#کالم

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب اوہائیو امریکہ

کامیابی کیا ہے ؟ عمر بھر مال و متاع کی دوڑ اور پھر قبر میں اترنے سے پہلے جمع شدہ اثاثے کی اپنی اولاد کو منتقلی ۔ یا پھر جھوٹے روپ کے درشن اور نتیجتاً دس بارہ شاعری کے دیوان یا نثر پارے یا پھر نقل شدہ ریسرچ پر حاصل کی گئی پی ایچ ڈی کی ڈگریوں پر مبنی ذہنی آسودگی ۔

ہم نے کامیابی کو ایک نہایت محدود مفہوم میں قید کر دیا ہے۔ یہاں کامیاب شخص کی پہلی priority اس کی اپنی ذات ، اپنی اولاد اور اپنا گھر ہی ہوا کرتی ہے ، یہ ہماری کوتاہ نظری کی عمدہ مثال ہے کہ ہم نے کبھی اپنے وطن کو اپنا گھر نہیں سمجھا اور یہ نہیں سمجھ پائے جب تک یہ گھر محفوظ ، خوشحال اور مستحکم نہیں ہو گا ہمارا ذاتی گھر بالآخر غیر مستحکم ہو جائے گا اور ایک دن آئے گا ہماری آسودہ زندگی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائے گی ۔

ہمارے ایک سابقہ ورلڈ کلاس پلئیر نے کسی انٹرویو میں کہا تھا ، میں نے ساری دنیا میں کھیلا مگر جو ٹیلنٹ مجھے پاکستان کے طول و عرض میں آسمان کے ستاروں کی طرح بکھرا ملا دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آیا ۔

موسیقی کے حوالے سی ایک انڈین گلوکار نے کہا نصرت فتح علی خان موسیقی میں ُُاُوتار کے درجے پر فائز ہیں ۔ ایک شہرہ آفاق گلوکارہ نے کہا مہدی جی کے گلے میں بھگوان کا بسیرا ، اسی گلوکارہ نے کہا استاد سلامت علی خان میرے گھر آئے اور اپنے فن کا مظاہرہ کیا میرے گھر کی دیواروں سے آج بھی ان کے لگائے ہوئے سُر سنائی دیتے ہیں ۔ ایک انڈین فلم ڈائریکٹر نے انٹرویو میں کہا جو خوبصورتی میں نے لاہور اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں میں دیکھی دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھی ۔ جھنگ سے اٹھ کر ایک عام سکول میں پڑھنے والا بچہ اپنی ذہانت کے بل بوتے نوبل لاری ایٹ بن گیا ۔
اس زمین پر اللہ کی عنایت دیکھئے گرمیوں میں جو آم مزے اور مٹھاس کے اعتبار سے پاکستان کے حصے میں آیا کسی دوسرے ملک کو نصیب نہیں ہوا ۔ یہاں چاول کا باسمتی اور کرنل برانڈ دنیا میں یکتا ہے ۔غرض یہ کہ آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑ اور چھپے ہوئے تیل کے ذخائر سے مالا مال سمندر ، معدنیات سے بھرے ہوئے بلوچستان کے صحرا ، کونسی ایسی نعمت ہے جو اس ملک اور اس کے باسیوں پر نہیں اتاری گئی ۔
مگر یہ کیا المیہ ہے ہم اپنے کرموں سے ایک اللہ کے فضل سے مالا مال تہزیب کو ایک مرتی ہوئی تہزیب میں بدل چکے ہیں۔

وہ تمام فضل جو اللہ نے ہم پر روا رکھے ہیں ان میں سے سب سے اہم وہ ذہانت اور قابلیت ہے جو ہمارے نو جوانوں کو عطا کی گئی ۔ ہمارے ایک کرم فرما جو میتھمیٹکس کے پروفیسر ہیں بتا رہے تھے ، میں دنیا بھر کے بچوں کو میتھ پڑھا چکا ہوں مگر جو ذہن کی زرخیزی مجھے پاکستان کے بچوں میں نظر آئی کہیں نہیں دیکھی ۔
المیہ یہ ہے یہ ٹیلنٹ پوری آبادی میں بکھرا پڑا ہے اور اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ، کوئی بچہ ان گنت اور حیران کن ٹیلنٹ کے ساتھ کسی تاریک گاؤں کے کسی بے چراغ گھر میں جنم لیتا ہے اور دوسرا کسی بزنس ایمپائر کے مالک کے گھر ، اور دونوں ہی ضائع ہو جاتے ہیں ، ایک کثرتِ آ سائش سے اور ایک بے چارگی و عسرت سے۔
ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں اس ٹیلنٹ کو سنبھالنے اور اس کو چینلائز کرنے کی زمہ داری دراصل ہماری اجتماعی ذمی داری ہے ، اور اس ملک کی تعمیر و ترقی کا تمام تر انحصار اس ٹیلنٹ کی نمو کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

تمام عمر کی ریاضت کے بعد اور صاحبِ علم دوستوں سے ڈسکشنز کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ دراصل ہمیں اس بکھرے ہوئے ٹیلنٹ کو شناخت کر کے اسے وہ مواقع فراہم کرنے ہیں کہ یہ پروان چڑھے اور اس ملک کی تعمیر اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالے ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں اپنی تقدیر بدلتی ہیں جب وہ اپنے نوجوانوں پہ سرمایہ کاری کرتی ہیں، انہیں سمت دیتی ہیں، اور ان کے لیے مواقع پیدا کرتی ہیں۔
میں دیکھتا ہوں بڑے شہریوں میں جو انٹرنیشنل فوڈ چینز ہیں وہاں پیسہ ایسے لٹایا جارہا ہے کہ بس خدا کی پناہ ، حالانکہ وہی کیلوریز جو وہاں سے ہزاروں میں ملتی ہیں وہ چند روپئوں میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اگر ان وسائل کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ہم تعلیم، تحقیق اور ٹیلنٹ کی پرورش پر لگا دیں تو شاید حالات بدل جائیں۔

ہم اور معاصرین اپنی زندگی کا طویل حصہ گزار چکے اور تھوڑا باقی ہے ، میں نے دیکھا ہے ہماری مجلسوں اور ادبی محفلوں میں بہت سے لوگ بہت سا علمی اور ادبی اثاثہ چھوڑ کر جب اگلی منزلوں کو روانہ ہوئے تو جانے کے بعد بہت کم یاد کیے گئے ۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے ، ڈاکٹر یونس خیال صاحب کی ہاں ایک ادبی نشست میں ڈاکٹر اختر شمار صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی ،ہم نے ان کی سالگرہ کا کیک کاٹا ، کچھ دن بعد علم ہوا انہیں کینسر diagnose ہوا اور وہ ایک دو ہفتوں میں ہی آخری سفر پر روانہ ہو گئے ۔
خالد علیم کیا نابغہ روزگار شخصیت ، رباعی پر اتھارٹی مانے جاتے تھے ، کتنا علمی کام ان سے منسوب ہے ، کینسر کے ہاتھوں چند ہفتوں میں رخصت سفر باندھا اور رخصت ہو گئے ، مجھے نہیں یاد پڑتا کوئی ایک بھی اہم تقریب ان کے جانے کے بعد ان کی یاد میں منعقد کی گئی ہو جہاں ان کے کام کو اور نام کو یاد کیا گیا ہو۔ اور تو اور احمد ندیم قاسمی جب تک حیات تھے ہمارے سر کے تاج تھے ، رخصت ہوئے تو اس کے بعد کبھی کسی کو ان کی علمی خدمات کے حوالے سے خراج تحسین پیش کرتے نہیں دیکھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے