میں داخل ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالروف رفیقی صاحب کا بلوچستان کے نسبتاً پسماندہ مگر تہذیبی و غیرت مند خطے چمن/پشین سے اُٹھ کر اقبال اکیڈمی پاکستان جیسے عظیم علمی و فکری ادارے کے ڈائریکٹر کے منصب تک پہنچنا اور دنیا بھر میں اقبالیات کے حوالے سے شہرت پانا یقیناً اُن کے والدین کی دعاؤں، اپنی شب و روز کی محنتِ شاقہ اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر رفیقی صاحب نے اپنی علمی و تحقیقی زندگی کو جس اخلاص اور فکری سنجیدگی کے ساتھ اقبالیات کے لیے وقف کیا، اُس نے انہیں نہ صرف پاکستان بل کہ بین الاقوامی علمی حلقوں میں بھی ایک معتبر اور مستند اقبال شناس کے طور پر متعارف کرایا۔
اقبال اکیڈمی پاکستان کی ہیئتِ حاکمہ کا دو مرتبہ رکن منتخب ہونا، اکیڈمی کی تاحیات رکنیت حاصل کرنا اور پھر اسی عظیم ادارے کے ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہونا اُن کی علمی عظمت، انتظامی بصیرت اور فکری وقار کا روشن اعتراف ہے۔ مزید برآں، اقبال اکیڈمی کی جانب سے انہیں ”سفیرِ اقبال برائے ایران، افغانستان، ترکی اور وسطی ایشیا“ کا اعزازی خطاب عطا کیا جانا اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ وہ فکرِ اقبال کے عالمی سفیر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر رفیقی محض حضرتِ اقبالؒ کی شاعری کے شارح نہیں بل کہ وہ حضرتِ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی، ملتِ اسلامیہ کے تصور، روحانی فکر، مشرقی تہذیب اور انسانی بیداری کے پیغام کے ایک گہرے نباض بھی ہیں۔ افغانستان، ایران، وسطی ایشیا اور برصغیر میں اقبالیاتی روایت پر اُن کی تحقیق نہایت عمیق اور وسیع المطالعہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی فکری و تحقیقی تسلسل میں انہوں نے افغانستان کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جب کہ اُن کا تحقیقی مقالہ ”افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت“ علمی حلقوں میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ اس تحقیق نے نہ صرف افغانستان میں فکرِ اقبال کے اثرات کو اجاگر کیا بل کہ برصغیر اور وسطی ایشیا کے فکری و تہذیبی رشتوں کو بھی ایک نئے زاویے سے متعارف کرایا۔
ڈاکٹر رفیقی صاحب کی خدمات کا ایک نہایت شاندار اور تاریخی پہلو دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں ”اقبال چیئرز“ کے قیام کے لیے اُن کی مسلسل جدوجہد اور عملی کردار بھی ہے۔ اُنہوں نے فکرِ اقبال کو محض کتابوں اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رکھا بل کہ عالمی جامعات اور علمی مراکز تک پہنچانے کے لیے قابلِ قدر، مؤثر اور دور رس کوششیں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے مختلف خطوں میں اقبالؒ کے افکار پر علمی مکالمے، تحقیقی سرگرمیاں اور اقبالیاتی مطالعات ایک نئی توانائی اور فکری تازگی کے ساتھ فروغ پا رہے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالروف رفیقی صاحب کی مذکورہ بالا علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُنہیں ”ستارۂ امتیاز“ سے سرفراز کیا جانا بلا شبہ قابلِ صد تحسین امر ہے۔ یہ اعزاز دراصل اُن کی علم و تحقیق، فکرِ اقبال اور تہذیبی شعور سے بے لوث وابستگی، مسلسل علمی ریاضت اور فکری اخلاص کا برملا اعتراف ہے اور وہ اہلِ پاکستان کی جانب سے دلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اُن کی شخصیت بلاشبہ علمی و ادبی دنیا کے لیے باعثِ اعزاز اور ارضِ پاک کے لیے قیمتی سرمایۂ افتخار ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے علم، فکر اور قلم میں مزید تاثیر، وسعت اور برکت عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح فکرِ اقبال کی شمع فروزاں رکھتے ہوئے نسلِ نو کے اذہان و قلوب کو منور کرتے رہیں۔






