پاکستان میں ایچ آئی وی کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ: بچوں پر خطرات، وجوہات اور حل
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں صحت کے مسائل ہمیشہ سے ایک سنجیدہ چیلنج رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں ایک ایسا خطرہ خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے جس نے نہ صرف بالغ افراد بلکہ معصوم بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ خطرہ ہے HIV/AIDS کا، جو ایک عالمی مسئلہ ہونے کے باوجود پاکستان میں ایک نئی شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ خاص طور پر سندھ کے شہر رتودیرو جیسے واقعات نے اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کیا، جہاں درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں بچے اس وائرس کا شکار پائے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف طبی بلکہ سماجی اور اخلاقی بحران کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
ایچ آئی وی دراصل ایک ایسا وائرس ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے، اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ AIDS میں تبدیل ہو جاتا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں اس بیماری کے بارے میں شعور میں اضافہ ہوا ہے، مگر پاکستان میں ابھی بھی لاعلمی، بدنامی (stigma)، اور ناقص طبی نظام اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
اگر ہم بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کا جائزہ لیں تو سب سے پہلا اور اہم سبب غیر محفوظ طبی طریقہ کار ہے۔ پاکستان میں اب بھی ایسے کلینکس اور چھوٹے ہسپتال موجود ہیں جہاں ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ جب ایک متاثرہ مریض پر استعمال ہونے والی سرنج کو کسی دوسرے بچے یا فرد پر استعمال کیا جاتا ہے تو وائرس آسانی سے منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی علاقوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آئے، حالانکہ وہ کسی بھی روایتی خطرناک سرگرمی میں شامل نہیں تھے۔
دوسری بڑی وجہ خون کی منتقلی کا غیر محفوظ نظام ہے۔ پاکستان میں بلڈ بینکس کا نظام ابھی تک مکمل طور پر منظم نہیں ہو سکا۔ بہت سے مقامات پر خون کی اسکریننگ مناسب طریقے سے نہیں کی جاتی، جس کے نتیجے میں متاثرہ خون بچوں یا مریضوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر تھیلیسیمیا کے مریض بچے، جنہیں بار بار خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس خطرے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
تیسری اہم وجہ حاملہ ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی ہے۔ اگر ایک ماں ایچ آئی وی سے متاثر ہو اور اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو حمل، پیدائش یا دودھ پلانے کے دوران وائرس بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں prenatal screening کا نظام کمزور ہے اور اکثر خواتین کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ غیر تربیت یافتہ دائیوں اور نیم حکیموں کا کردار بھی اس مسئلے کو بڑھا رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں لوگ اب بھی مستند ڈاکٹروں کے بجائے عطائیوں سے علاج کرواتے ہیں، جہاں صفائی اور حفاظتی اصولوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا خطرناک ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں معصوم بچے بھی اس مہلک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم سماجی پہلو پر نظر ڈالیں تو ایچ آئی وی کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ لوگ اس بیماری کو اخلاقی گناہ سے جوڑ دیتے ہیں، جس کے باعث متاثرہ افراد علاج کروانے سے ہچکچاتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی بیماری چھپاتے ہیں جس سے نہ صرف علاج میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ہمیں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی رہنما سب کو مل کر اس بیماری کے بارے میں درست معلومات عوام تک پہنچانی ہوں گی۔ لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ایچ آئی وی صرف مخصوص رویوں سے نہیں بلکہ غیر محفوظ طبی طریقوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔
دوسرا اہم قدم صحت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرنج کے دوبارہ استعمال پر سخت پابندی عائد کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ تمام بلڈ بینکس کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور خون کی اسکریننگ کو لازمی قرار دیا جائے۔ ہر حاملہ خاتون کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کیا جائے تاکہ بروقت علاج کے ذریعے بچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
علاج کے حوالے سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ایچ آئی وی اب ناقابلِ علاج بیماری نہیں رہی۔ جدید ادویات، جنہیں Antiretroviral Therapy (ART) کہا جاتا ہے، وائرس کو کنٹرول میں رکھ سکتی ہیں اور مریض ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر بچے کو بروقت یہ علاج مل جائے تو وہ صحت مند زندگی جی سکتا ہے تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور معاشرے کا فعال رکن بن سکتا ہے۔
مزید برآں ہمیں سماجی رویوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایچ آئی وی کے مریضوں کو تنہائی اور نفرت کے بجائے ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اس بیماری کو ایک طبی مسئلہ سمجھ کر اس کا سامنا نہیں کریں گے، تب تک اس کا پھیلاؤ روکنا مشکل ہوگا۔
پاکستان میں ایچ آئی وی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک وارننگ ہے کہ ہم اپنے صحت کے نظام اور سماجی رویوں پر نظر ثانی کریں۔ خاص طور پر بچوں میں اس بیماری کا پھیلاؤ ایک ایسا المیہ ہے جو ہماری اجتماعی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر ہم نے ابھی اقدامات نہ کیے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایچ آئی وی کے خلاف جنگ صرف ڈاکٹروں یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد صفائی، احتیاط اور آگاہی کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔






