#کالم

عنوان: ٹرمپ کی اداکاری

new desing gfdeyu

کالم نگار: میاں اسامہ صادق

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ کسی سیاسی مہم سے زیادہ ہالی ووڈ کی کسی سنسنی خیز ایکشن فلم کا اسکرپٹ معلوم ہوتی ہے، جہاں ہر موڑ پر ایک نیا ڈرامہ، ایک نیا حادثہ اور ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ ٹرمپ محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ وہ عوامی نفسیات کے نبض شناس ہیں جو جانتے ہیں کہ کب اور کیسے عوام کے جذبات کو اپنے حق میں موڑنا ہے۔ پچھلے انتخابات کے دوران جب ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے گر رہا تھا اور جیت کے تمام امکانات معدوم نظر آ رہے تھے، تو اچانک ایک انتخابی مہم کے دوران سنائپر سے ان پر گولی چلوا دی گئی۔ یہ منظر اس قدر فلمی تھا کہ گولی بالکل ٹھیک وقت پر ان کے کان کو چھو کر گزری، جس سے نہ صرف ان کی جان بچ گئی بلکہ وہ راتوں رات ایک "زندہ بچ جانے والے ہیرو” کے طور پر ابھرے۔ امریکی عوام، جو جذباتی فیصلوں میں دیر نہیں لگاتے، اس مبینہ حملے کے بعد ہمدردی کی لہر میں بہہ گئے اور ٹرمپ کو دوبارہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔
​لیکن اقتدار کا یہ راستہ اتنا سادہ نہیں تھا۔ جیسے ہی جفری ایپسٹین کی بدنام زمانہ فائلز منظرِ عام پر آئیں، ٹرمپ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگا۔ ان فائلوں میں موجود سنگین الزامات، جن میں کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی جیسے گھناؤنے فعل شامل تھے، نے پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ ٹرمپ کے لیے اس اخلاقی دلدل سے نکلنا ناممکن نظر آ رہا تھا، مگر یہاں ایک بار پھر ان کی "ہوشیاری” کام آئی۔ عوام کا دھیان اس شرمناک اسکینڈل سے ہٹانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں آگ لگا دی گئی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کو اس حد تک بڑھایا گیا کہ پوری دنیا کی توجہ ایپسٹین فائلز سے ہٹ کر ممکنہ عالمی جنگ کی طرف چلی گئی۔ ٹرمپ نے خود کو اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ثابت کرنے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دی، اور یوں وہ سنگین الزامات سیاست کی دھول میں کہیں گم ہو گئے۔
​کھیل یہیں ختم نہیں ہوا۔ حال ہی میں جب ایران کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ٹرمپ کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف خود امریکی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور ان کے اپنے ملک میں ان کے خلاف بغاوت کی بو آنے لگی، تو ٹرمپ کو اپنی کرسی ہلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اپنی عوام کے احتجاج کو کچلنے اور دوبارہ مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کے لیے ایک بار پھر وہی پرانا نسخہ آزمایا گیا۔ کل رات ان پر ہونے والا "حملہ” دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے تاکہ عوام کا رخ احتجاج سے ہٹا کر ایک بار پھر ہمدردی کی طرف موڑ دیا جائے۔ یہ سارا منظر نامہ اس قدر ترتیب یافتہ ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص اقتدار کی ہوس میں کس حد تک جا سکتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کے اوراق ایسے مکار سیاست دانوں سے بھرے پڑے ہیں جنہوں نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر حکومت کی، مگر جب قدرت کا انصاف حرکت میں آتا ہے تو پھر نہ کوئی اسکرپٹ کام آتا ہے اور نہ ہی کوئی فلمی چال۔ جس طرح وہ معصوموں کی زندگیوں اور عالمی امن کے ساتھ کھیل رہے ہیں، اس کا انجام انشاء اللہ عبرت ناک ہی ہوگا، کیونکہ ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے