#چیف ایڈیٹر

". معرکہ حق

Untitled 1 1

صفدر علی خاں

بنیان المرصوص ایڈیشن چند سرخیاں "معرکہ حق”

66545 2

بنیان المرصوص "جب افواج اور قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی”

سیسہ پلائی دیوار : پاکستان کا اصل چہرہ

بنیان المرصوص : وہ تاریخی لمحات جب لفظ ،دعا اور تلوار یکجا ہوۓ

آپریشن بنیان مرصوص کا ایک تاریخی سال مکمل

لیڈز

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے وطنِ عزیز کو بھارت کیخلاف معرکے میں سرخرو کیا

دہشتکردی جیسے ناسور سے پاکستان کو پاک کرنے کے لیے ریاستی اداروں نے مثالی عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا

معرکہ حق کے دوران افواجِ پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے جس جرات، مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ یہ صرف ایک محاذ کی کامیابی نہ تھی بلکہ یہ واضح پیغام تھا کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت مضبوط ہاتھوں میں ہے اور دشمن کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔

بنیان المرصوص : جب ملک کے صحافیوں نے سچ کو ہتھیار بنایا اور افواہوں کے اندھیروں میں روشنی کی شمع جلائے رکھی۔ شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے قلم کو تلوار بنا کر قوم کے حوصلوں کو لفظوں کی طاقت سے جِلا بخشی، جبکہ گلو کاروں اور صدا کاروں کی آوازیں ریڈیو اور اسکرینوں سے امید، حوصلہ اور ولولہ جگاتی رہیں۔جب سرحدوں پر توپوں کی گھن گرج تھی تو سڑکیں عوامی نعروں سے گونج رہی تھیں اور قوم ثابت کر رہی تھی کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں جو اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

“بنیان المرصوص” صرف ایک فوجی حکمتِ عملی نہ رہی، بلکہ ایک زندہ حقیقت بن گئی ۔ایک ایسی سیسہ پلائی دیوار جس میں فوج کی قوت، عوام کا اتحاد، صحافت کی سچائی، ادب کی روشنی، آوازوں اور ترانوں کی گونج، طلبہ کا شعور اور خواتین کی دعائیں سب یکجا ہو کر نصرتِ الٰہی کی صورت ڈھل گئیں۔

پاکستان کو اقوام عالم میں تنہاء کرنے کا ہر حربہ ناکام بنانے پر سول وعسکری قیادت کو قوم کا خراج تحسین

ڈیک 1

معرکہ حق پاکستانی موقف کی عالمی پذیرائی اور سچائی کی جیت ہے جس میں افواج پاکستان نے بھارتی جنگی جنون کا منہ توڑ جواب دیا۔

ڈیک 2

پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قوم جانتی ہے کہ داخلی و خارجی چیلنجز کے اس دور میں اتحاد، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی ہی اصل قوت ہے

ابتدائیہ

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور طاقت کی نئی صف بندیوں کے اس دور میں ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ کمزور اور منتشر قومیں تاریخ کے صفحات میں صرف ایک عبرت بن کر رہ جاتی ہیں، جبکہ متحد اور منظم قومیں "بنیان المرصوص” بن کر ہر طوفان کا مقابلہ کرتی ہیں۔ "بنیان المرصوص” — یعنی سیسہ پلائی دیوار — محض ایک قرآنی تشبیہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل نظریۂ حیات ہے، جو ہمیں اتحاد ، نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کا درس دیتا ہے۔ آج جب امتِ مسلمہ کو اندرونی اختلافات اور بیرونی خطرات کا سامناہے،توضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات، گروہی تعصبات اور وقتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط دیوار کی مانند یکجا ہوں۔

مئی 2025 کی تپتی فضاؤں میں جب بزدل اور ناپاک دشمن نے غرور کی آگ بھڑکائی تو افواج پاکستان کی جانب سے “آپریشن بنیان المرصوص (معرکۂ حق)” ایک ایسی صدا بن کر ابھرا جس میں ہماری افواج کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے دلوں کی دھڑکنیں شامل تھیں۔ یہ صرف سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ نہ تھی، یہ دلوں، لفظوں اور ارادوں کی ہمہ گیر جدوجہد تھی جو میدانوں ،فضاوں اور سمندروں میں بھی یکساں دکھائی دی اور جہاں ہر طبقہ اپنی جگہ ایک مورچہ بن گیا تھا۔

میدانِ کارزار میں پاکستانی افواج فولاد کی طرح ڈٹی رہیں تو فضاوں میں ہمارے شاہینوں کی حکمرانی تھی تو سمند ر میں ہمار ی بحریہ کا راج دکھائی دیا -حوصلے بلند، نگاہیں مقصد پر اور قدم حق کی طرف اٹھے تو ایسے میں ان کے پیچھے کھڑی پوری قوم بھی کسی سپاہ سے کم نہ تھی ۔عوام نے اتحاد اور یکجہاتی کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ ہر گلی، ہر شہر ہر قصبہ ،ہر کوچہ و بازار ،ایک دعا اور ایک عزم میں ڈھل گیا۔بہادر افواج کے شانہ بشانہ پوری قوم بزدل دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔

ملک کے صحافیوں نے سچ کو ہتھیار بنایا اور افواہوں کے اندھیروں میں روشنی کی شمع جلائے رکھی۔ شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے قلم کو تلوار بنا کر قوم کے حوصلوں کو لفظوں کی طاقت سے جِلا بخشی، جبکہ گلو کاروں اور صداکاروں کی آوازیں ریڈیو اور اسکرینوں سے امید، حوصلہ اور ولولہ جگاتی رہیں۔جب سرحدوں پر توپوں کی گھن گرج تھی تو سڑکیں عوامی نعروں سے گونج رہی تھیں اور قوم ثابت کررہی تھی کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں ۔

طلبہ نے اپنے جوش اور شعور سے سوشل میڈیا اور علمی حلقوں میں سچ کا پرچم بلند رکھا اور نڈر خواتین جو ماں، بہن اور بیٹی کی صورت دعاؤں، حوصلوں اور عملی کردار کے ساتھ اس جدوجہد کا سب سے مضبوط سہارا بن گئیں۔ کسی نے اپنے بیٹے کو رخصت کرتے ہوئے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں بدلا، تو کسی نے خدمت کے میدان میں خود کو وقف کر دیا۔

یوں “بنیان المرصوص” صرف ایک فوجی حکمتِ عملی نہ رہی، بلکہ ایک زندہ حقیقت بن گئی۔ایک ایسی سیسہ پلائی دیوار جس میں فوج کی قوت، عوام کا اتحاد، صحافت کی سچائی، ادب کی روشنی، آوازوں اور ترانوں کی گونج، طلبہ کا شعور اور خواتین کی دعائیں سب یکجا ہو کر نصرتِ الٰہی کی صورت ڈھل گئیں۔

یہ فتح صرف ہتھیاروں کی نہیں تھی، یہ ایک قوم کے دل، دماغ اور روح کی جیت تھی۔ایسی جرات مندانہ جیت جسے تاریخ ہمیشہ عزت اور فخر سے یاد رکھے گی۔دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیکر اور اسکے جدید ترین آٹھ طیارۓ زمین بوس کرکے پاکستانی افواج اور قوم نےاپنے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک اور قوم ہے مگر اس کی امن پسندی کو کمزوری ہرگز نہ سمجھا جاۓ ۔پاکستان کی مسلح افواج ہمہ وقت تیار ہیں

". معرکہ حق

ملی نغمہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے