مشرق وسطی کی صورت حال سے توانائی کا بحران
أج کا اداریہ
چین نےاعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل خریدنے کے الزام میں نشانہ بنائی گئی پانچ کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کی تعمیل نہیں کرینگے۔چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، خاص طور پر چھوٹی اور آزاد ریفائنریوں کے ذریعے جنھیں ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریفائنریاں کم قیمت پر فروخت ہونے والے ایرانی خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔
امریکہ، جو ایران کی آمدنی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نے ان قسم کی ریفائنریوں کے خلاف پابندیاں سخت کر دی ہیں۔چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی ان پر عمل درآمد یا ان کی تعمیل نہیں کرنی چاہیے۔وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں ’چینی کمپنیوں کو دیگر ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی، تجارتی اور متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے سے غیر منصفانہ طور پر روکتی یا محدود کرتی ہیں، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
امریکہ، جو ایران کی آمدنی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نے ان قسم کی ریفائنریوں کے خلاف پابندیاں سخت کر دی ہیں۔چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی ان پر عمل درآمد یا ان کی تعمیل نہیں کرنی چاہیے۔وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں ’چینی کمپنیوں کو دیگر ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی، تجارتی اور متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے سے غیر منصفانہ طور پر روکتی یا محدود کرتی ہیں، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔وزارت نے مزید کہا: ’چینی حکومت ہمیشہ ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں لگائی جاتیں۔اس فیصلے میں پانچ چینی کمپنیوں کا ذکر ہے: تین صوبہ شینڈونگ میں اور دو دیگر، جن میں ہینگلی پیٹروکیمیکل ریفائنری (ڈالیان) اور ہیبے ژنہائی کیمیکل گروپ شامل ہیں۔گذشتہ روز واشنگٹن نے ایک اور چینی کمپنی پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی کہ اس نے ایرانی خام تیل کے ’کروڑوں بیرل‘ درآمد کیے اور ایران کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کی۔چین کی وزارتِ تجارت کے بیان میں اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے، اور فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کا تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی میں چینی رہنما شی جن پنگ سے مذاکرات کے لیے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔امریکہ۔ایران کی جنگ سے کوئی حقیقی فاتح نہیں نکلا، البتہ أبنائے ہرمزکی بندش میں بڑی تیل کمپنیاں ناقابل یقین منافع کمارہی ہیں۔یہ ہرسیکنڈمیں 3 ہزارڈالر ہے۔آکسفیم انٹرنیشنل کا تخمینہ ہے کہ،عالمی سطح پرشہریوں کو گھریلو توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ایندھن کی قلت کے بالکل برعکس دنیا کی چھ سب سے بڑی فوسل فیول کمپنیاں 2026 میں 94 ارب ڈالر کا منافع کمائیں گی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں روزانہ 37 ملین ڈالر اضافے کے برابر ہے۔اس رپورٹ نے قابل تجدید توانائی کے لیے فنڈز فراہم کرنے اور کمزور برادریوں کی مدد کے لیے ونڈ فال ٹیکس لگانے کے مطالبات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔آکسفیم انٹرنیشنل کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، چھ بڑی فوسل فیول کمپنیاں یورون، شیل، بی پی، کونوکو فلیپس، ایکسون موبائل، اور ٹوٹل انرجیز 2026 میں مجموعی طور پر 94 ارب ڈالر کا منافع کما لیں گی، جو ہر سیکنڈ میں2 ہزار 967ڈالر کے برابر ہے۔آکسفیم اس بے پناہ منافع کا موازنہ اس امر سے کرتی ہے کہ یہ رقم تقریباً 5 کروڑ افریقیوں کو سولر پاور (شمسی توانائی) فراہم کرنے کے قابل ہےتیل کی کمپنیاں آسمان چھوتی قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، لیکن امریکہ اور دیگر ممالک میں گھرانے ریکارڈ سطح کی ایندھن کی قیمتوں، بجلی کی مہنگی بلوں اور مہنگائی سے دوچار ہیں۔ امریکہ کی کم خرچ والی ایئر لائنز نے جیٹ فیول کی قیمتوں میں 88 فیصد اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت سے2اعشاریہ 5ارب ڈالر کی امداد طلب کی ہے، کچھ ایئر لائنز دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا توانائی درآمد کنندہ، مشرق وسطیٰ کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس تنازع سے مضبوط پوزیشن میں نکل سکتا ہے۔اس نے تیل کے بحران کو نسبتاً اچھی طرح برداشت کیا ہے۔ اس نے پچھلے دس سال میں تیل کے بڑے ذخائر بنائے، درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنایا اور بجلی کی طرف منتقلی تیز کی، جو گھریلو توانائی کے ذرائع کوئلہ اور قابل تجدید توانائی سے چلتی ہے۔ یہ اسے بلند تیل کی قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دے رہا ہے۔ مستقبل میں یہ چین کے سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی طلب میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ سفارتی زاویہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین اس جنگ کی وجہ سے امریکہ کی ساکھ کوپہنچنے والے نقصان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔تیل کی آسمان چھوتی قیمتوں کی وجہ سے دنیا بھر میںزندگی مہنگی ہو رہی ہے، مگر تیل اور قدرتی گیس کی کمپنیاں بہت بڑا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔شیورون، شیل، بی پی، کونوکو فلیپس، ایکسون اور ٹوٹل انرجیز سب بلند تیل کی قیمتوں کی وجہ سے بہت بڑے منافع کما رہی ہیں۔ آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ان چھ کمپنیوں کے اس سال 94 ارب ڈالر منافع کی توقع ہے۔مگر ان بلند منافعوں کی وجہ سے متعدد ممالک میں ان کمپنیوں پر ونڈ فال ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ بحران فوسل فیول کو مزید ناپسندیدہ بنا رہا ہے اور قابل تجدید توانائی کو زیادہ پرکشش بنا رہا ہے، جو فوسل فیولز کے زوال کو تیز کر سکتا ہے۔ تیل کا عالمی بحران متعدد ممالک میں صاف توانائی کی طرف منتقلی کی خواہش کو مزید بڑھا رہا ہے۔یورپی کمیشن نےفوسل فیول قیمتوں کے دھچکوں سے عوام کو بچانے اور گھریلو قابل تجدید توانائی






