امریکہ۔ایران مذاکرات اور متضاد بیانات
أج کا اداریہ
ایران کی جنگ میں سنجیدگی سے دور اور متضاد بیانات کی بھرمار کے بعد غیر معینہ فائربندی کا اعلان کرکے امریکی صدرنے خود کومقابل کے سامنے کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔سفارتی اور تزویراتی ماہرین کا تاثر ہے کہ شایدوہ ایکسپوزہوگئے ہیں۔
امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور ’ایران کی فوج اور پولیس شکایت کر رہے ہیں کہ انھیں تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے تو ایران فوری طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ہے۔یہ اُس آبنائے ہرمز کی بات ہو رہی ہے جو بحری تجارت کا انتہائی اہم راستہ ہے اور ایران، امریکہ جنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے اس آبنائے کو بند کیا، تو امریکی صدر بارہا اسے کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے
ابتدا میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو بذریعہ طاقت کھلوانے کے لیے نیٹو ممالک سے مدد کرنے کا مطالبہ بھی کیا، لیکن اس حوالے سے ناکام رہنے پر خود امریکی افواج نے اس کی ناکہ بندی کر دی۔
ایران کی جانب سے ہرمز کی بندش امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے منسلک بحری جہازوں کے لیے تھی، تاہم امریکہ کی جانب سے کی گئی ناکہ بندی اُن تمام بحری جہازوں کے لیے ہے جو ایران کی بندرگاہوں کو جا رہے ہیں یا وہاں سے نکل رہے ہیں۔
21 اپریل کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بحری ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے ایسے 28 بحری جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا جو ایران جا رہے تھے یا ایرانی بندرگاہوں سے نکل رہے تھے۔
جب تک آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایران کے ہاتھ میں تھی، یہ اس کے پاس جنگ میں سب سے اہم پتہ تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق جب امریکہ نے بحری ناکہ بندی کا یہی قدم اٹھایا ہے تو سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا آبنائے ہرمز بند رکھنے کا داؤ اب ایران پر ہی الٹا پڑ گیا ہے؟اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہونے کے باوجود جنگ بندی تو برقرار ہے اور ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل امریکہ ناکہ بندی ختم کرے۔ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے، جبکہ ٹرمپ یہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی عندیہ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ اور جنگ بندی کے باوجود، ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب نے بدھ (22 اپریل) کو تین مال بردار بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں اور دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔یوں جہاں تک آبنائے ہرمز کا تعلق ہے تو وہاں نہ تو معاملات سلجھتے نظر آتے ہیں، اور نہ ہی آگے بڑھتے نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور اسے معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ ٹرمپ اس بندش کو ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں اور ہتھیار کے طور پر ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کا مطلب ہے ’وہ جنگ ہار رہے ہیں۔‘
ٹرمپ کے مطابق ’چار روز پہلے چند لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے، لیکن اگر ہم نے ایسا کر دیا تو کبھی بھی ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہو سکے گی۔‘
ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کو پیسے نہیں کمانے دیں گے، (ایسا نہیں ہو سکتا کہ) وہ جس کو پسند کرتے ہیں اسے تیل فروخت کریں اور جن کو ناپسندکرتے ہیں ان کو نہیں۔ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ’ناکہ بندی کا تسلسل (ایران پر) بمباری سے مختلف نہیں۔
ماھرین کے مطابق امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کی معاشی ناکہ بندی کے مترادف ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔تاہم امریکی صدر کے متضاد بیانات سے کشیدگی کو بڑھاوادے رہے ہیں۔
برطانوی اخبار ’’ گارڈین ‘‘ کے مطابق ،ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں،حقارت اورمتکبرانہ بیانات کا امتزاج، اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات میں اتنی ہی بڑی رکاوٹ بن گیا ہے جتنی ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی۔
ایرانی وزارت خارجہ جتنا بھی اصرار کرے کہ وہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے بارے میں سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ہر بیان (جو کبھی کبھی دن میں سات تک پہنچ جاتے ہیں) کا جواب نہیں دے گی، لیکن تہران ان سب کو نظر انداز نہیں کر سکتا، چاہے وہ ان نجی باتوں کے برعکس ہی کیوں نہ ہوں جو ایرانیوں کو ٹرمپ کے اصل ارادوں کے بارے میں بتائی جا رہی ہیں۔ درحقیقت، ٹرمپ کی بے صبری اور سفارت کاری کا اکھڑ انداز اب حل کی راہ میں اپنے طور پر ایک مستقل رکاوٹ بن چکا ہے۔
گھانا کے ایرانی سفارتی مشن کی طرف سے ٹرمپ کی روزمرہ زندگی کے احوال کا تجزیہ یوں پیش کیا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں امریکہ کے صدر نےہرمز کی بندش پر ایران کا شکریہ ادا کیا؛ ایران کو دھمکی دی؛ چین پر الزام لگایا؛ چین کی تعریف کی؛ ناکہ بندی کو کامیاب قرار دیا؛ اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے ناکہ بندی کے باوجود تیل کی ترسیل ممکن بنائی ؛ ایران کے ساتھ معاہدے کا وعدہ کیا؛ اور وعدہ کیا کہ ایران پر بم گریں گے۔سفارت خانے کے مطابق ٹرمپ ایک ایسا واٹس ایپ گروپ ہیں جس میں وہ خود ہی اکیلے ممبر ہوں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے ٹرمپ کے بارے میں کہاکہ وہ بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں۔ منگل تک، متضاد ریمارکس کے ایک سلسلے میں، ٹرمپ نے کہاکہ میں بمباری کی توقع کر رہا ہوں،مزید کہا






