پانڈا بانڈ،مہنگائی اورمعاشی اصلاحات
اقبال کھوکھرقلم کافرض
چین دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان نے کامیابی سے چین کی مالیاتی مارکیٹ میں اپنا پہلا ”پانڈا بانڈ“ جاری کیا ہے۔ابتدائی طور پر 25کروڑ ڈالر کے تقابل 1.75 ارب یوان بانڈز جاری کیے گئے۔گو کہ یہ ایک قرض حاصل کرنے کی آسان شکل ہے مگر بانڈز انتہائی کم شرح سود یعنی 2.5 فیصد پر حاصل ہوئے ہیں اور ان بانڈز کی میچورٹی مدت 3 سال ہے۔عالمی اور چینی سرمایہ کاروں نے اس حوالے سے جس غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا وہ حوصلہ افزاء امر ہے یعنی پاکستان کو اس وقت تک تقریباً 9ارب یوان کی آفرز مل چکی ہیں۔اس اقدام سے پاکستان کے لیے قرض حاصل کرنے کے ذرائع وسیع ہوئے ہیں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی معاشی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔حکومت کی یہ کاوش یقینی طور پر معاشی ثمرات کا سبب بنے گی۔ امید ہے کہ اس کی مذید رسائی سے پاکستان کے اقتصادی تناؤ میں بہتری آسکتی ہے مگر اس کے لئے ہماری معاشی پالیسیوں میں اصلاحاتی پہلو ؤں پر غور کرنا ہوگا۔
گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بنک کے گورنر جمیل احمد نے ایک کاروباری تقریب میں بتایا کہ مہنگائی کی شرح ابھی مزید بڑھے گی اور اگلے سال جولائی کے بعد قدرے صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ملک کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کے سربراہ کا یہ کہنا صرف خبر نہیں بلکہ ایک تشویشناک وارننگ ہے جو چھوٹے بڑے سب کاروباری حلقوں کے لئے اس وقت زیادہ پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ خام مال مہنگا ملنے سے ان کی پیداوارمہنگی ہوجاتی ہے اورشرح منافع کم ہی نہیں، رسک میں بھی چلا جاتا ہے۔مہنگے میٹریل سے تیار اشیاء پر ریاست کی طرف سے لگائے گئے ٹیکسز کی بھرمار نے مہنگائی کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ کررکھا ہے اور عوام کی قوت خرید متاثر ہورہی ہے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والے کم سٹاف،بے تحاشا بلز، پٹرولیم اخراجات اورغیر ضروری ٹیکسز کے باعث پریشان نظر آتے ہیں۔ ملک کے کم وبیش تمام تجارتی وکاروباری اداروں میں اس حوالے سے فورمز ہو رہے ہیں۔عام آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کا پٹہ گلے میں پہنے فٹ پاتھ پر بیٹھا ہے اس کے لئے کچن سے باہر آنا ہی مشکل ہوگیا ہے۔
ایف بی آر نے پچھلے سال گیارہ سو کے قریب مہنگی اور جدید گاڑیاں صرف اس لئے حاصل کی تھیں کہ سٹاف کو ٹیکسز کی ریکوری کے لئے گاڑیوں کی کمی کا سامنا ہے مگر ایف بی آر کی پالیسیوں اور اہداف پر نظر ڈالیں تو ان حالات میں ان کا زیادہ زور غریب اورچھوٹے کاروباری افراد پر رہا ہے جبکہ وہ خودمہنگی قیمتی گاڑیوں میں تقریبات اور عیش کرتی نظر آتی ہیں۔ایف بی آر ٹیکس کے وہ اہداف حاصل کرنے سے قاصر ہے جو مطلوبہ اہداف اس نے عوام کے سامنے رکھے تھے۔آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستانی حکمرانوں کو گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ششماہی اضافہ کرنے اور16ہزار کے لگ بھگ ٹیکس اکٹھا کرنے کی تجویز دیتے ہوئے 400ارب سے زائد اضافی ٹیکس لگانے، ٹیکس نظام کی شفافیت،نیب کی مکمل خودمختاری سمیت متعدد شرائط رکھی ہیں جس سے عام آدمی کی معاشی زندگی متاثر ہوگی۔آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ہی عوام پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ مزید بڑھایاگیااور آئندہ مالی سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1727 ارب روپے وصول کیا جائے گا۔
غریب آدمی پٹرولیم سے بھی پس رہا ہے اور ٹیکسز سے بھی۔ جائے تو جائے کہاں؟۔ کیونکہ جب پٹرول مہنگا ہو تو ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے مگر اس تلخ حقائق کے اندر بھی کرپشن کے ہی جراثیم موجود ہیں جن کو دور کیا جانا بہت ضروری ہے۔چیک اینڈ بیلنس سسٹم، دیانتداری اور پیشہ وارانہ مہارت سے توجہ کا متقاضی ہے۔پٹرول بڑھنے سے جہاں ایک فیصد مہنگائی ہوتی ہے کئی موقع پرست لوگ اسی بنیاد بنا کرکئی فیصد مزید مہنگائی کردیتے ہیں جو عوام سے اوجھل رہتی ہے۔مصنوعی قلت،بے تحاشہ ٹیکسز اوراشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ بھی مہنگائی کا سبب ہیں۔پٹرولیم کے مہنگے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور کیرج فاصلے سے بھی پٹرول مہنگا کرنا پڑتا ہے۔آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود ہم جو آبنائے ہرمز کے بالکل قریب ہیں مگر پٹرول پھر بھی مہنگا جبکہ جو ممالک آبنائے ہرمز سے کوسوں دور ہیں وہاں اب بھی پٹرولیم مصنوعات ہم سے سستی ہیں۔ایسا کیوں ہے؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں اور ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے اور یہ آئی ایم ایف کی شرائط میں بھی شامل ہے۔ہمیں ٹیکس ریکوری سسٹم میں یکساں اور متوازن ٹھوس اقدامات اٹھانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے اور اس طرح کی پالیسیاں وضح کرنی چاہیے جس سے عام آدمی پر زندگی آسان ہو اور اس پر معاشی بوجھ کم سے کم ہو۔جب تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقہ کے لئے آسانیاں پیدا نہیں کی جائیں گی تب تک ملک میں معاشی استحکام لانا مشکل ہے۔






