#کالم

امریکی سیاسی و عسکری نفسیات تیسری اور آخری قسط

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
افتخار عارف کے اس شعر کا بھرپور اطلاق ان دنوں عالمی و علاقائی سیاسی بحران پر ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ امریکہ -ایران کشاکش وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے اور تاریخ و سیاست کے تجزیہ کاروں اسی تناسب سے الجھانے لگی ہے ۔ صدر ٹرمپ جتنی تیزی سے خلیجی بساط پر چالیں بدل رہے ہیں اس نے مبصرین کو مخمصے میں ڈالتے ہوئے منقسم بھی کر دیا ہے ۔اب بیشتر سینئیر تجزیہ نگاروں کے مطابق اس جنگ کی آڑ میں عالمی معیشت کے ساتھ ایک خوفناک کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ صاحب کے ایک بیان سے اچانک دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینجز اچانک دھڑام سے گرتی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اتنا ہی اضافہ ہو جاتا ہے ۔ پھر ایک آدھ دن کے بعد انھی ٹرمپ صاحب کے بالکل متضاد بیان سے عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر الٹا اثر بھی یک دم ہوتا ہے ۔
اس کے ساتھ متعدد ایسی رپورٹس بھی موجود ہیں جن سوشل میڈیاپر لوگ امریکی صدر کے بیانات کی پیش گوئی پر لاکھوں ڈالر کی شرطیں لگا کر ہار جیت کے کھیل میں مصروف رہتے ہیں ۔ پوری دنیا کے اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں تو معاملہ اربوں ڈالر تک جا پہنچتا ہے . اس جنگ کے صرف ابتدائی ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خسارے کی رقم کھربوں ڈالر بنتی ہے ۔اتنے چونکا دینے والے اعداد و شمار سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مالیاتی ہلچل سے کہیں کچھ مخصوص شخصیات / ادارے غیرمعمولی طور پر مستفید تو نہیں ہو رہے ۔ تاہم نفع نقصان کے اس عظیم کھیل اور اس سے جُڑے خدشے سے امریکہ کی سیاسی و عسکری نفسیات کے معاشی پہلو کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے ۔
جنابِ ٹرمپ کے متضاد بیانات کو نہ تو مضحکہ خیز قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ یہ ہی فرض کیا سکتا ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین سربراہِ مملکت یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان بیانات کو مضحکہ خیز سمجھے جانے کی صورت میں اس کی مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہا ہے ، مسلسل ایسے بیانات کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔ اب دو مرتبہ ٹرمپ صاحب نے مذاکراتی وفد کو پاکستان بھیجنے کا اعلان کر کے عین وقت پر یہ فیصلہ منسوخ کرنا کسی طور بے معنی نہیں ہے ۔ ذرا غور کریں تو یہ تمام بیانات اور اقدامات ایک نفسیاتی کھیل کے عکاس ہیں جو دینا کی سب سے بڑی قوت بوکھلاہٹ میں نہیں بلکہ نہایت شاطرانہ انداز میں کھیل رہی ہے۔ یہ میدانِ جنگ کی صدیوں پرانی حکمتِ عملی کی تجدید ہے جس میں حریف اپنی فوج کو پسپائی کی اداکاری کامظاہرہ کرنے کا کہتا ہے اور اس طرح ملنے والے وقفے میں اپنی اگلی حکمتِ عملی تشکیل دینے میں مصروف ہو جاتا ہے ۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی جوابی جنگی کاروائی کا اچھی طرح اندازہ لگا کر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے جتنا وقت ملا اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران اور پوری دنیا کو ایک عجیب الجھن میں ڈال کر سب کو “ گُویم مشکل و گر نگویم مشکل “ کی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے ۔اب دنیا بھر کے اخبارات ، جرائد ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر تجزیہ کاروں کا ایک سیلاب آ گیا ہے جو کبھی یکایک ایک تیز ریلا بن جاتا ہے تو کبھی پرسکون دریا دکھائی دینے لگتا ہے ۔ عام لوگ اور صائب الرّائے افراد سب سے زیادہ اس بات پر حیران ہیں کہ دنیا کی تمام بڑی معیشتیں اتنے عظیم خسارے برداشت تو کر رہی ہیں لیکن مل کر امریکہ پر اتنا شفارتی دباؤ کیوں نہیں ڈال رہیں کہ امریکہ-ایران تنازعہ پرامن اور باوقار طریقے سے ختم ہو جائے ۔ سپر پاورز کی یہ نفسیاتی برتری ان کی غیرمعمولی اقتصادی ، سیاسی اور عسکری کے بنیادی عناصر میں شامل ہوتی ہیں ۔ یعنی دنیا کی اکثریت ان کی نفسیات کو پوری طرح سمجھ ہی نہیں پاتی جس کے نتیجے میں امن کے عظیم مقصد پر مبنی بھی کوئی موثر اتحاد بننا مشکل ہوتا ہے ۔ فی الوقت تو سیاست کے اس نفسیاتی کھیل میں تازہ ترین اضافہ صدر ٹرمپ پر ناکام قاتلانہ حملے کی صورت ہوا ہے۔

امریکی سیاسی و عسکری نفسیات تیسری اور آخری قسط

عنوان: ٹرمپ کی اداکاری

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے