#کالم

تعلیمی اداروں میں منشیات نظام کی ناکامی یا مجرمانہ غفلت

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر ، محمد ندیم بھٹی

تعلیمی اداروں میں منشیات کی رسائی اب کوئی افواہ یا مبالغہ نہیں رھی بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ھـے، جسے جتنا بھی نظر انداز کیا جائے، اس کی سنگینی کم نہیں ھوتی۔ سوال یہ نہیں کہ نشہ آور اشیاء کہاں سے آ رھی ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ھـے کہ آخر وہ کون سا نظام ھـے جو اس زہر کو درسگاہوں کی دہلیز تک پہنچنے سے روکنے میں ناکام ہو چکا ھـے؟ کیا یہ صرف چند افراد کی مجرمانہ سرگرمیوں کا نتیجہ ھـے یا پھر ایک ایسی اجتماعی غفلت ھـے جس میں والدین، اساتذہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کسی نہ کسی حد تک شامل ہیں؟ جب علم کے مراکز ھی غیر محفوظ ھو جائیں، جب کتابوں کے سائے میں نشے کا کاروبار پروان چڑھنے لگے، تو پھر یہ سوال اٹھانا ناگزیر ھو جاتا ھـے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کس سمت میں لے جا رھے ہیں۔
یہ مسئلہ محض چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کی جڑیں چھوٹے قصبوں اور نیم شہری علاقوں تک بھی پھیل چکی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے باہر کھڑے مشکوک افراد، طلبہ کے درمیان غیر معمولی روابط، اور کیفے ٹیریاز میں ھونے والی خفیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ منشیات کا نیٹ ورک منظم انداز میں کام کر رہا ھـے۔ پہلے پہل یہ سرگرمیاں چھپ کر ہوتی تھیں، مگر اب کئی جگہوں پر یہ ایک حد تک کھلے عام نظر آنے لگی ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتی ھـے۔
نوجوان نسل فطری طور پر تجسس کا شکار ھوتی ھـے۔ یہی تجسس منشیات فروشوں کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بن جاتا ھـے۔ ابتدا میں دوستوں کے کہنے پر یا محض تجربہ کرنے کے لیے نشہ استعمال کیا جاتا ھـے، مگر یہ عارضی تجربہ جلد ھی مستقل عادت میں بدل جاتا ھـے۔ اس کے بعد واپسی کا راستہ نہایت مشکل ھو جاتا ھـے، اور ایک روشن مستقبل رکھنے والا طالب علم اندھیروں میں کھو جاتا ھـے۔ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پورے خاندان اور معاشرے کا نقصان ھـے۔
والدین کی ذمہ داری اس معاملے میں بنیادی حیثیت رکھتی ھـے۔ آج کے دور میں جہاں معاشی دباؤ بڑھ چکا ھـے، وہاں والدین اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر مکمل نظر نہیں رکھ پاتے۔ بچے کب اور کس کے ساتھ وقت گزار رھے ہیں، ان کے دوست کون ہیں، اور وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، یہ سب سوالات اکثر نظر انداز ھو جاتے ہیں۔ یہی غفلت منشیات فروشوں کے لیے ایک سنہری موقع بن جاتی ھـے۔
تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بھی اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اگر اداروں کے اندر سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، سکیورٹی کو مؤثر بنایا جائے، اور مشکوک سرگرمیوں پر فوری کارروائی کی جائے تو اس مسئلے کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ھـے۔ مگر افسوسناک امر یہ ھـے کہ کئی اداروں میں یہ اقدامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں، جبکہ عملی سطح پر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔
اساتذہ کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ھـے۔ ایک اچھا استاد نہ صرف علم دیتا ھـے بلکہ اپنے طلبہ کی شخصیت اور رویوں کو بھی سمجھتا ھـے۔ اگر کسی طالب علم کے رویے میں اچانک تبدیلی آئے، اس کی کارکردگی میں کمی ھو، یا وہ غیر معمولی خاموشی یا جارحیت کا مظاہرہ کرے تو یہ خطرے کی گھنٹی ھو سکتی ھـے۔ ایسے میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بروقت مداخلت کریں اور طلبہ کی رہنمائی کریں تاکہ وہ اس دلدل میں پھنسنے سے بچ سکیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ اگر تعلیمی اداروں کے گرد و نواح میں منشیات فروخت ہو رھی ھـے تو یہ کیسے ممکن ھـے کہ متعلقہ اداروں کو اس کی خبر نہ ہ
ھو؟ اس سے یا تو غفلت ظاہر ہوتی ھـے یا پھر کسی نہ کسی سطح پر کمزوری۔ چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ ضرورت اس امر کی ھـے کہ اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ ایسے عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جا سکے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ھـے۔ اب منشیات کی خرید و فروخت کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید ذرائع استعمال کیے جا رھے ہیں۔ مختلف ایپس اور خفیہ گروپس کے ذریعے نوجوانوں تک رسائی حاصل کی جاتی ھـے اور ھوم ڈیلیوری جیسے طریقے اپنائے جا رھے ہیں۔ یہ ایک نیا چیلنج ھـے جس سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کی ضرورت ھـے۔
معاشرتی دباؤ، بے روزگاری، اور ذہنی تناؤ بھی نوجوانوں کو اس طرف دھکیل رھے ہیں۔ جب ایک طالب علم کو اپنے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا سامنا ھو، اسے مواقع نہ ملیں، اور وہ خود کو تنہا محسوس کرے تو وہ وقتی سکون کے لیے نشے کا سہارا لیتا ھـے۔ یہ ایک نفسیاتی پہلو ھـے جسے نظر انداز کرنا مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ھـے۔
حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو صرف قانون کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ اسے ایک سماجی اور نفسیاتی بحران کے طور پر تسلیم کرے۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں، طلبہ کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے، اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ کھیل، ادب اور تخلیقی سرگرمیاں نوجوانوں کی توانائی کو صحیح سمت میں لے جا سکتی ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ھـے۔ اگر میڈیا اس مسئلے کو سنجیدگی سے اجاگر کرے، تحقیقاتی رپورٹس سامنے لائے، اور ذمہ داران کی نشاندہی کرے تو اس سے نہ صرف عوام میں شعور بیدار ھوگا بلکہ متعلقہ اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ عملی اقدامات کریں۔ خاموشی اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کی مزید پیچیدگی کا سبب بنتی ھـے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض اوقات تعلیمی اداروں کے اندر موجود چند عناصر بھی اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ھوتے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے