#کالم

قربانی ایک بڑی سعادت  تو صفائی عین عبادت ہوتی ہے ! 

Untitled 5 1

احساس کے انداز تحریر ؛۔ جاویدایازخان ​

آج صبح ستھرا پنجاب کےہمارے علاقے کے  سپروائزر  محمد امین صاحباپنے عملہ کے ہمراہ  تشریف لاۓ اور ایک بڑا سا  مگر مضبوط شاپر بیگ دیا اور ساتھ ہی ستھرا پنجاب کی جانب سے ہدایات نامہ بمعہ ضروری فوں نمبرز کے دیا ۔مجھے بہت اچھا لگا کہ وہ نہ صرف گھر گھر یہ بیگ پہنچا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ تحریری و زبانی ہدایات بھی دۓ رہے ہیں کہ قربانی کی آلائشوں کو اس بیگ میں ڈال کر انہیں فون کردیں ۔وہ درخواست کر رہے تھے کہ اپنے علاقے کو جانوروں کے فضلوں اور آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے ان کے دئے گئے فون نمبرز پر اطلاع دی جاۓ ۔کہتے ہیں کہ ہر اچھے کام کی تعریف کرنا اچھے کام کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوتا ہے ۔اس لیے میں ستھراپنجاب کی اس کاوش کو سراہانہ اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔”شکریہ ستھرا پنجاب  "قربانی ایک بڑی سعادت ہے تو صفائی عین عبادت ہوتی ہے "۔

عیدالضحیٰ  "یعنی بڑی عید کی آمد آمد ہے ۔ بازاروں اور منڈیوں کی رونق بڑھتی جارہی ہے ۔لوگ قربانی کی سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لی تیاریاں کر رہے ہیں ۔جانوروں کی خریداری  اور قربانی کے جانوروں کی خدمت عروج پر ہے ۔بچے گلیوں میں اپنے اپنے جانور لیے گھوم رہے ہیں ۔لوگوں نے اپنے اپنے جانور کئی کئی دن سےاپنے گھروں کے سامنے  گلیوں میں باندھ رکھے ہیں ۔مسجد میں ہر نماز کے بعد امام صاحب جو بہت قابل اور سمجھدار عالم دین ہیں قربانی کے مسائل بیان کر رہے ہیں ۔لوگوں کے ذہنوں میں قربانی کے بارے میں جنم لینے والے سوالات کا جواب بھی دے رہے ہیں ۔اور قربانی کی کھالوں کے عطیہ کرنے  کی تلقین بھی فرما رہے ہیں ۔ فطرے کا تعین بھی کیا جارہا ہے ۔پچھلے دن قربانی کس کس پر واجب ہے اس موضوع پر بڑی طویل  تقریر سننے کو ملی  جو یقینا” سب کے علم میں اضافے کا باعث بنی ۔قربانی کے جانور کی خصوصیات اور خوبیوں کا بیان بھی سنا ۔ قربانی کرنے کے طریقہ کار  کا تذکرہ بھی ہوا ۔آج جب ہمارے گلی محلے اور کوچے جانورں سے بھرے پڑے ہیں یہ کبھی نہیں سنا کی گلیوں اور محلوں میں جانور باندھنے سے چارے اور فضلے کی گندگی نہ پھیلانا اور پھر اسے صاف کرنا بھی قربانی کا حصہ ہوتا ہے ۔ان جانوروں کی آمدورفت سے انسانی راستوں کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہورہے ہیں ۔ بعض اوقات تو گاڑیوں کو راستہ بھی نہیں مل پاتا ۔ پچھلے دنوں ایک بیل رسی تڑا کر بھاگ گیا تھا  ۔تو پورا محلہ اسے قابو کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ۔اس کے باوجود اس نے کئی لوگوں کو زخمی کردیا تھا ۔ایسے واقعات روز اخبارت اور سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ذبح کے دوران بھی اناڑی قصائیوں کے ہاتھوں جانور دوڑنے کے واقعات دیکھنے میں آے ٔ ہیں ۔یاد رہے کہ قرربانی کے بعد فضلہ سڑک ،گلی یا نالی میں پھینک دینا بھی ہماری قربانی کو متاثر کر سکتا ہے ۔اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے ۔تو پھر یہ سب کیوں ہوتا ہے ؟ ہم اگر عیدالضحیٰ کے تہوار کو نظم وضبط اور انتظام سےمنائیں اور چلائیں تو کاروبار بھی بڑھتا ہے ،غریبوں تک گوشت بھی پہنچتا ہے  اور گندگی بھی نہیں پھیلے گی ۔جسکا تعفن بےشمار بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔قربانی کےتقدس کا تقاضہ ہے کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اسکی باقیات کو مٹی میں دفن کردیا جاۓ یا پھر صفائی کے فرائض ادا کرنے والے اداروں کے سپرد کردیا جاےُ۔قربانی کا خون گلی کی نالیوں  اورگٹروں میں نہ بہایا جاۓ ۔اس سے بیماریاں پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔سنا ہے کہ اس مرتبہ  شہری آبادی میں سری پاۓ جلانے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عملداری ہو پاتی ہے یا نہیں ؟ راستے میں رکاوٹ ڈالنا جس سے عام چلنے والے کو تکلیف ہو بذات خود ایک گناہ ہے ۔اس لیے سنت ابراہیمی کو صرف سر کا بوجھ سمجھ کر نہ اتاریں بلکہ اس نیک مقصد کا کا پورا پورا اہتمام کریں ۔شاہراہوں ،گلیوں اور محلوں میں آلائش ،خون اور گندگی پھینک کر  اللہ کے حکم اور نبی کریم کی سنت سے انحراف نہ کریں ۔ یہ تہوار ہمیں حضرت ابراہیم  علیہ وسلام اور اسماعیل علیہ وسلام  کی یاد دلاتا ہے اور ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے ست دریغ نہ کریں ۔گو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر قربانی واجب ہے لیکن یہ بھی دیکھنا  اور خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہمارے کسی ایسے عمل سے کسی کو تکلیف یا دلاآزاری  نہ ہونے پاۓ ۔اس بارے میں ہمیں خود انفرادی اور اجتماعی طور پر  اور   ہمارے پرنٹ والیکٹرک میڈیا ،مسجد ومنبرکو خصوصی طور پر اس بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی بڑی اہمیت ہے ۔تاکہ یہ بات باور کرائی جاسکے کہ قربانی سنت ابراہیمی ہے مگر صفائی بھی نصف ایمان ہے ۔ماحول کی صفائی کے اثرات پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں ۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کےتمام پہلوں کا احاطہ کرتا ہے خواہ اس کا تعلق باطنی زندگی سے ہو یا پھر دنیاوی زندنگی سے ہو ۔پاکیزگی ،طہارت اور صفائی کو قرآن و حدیث مین بہت اہمیت دی گئی ہے ۔صفائی کو زندگی کے ہر شعبہ میں اولیت دی گئی ہے ۔اسی لیے صفائی کو نصف ایمان  قرار دیا جاتا ہے ۔ان پر توجہ دینا بھی بےحد ضروری ہے ۔

عید کے اس مبارک موقعہ پر اپنے شہر ،گلی ،محلے کی صفائی کا خیال رکھنا صرف حکومتی ادروں یا شہر کی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی یا ستھرا پنجاب ہی کی ذمہ داری نہیں ہے یہ ہماری قربانی کا بھی اہم حصہ  ہوتا ہے ۔بلدیہ اور ستھرا پنجاب کے عملہ سے تعاون کرکے ہم اپنے حصے کا فرض ادا کرسکتے ہیں۔بہاولپور اس معاملے میں ہمیشہ سرفہرست رہا ہے یہا ں کی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی ہمیشہ مثالی رہی ہے ۔ان کے کیمپوں سے آلاشوں کے لیے فری ویسٹ بیگ دستیاب ہوتے ہیں ۔جو بآسانی وصول کئے جاسکتے ہیں ۔عید اور عید کے دوسرے دن ان کی گاڑی اور عملہ ایک ٹیلی فون کال پر  موقعہ پر پہنچ جاتا ہے ۔ہم نے صرف اطلاع دینے کا اپنا اخلاقی فرض ادا کرنا ہے ۔جہاں یہ سہولت موجود نہیں ہے وہاں مٹی کھود کر آلائشوں کو دبایا جاسکتا ہے ۔براےکرم آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کو بھی قربانی کا حصہ سمجھا جاۓ ۔اپنے شہر علاقے گلی محلے کو صاف  ستھرا رکھنا ہم سب کی  مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ہماری صفائی کے متعلقہ اداروں سے بھی اپیل ہے کہ   گرمی کی شدت اور آلودگی کو ذہن میں رکھتے ہوے حسب  سابق اس عیدالضحیٰ پر بھی صفا ئی کے  پلان  پر موثر انداز میں عملدرآمد کیا جاے ۔ تاکہ شہریوں کو تعفن سے پاک ایک خوشگوار ماحول کی فراہمی ممکن ہو سکے ۔ یہاں بہاولپور   ویسٹ مینجمنٹ کمپنی یا ستھرا پنجاب کی سابقہ کارکردگی کو سر اہا ء  جانا بھی ضروری ہے جسکی بدولت بہاولپور ہمیشہ پنجاب بھر میں اول پوزیشن لیتا رہا ہے ۔توقع ہے کہ یہ اپنی سابقہ روایت برقرار رکھے گا ۔ایک سب سے بڑا مسئلہ عید کے دنوں میں جانوروں کی شہر کے اندر چھوٹی چھوٹی منڈیوں کا ناجائز قیام ہوتا ہے ،پورے شہر میں جانور بیچنے والے اپنے جانور لیے پھر رہے ہوتے ہیں جو گندگی اور ماحول کی خرابی کا باعث بن جاتے ہیں ۔ اس طرح کی عارضی منڈیوں کا سدباب  اور انہیں شہر سے باہر منتقل کرنا بھی ریاستی ذمہ داری ہے ۔ایک اہم چیز کا ذکر کرنا بھی بےحد ضروری ہے کہ اس دوران بیوپاریوں اور خریداروں کی جیب کٹنے کے علاوہ  جانوروں کی رہزنی اور ڈاکا ز نی اور چوری کی واردتیں بھی بڑھ جاتی ہیں ۔اس لیے سیکورٹی کے بہتر اورسخت اقدامات کا خیال رکھنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ایسے میں بینکوں نے منڈیوں میں موبائل بینکنگ سسٹم کا آغاز کردیا ہے ۔رقم کا لین دین بحفاظت طریقے سے انجام دیں اور اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں ۔دوسری جانب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی کیو آر کوڈ جاری کردئے ہیں ۔یقینا” ڈیجیٹل بینکنگ کا فائدہ تبھی ممکن ہے جب ہم اسے اپنائیں ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے