#کالم

نشے کا جال، طاقت کا غرور اور معاشرے کی خاموش تباہی

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
کراچی کی چمکتی سڑکوں، بلند عمارتوں اور رات گئے تک جاگتی محفلوں کے پیچھے ایک ایسی تاریک دنیا بھی آباد ہے جس کا زہر خاموشی سے پورے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ یہ دنیا صرف منشیات فروشوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے دھاگے طاقتور حلقوں، دولت مند طبقات، بااثر بیوروکریٹس، سیاستدانوں، شوبز شخصیات اور بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے اداروں تک جا پہنچتے ہیں۔ حالیہ دنوں “انمول عرف پنکی” کی گرفتاری نے اسی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔ ایک ایسی خاتون جو بظاہر عام دکھائی دیتی تھی مگر جس کے تعلقات اور اثر و رسوخ کی کہانیاں سن کر عام آدمی حیران رہ جاتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اس کے نیٹ ورک کے خریدار صرف گلی محلوں کے نشئی نہیں تھے بلکہ معاشرے کے وہ طبقے بھی اس زہر کے عادی تھے جو خود کو اشرافیہ کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی گرفتاری کے وقت بھی پروٹوکول، نرمی اور غیر معمولی رویے کی باتیں زیرِ گردش رہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک خاتون پکڑی گئی، اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جو ایسے لوگوں کو قانون سے بالاتر سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے؟
پاکستان میں منشیات کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ یہ ناسور کئی دہائیوں سے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ پہلے افیون اور چرس تک محدود رہنے والی لعنت اب آئس، کوکین، ہیروئن اور کیمیکل ڈرگز کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خوفناک بات یہ ہے کہ اب اس کے شکار صرف جرائم پیشہ افراد نہیں بلکہ یونیورسٹیوں کے طلبہ، پوش علاقوں کے نوجوان، اعلیٰ خاندانوں کے بچے اور سوشل میڈیا کی رنگین دنیا سے متاثر نسل بھی بن رہی ہے۔ منشیات اب غربت کی نہیں بلکہ “فیشن” اور “اسٹیٹس” کی علامت بنائی جا رہی ہیں۔
انمول عرف پنکی جیسے کردار دراصل کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے سماج کی تلخ حقیقت ہیں۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ دولت، تعلقات اور سیاسی پشت پناہی کے ذریعے بہت کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اکثر ایسے ملزمان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ چند فون کالز، چند سفارشیں اور کچھ طاقتور ہاتھ ان کے گرد حصار بن جائیں گے۔ یہی احساسِ تحفظ انہیں مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب قانون صرف کمزور کے لیے رہ جائے اور طاقتور کے لیے نرم پڑ جائے تو معاشرے کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک غریب نوجوان اگر معمولی جرم میں پکڑا جائے تو مہینوں جیل میں سڑتا ہے، مگر بااثر افراد کے لیے الگ راستے نکل آتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار عوام کے دلوں میں ریاست کے لیے مایوسی پیدا کرتا ہے۔ قانون کی اصل طاقت اس کی برابری میں ہوتی ہے، اگر انصاف صرف غریب کے لیے ہو اور طاقتور محفوظ رہیں تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ اخلاقی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
شوبز اور سوشل میڈیا کی دنیا بھی اس مسئلے میں کسی حد تک ذمہ دار دکھائی دیتی ہے۔ نوجوان نسل جب چمکتی زندگیوں، مہنگی پارٹیوں، رات بھر جاری محفلوں اور مصنوعی آزادی کو کامیابی سمجھنے لگتی ہے تو وہ حقیقت اور تباہی کے درمیان فرق بھول جاتی ہے۔ کچھ لوگ نشے کو “ماڈرن لائف اسٹائل” بنا کر پیش کرتے ہیں۔ نوجوان متاثر ہوتے ہیں اور پھر ایک تجربہ آہستہ آہستہ عادت اور بعد میں بربادی بن جاتا ہے۔ کئی گھر اجڑ جاتے ہیں، کئی مائیں اپنے بچوں کی لاشوں پر روتی ہیں، مگر منشیات کا کاروبار چلتا رہتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے صرف جرائم پیشہ لوگ نہیں بلکہ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کا گٹھ جوڑ کھڑا ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں پہلے ہی بے روزگاری، ذہنی دباؤ، مہنگائی اور مایوسی بڑھ رہی ہو، وہاں منشیات نوجوانوں کے لیے ایک خاموش خودکشی بن جاتی ہیں۔ ایک نوجوان جو مستقبل کا معمار ہونا چاہیے، وہ نشے کی دلدل میں گر کر اپنے خاندان کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ والدین اپنی جمع پونجی علاج پر لگا دیتے ہیں، بہن بھائی ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں، اور پورا گھر ٹوٹنے لگتا ہے۔ لیکن منشیات فروشوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے لیے انسان نہیں صرف پیسہ اہم ہوتا ہے۔
اگر واقعی ریاست اس لعنت کو ختم کرنا چاہتی ہے تو پھر صرف چھوٹے کارندوں کو پکڑنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ان بڑے نیٹ ورکس تک پہنچنے کی ہے جو پردے کے پیچھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، وہ افسران جو آنکھیں بند کرتے ہیں، وہ شخصیات جو اس زہر کی مارکیٹنگ کا حصہ بنتی ہیں، سب کو قانون کے سامنے جوابدہ بنانا ہوگا۔ اگر چند نمایاں اور بااثر افراد کو واقعی سخت سزا مل جائے تو شاید دوسروں کے لیے مثال قائم ہو سکے۔
دنیا کے کئی ممالک میں منشیات کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں۔ کہیں عمر قید، کہیں سزائے موت اور کہیں مکمل سماجی بائیکاٹ تک کی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی قانون موجود ہے، مگر اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے۔ جب تک سفارش، رشوت، سیاسی مداخلت اور طاقتور طبقات کی حفاظت ختم نہیں ہوگی، تب تک یہ جنگ ادھوری رہے گی۔
معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ والدین کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہوگی، تعلیمی اداروں کو کردار سازی پر توجہ دینا ہوگی، میڈیا کو سنسنی کے بجائے آگاہی دینی ہوگی، اور علماء و دانشوروں کو نوجوان نسل کو امید، مقصد اور اخلاقی طاقت دینی ہوگی۔ کیونکہ صرف پولیس کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں، اصل جنگ ذہنوں اور اقدار کی ہوتی ہے۔
انمول عرف پنکی کی گرفتاری اگر واقعی انصاف کی طرف ایک قدم ہے تو پھر اسے انجام تک پہنچنا چاہیے۔ اگر یہ معاملہ بھی چند دن خبروں میں رہ کر خاموش ہو گیا، اگر طاقتور ہاتھ پھر حرکت میں آ گئے، اگر ایک بار پھر قانون کمزور پڑ گیا، تو یہ صرف ایک ملزم کی رہائی نہیں ہوگی بلکہ پورے معاشرے کو یہ پیغام ملے گا کہ طاقتور لوگ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے