ایرانی وزیر خارجہ کا سہہ ملکی دورہ
أج کا اداریہ
ایران کے وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی ایک بار پھر پہنچے ہیں پاکستان جہاں ایک بار پھر سفاتکاری کی میز سج گئی ہے۔قبل از یں انکی وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سمیت دیگر پاکستانی حکام سے ملاقاتیں ہوئی تھیں جس میں جنگ کے بعد پیداشدہ صورت حال اور ممکنہ مستقل جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیاتھا جسکے بعد وہ عمان روانہ ہوگئے تھے شیڈول کے مطابق ایرانی وفد نے عمان کے بعد روس جانا تھا، تاہم اب عراقچی پاکستان کے بعد روس جائینگے انکے وفد کا کچھ حصہ تہران چلا گیا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاملات پر مشاورت اور رہنمائی لے سکیں، یہ وفد اتوار کی شب عراقچی کو دوبارہ جوائن کر لے گا، دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ کے روز ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی،تقریباً پچاس منٹ تک جاری رہنے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کیلئے عزم کا اظہارکرتے ہوئے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، شہباز شریف کا کہنا ہے ایرانی صدر مسعود پپزشکیان سے تعمیری گفتگو ہوئی، دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنرکا دورہ پاکستان منسوخ کردیا،انہوں نے کہا کہ جب تمام کارڈز ہمارے پاس ہے تو امریکی وفد 18گھنٹے کی پرواز سے وہاں جاکربےمقصد باتوں کیلئے نہیں بیٹھے گا، تاہم دورے کی منسوخی کا مطلب جنگ دوبارہ شروع کرنا نہیں،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین شخصیات ہیں، پاکستان نے ایران امریکا تنازع حل کرانے کیلئے بہترین کام کیا،ٹرمپ نے کہا کہ یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ سے متعلق ایران کا ’اصولی مؤقف‘ پاکستان کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، ’’ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکا واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے۔‘‘انہوں نے کہا فیلڈ مارشل سے ملاقات میں مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد نے ہفتہ کی سہ پہر وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ میں ملاقات کی تفصیل بتانے سے گریز کیاگیا اور صر ف ایک جملہ تحریر کیا گیا کہ ملاقات میں خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ تاہم ایرانی نیوز ایجنسی ارنا نے اس ملاقات کے بارے میں قدرے تفصیل سے خبر جاری کی ہے۔ ارنا کے مطا بق ایران کے وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ایک سرکاری ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات، علاقائی پیشرفت اور اسلام آباد کی سفارتی کوششوں سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے ایران پاکستان تعلقات، علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے بالخصوص جنگ کو مکمل طور پر روکنے کیلئے جاری سفارت کاری پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حالیہ علاقائی دوروں اور مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ حالیہ پیش رفت پر مشاورت اور ثالثی کیلئے اسلام آباد کی کوششوں کے بارے میںآگاہ کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی مختصر وفد کےہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔ ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سیکورٹی اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں قومی سلامتی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کا یہ پہلا اہم ورکنگ سیشن تھا، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔ فریقین نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئے مستقبل میں بھی مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔دریں اثناء امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنرکا دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مبنی دو رکنی امریکی وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ امریکی وفد آج پاکستان کیلئے روانہ ہونا تھا تاہم اب امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے دورہ اسلام آباد منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وٹکوف اور کشنرکا دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔ ان کا کہنا تھاکہ اس جنگ میں تمام کارڈز امریکا کےپاس ہیں، ایرانی جب چاہیں کسی بھی وقت امریکا سے بات کرسکتے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھاکہ جب تمام کارڈز ہمارے پاس ہیں تو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے 18 گھنٹے کا طویل سفر کرنا فائدہ مند نہیں، امریکی وفد 18 گھنٹے کی پرواز سے وہاں جاکربےمقصد باتوں کیلئے نہیں بیٹھے گا۔دریں اثناء غیرملکی میڈیاکے مطابق پاکستانی حکام کو توقع ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی دیگر دو ممالک کا دورہ مکمل کڑکے دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد اسوقت عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ






