ادب کاسمندر۔۔۔۔۔سمندری’’شہزادیات‘‘
شہزاد بیگ
پروین شاکر نے کہا تھا۔
پابہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
اس دشت وگیان میں پھر بھی چند ادب دوست اپنی لگن میں مگن مضافات میں ادب کی کھیتیاںآباد کرنے میں مگن ہیں۔گذشتہ دنوں کاروان شعر و ادب سمندری کے زیر اہتمام ایک شاندار مشاعرے کا اہتمام ہوا، جس میں شرکت کے لیے ہم قافلے کی شکل میں ممتاز شاعر ڈاکٹر ریاض مجید کی سربراہی میں فیصل اباد سے سمندری روانہ ہوئے قافلہ میں محمد طاہر صدیقی، اصغر علی تبسم ، میاں منیر احمد منیر، گوہر شیرازی،سحر شیرازی اور ہم شامل تھے جبکہ راستے میں مختصر پڑائو جوکہ ممتاز روحانی بزرگ صوفی برکت علی کے آستانہ شریف کے قریب ایک پیٹرول پمپ پر نماز عصر ادا کی۔ اس سفر میں شعراکرام کے لطیفے اور یادگار باتیں خوب چلتی رہیں، راستے میں ایک جگہ گانے والا طوطے ایک خاتوں پنجرے میں نظر آیا جس کے پر کالےاور گلے میں گانی پڑی ہوئی تھی، ڈاکٹر صاحب نے جھٹ طوطے کا موضوع زیر بحث لاتے ہوئے اصغر علی تبسم سے پوچھا آپ 86 سال کے ہوگئے آپ نے کبھی وہ طوطا دیکھا ہے جو کلمہ پڑھتا ہے اور آپ کے نام سے آپکو اور آپکے بچوں کوپکارتا ہے تبسم صاحب کسی سوچ میں گم تھے مگر طاہر صدیقی صاحب نے کہا میرا دل کرتا ہے میں گاڑی روک کر وہ طوطا خرید لوں مجھے یہ بہت پسند آیا ہے مگر ہماری گاڑی اس دوران پھراٹے بھرتی آگے گذر چکی تھی اس دوران تبسم صاحب گہری چپ سے باہر آئے اور 1953 ءکی سمندری کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرنے لگے کہ جب میں یہاں ایک پٹھے پر ملازم ہوا تھا اور مجھے پٹھے کے مالک نے مزدوری کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھنے کا بھی مشورہ دیا اور مجھے اس وقت یونیفام اور فیس الگ سے دی اور اس طرح میں اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکا، انہوں نے مزید بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب میں این ایف سی میں ایریا مینیجر تھا اور سمندری جیسے مضافات میں ایک بڑا سیل پوائنٹ بنایا اور اس علاقے کی دل کھول کر مدد کی اور یہاں ملک ہاشم جو یہاںہوتے تھے آج یہاں کی ایک بارعب شخصیت ہیں ہم نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تبسم صاحب سے پوچھا ظاہر ہے اب ایف اے کے خوبرو نوجوان تھے اس وقت آپ نے کوئی عشق بھی فرمایا تو تبسم صاحب ایک لمبی چپ تان کر بیٹھے رہے اور کچھ دیر کے بعد بولے "نہ چھیڑ ملنگاں نوں” گویا سارے راستے گل شپ چلتی رہی اور اسی اثنا میں سمندری آگیا جب ہم سمندری پہنچے تو بزم کے سرپرست محمد اشرف خان نیازی نےہمارا خوب استقبال کیا ہمارے گلے میںہار ڈالے گیے اور بوکے پیش بھی کیے گئے اور جاتے ہی لش پش دفتر میں ڈاکٹر ریاض مجید کو ہیڈ ٹیبل پر بٹھایا گیا چائے پانی کا خوب دور چلا مشاعرہ کے دوران نیازی صاحب نے بتایا کہ ہم نےکاروانٕ شعر و ادب سمندری کی بنیادمارچ 1997 کو چند ادب نواز دوستوں ، محمد اشرف خان نیازی ، محمد اشرف شاکر ، منیر حسین عادل فیاض ہاشمی ، اعجاز احمد سعدنے رکھی بعدازاں محترم روشن دین کیفی،وعلامہ یعقوب یسین کی شمولیت نے تنظیم کو تقویت بخش کر چار چاند لگا دیئے پھر لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا ،،تخلیق ادب وتحقیق ادب تنظیم کا ماٹو ہے محمد اشرف خان نیازی اس کے پہلے چیئرمین اور محمد اشرف شاکر پہلے جنرل سیکرٹری تھے پچھلے سال محمد اشرف شاکر کو اس کا تاحیات چیئرمین منتخب کیا گیا عرفان حسین سانول اس کے جنرل سیکرٹری ہیں ، ہمارے جانے کا مین مقصد یہاں 27سالوں کے بعد ایک رائٹر ہاؤس کا بھی قیام عمل میں لایا ہے جس کی افتتائی تقریب میں ہم شریک ہونے گئے تھے جس کے بعد مشاعرہ برپا کیا گیا جو کہ رات گئے جاری رہا اور یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ سمندری نہیں بلکہ ادب کا سمندر ہے جس کہ لہریں اچھل اچھل کر اپنے ہونے کا پتہ دے رہی ہیں یہ رائٹر ہاوس مضافات کے شاعروں ادیبوں کے لیے وقف کیا گیا ہے جہاں لائبریری کا قیام بھی جلد عمل میں لایا جائے گا جس کے لیے ہم انہیں کتابیں فراہم کرنے کا وعدہ کرکے آئے ہیں ، نیازی صاحب اس کے ساتھ ایک این جی او بھی چلا رہے ہیں اور اہلیان سمندری کے دکھ درد کم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں ہم جب رات کو کھانے کے لیے نیازی صاحب کے گھر وزٹ کیا اور ان کی لائیو کارکردگی کو دیکھا تو ہمارا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا کہ اللہ پاک نے سمندری کی دھرتی میں کیسے کیسے شخص اتارے ہوئے ہیں جو بغیر کسی لالچ کے غریبوں کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے خالق خدا کی کے لیے دن رات کوشاں ہیں ابھی مشاعرہ کا نشہ ہماری رگوں سرایت کر رہا تھا کہ ہم اور ایک بیٹھک کھانے کی ٹیبل پر سجا بیٹھے تھے جہاں پیارے نبیؐ سرکاری دو عالم کی گلیوں کی باتیں شروع ہوگئی تھی جو ختم نا ہونے کو آرہی تھی یہاں با با جی اشفاق حمد بھی بہت شدت سے یاد آرہے تھے جو فرماتے تھے سفر میں ہمیشہ ایک ریاض مجید ساتھ رکھو جو تمہیں نہ سونے دے اور نا واپس دے ۔ کیا کہنے اشفاق احمد جیسے بزرگ واقعی ہی کم کم پیدا ہوتے ہیں جوکہ جاتے جاتے نشانی کے طورپر ہر شہر میںڈاکٹر ریاض مجید جیسے نابغہ روزگار چھوڑ جاتے ہیں اس مشاعرےسے مشاعرہ سے چند اشعار ۔ نمونہ کلام۔
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
اپنی رہ مسدود کردے نہ یہی بڑھتا ہجوم
یہ نہ سوچا ہر کسی کو راستا دیتے ہوئے
ڈاکٹر ریاض مجید
دیکھیے بے کسوں کے والی کو
جو بدلتے ہیں تنگ حالی کو
آپؐ ہریالیاں عطا کر دیں
اپنی امت کی خشک سالی کو
محمد طاہر صدیقی
گرداب میں آکر مجھے معلوم ہوا ہے
کشتی کا سفر مجھ کو ڈبونے کے






