اہلِ زر کُوچہءِ افلاس کو کب دیکھتے ہیںوہ تو بس اپنا جہاں، اپنی طرب دیکھتے ہیں
احمد نواز
دیکھتے کب ہیں وہ محرومیِ خلقِ مُضطر
یُوں تو کہتے ہیں کہ اب دیکھتے ،اب دیکھتے ہیں
یُوں بدل دیتا ہے جلوہ ترا سب معمولات
چومنے لگتی ہیں آنکھیں تجھے، لب دیکھتےہیں!
نازنیں! کون تجھے میری نظر سے دیکھے
دیکھنے کو تو تجھے آئینے سب دیکھتے ہیں
دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھنے والا تو نہیں
اور پھر جم کے ترے عارض و لب دیکھتے ہیں
پھڑپھڑاتا ہے جُنوں، دل بھی مچلتا ہے مگر
دیکھتے وقت بھی ہم حدّ ِ ادب دیکھتے ہیں
بعد میں مجھ کو وہ خُوش ہو کے عطا کرتے ہیں
پہلے پل بھر کو مرا حُسنِ طلب دیکھتے ہیں
اُن کا کہنا تھا کہ اک بار اِدھر دیکھیں گے
آنکھ مشتاق ہے، اب دیکھیے، کب دیکھتے ہیں
حادثہ کیسا بھی ابصار شکن ہو احمد
دیکھنے والے مگر اس کا سبب دیکھتے ہیں






