#کالم

پاکستان کی کوشش سے جنگ بندی میں توسیع

Fahad 01

أج کا اداریہ

عارضی جنگ بندی کے اختتام میں چند گھنٹے ہی بچے تھے عالمی سفارتی حلقوں میں بے چینی تیزی سے بڑھ رہی تھی ۔سب کی نظریں اسلام اباد پر تھیں ۔ ٹرمپ مذاکرات کے دوسرے دور کیلیے امریکی وفد پاکستان بھجوانے کا اعلان کرچکے تھے کہ خلیجِ عمان میں ایرانی کارگو جہاز ’’توسکا‘‘پر امریکی میرینز کی اچانک کارروائی نے اس نازک توازن کو ہلا کر رکھ دیا ۔امریکی بحری بیڑے کے حملہ آور جہازیوایس ایس ٹریپولی سے روانہ ہونے والے میرینز نے رسیوں کے ذریعے اترکر جہاز پر قبضہ کیا، جو ایک واضح فوجی طاقت کے مظاہرہ تھا۔
دوسری جانب ایران نے اس کارروائی کو مسلح قزاقی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ جہاز چین سے آ رہا تھا اور اسے روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے عالمی توانائی منڈی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رہا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔اسلام آباد میں متوقع مذاکراتی دور سے قبل یہ واقعہ ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے دوسری بار پاکستان کی تجویز مان کر جنگ بندی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔ٹرمپ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کی تجویز نہیں آ جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔واضح رہے کہ دو ہفتے قبل امریکی صدر نے ایک الٹی میٹم جاری کیا تھا جس کے بعد ایران پر غیر معمولی طاقت سے حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ 7 اپریل کو یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی قبول کر لی تھی، جس کے بعد اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل اعلی سطح مذاکرات ہوئے تھے لیکن کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم کر دئیے گئے۔عارضی جنگ بندی گزشتہ روز ختم ہو رہی تھی۔ اس دوران اسلام آباد نے مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی سمجھوتے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔
پاکستان کی طرف سے “اسلام آباد ٹاکس 2.0” میں شرکت کے لیے امریکی فریق رضامند تھا اور سفارت کاروں کو بھیجنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ تاہم ،اس دوران امریکہ بحریہ نے آ بنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث تہران کی طرف سے مذاکراتی وفد روانہ کرنے کے بارے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس کے بعد جنگ دوبارہ چھڑنے کا خطرہ تھا۔

مقررہ وقت کے اختتام سے پہلے ایک بار پاکستانی قیادت نے مداخلت کرتے ہوئے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا سلسلہ رکوانے میں کامیابی حاصل کر لی اور امریکی صدر نے ایران سے جنگ بندی جاری رکھنے کی تجویز پر آمادگی ظاہر کر دی۔امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی جیسی کارروائیاں کشیدگی کو بڑھا کر سفارتی عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہیں۔دونوں فریق شدید دباؤ میں ہیں، اور آبنائے ہرمز اب ایک نئی اسٹریٹیجک رکاوٹ بن چکی ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر سخت بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ایران نے “منصفانہ ڈیل” قبول نہ کی تو امریکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کا جملہ “NO MORE MR. NICE GUY” اس بدلتے ہوئے امریکی رویے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سفارتکاری کے ساتھ ساتھ کھلی دھمکی بھی دی جا رہی ہے۔
ادھرٹائمزآف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی وقت نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ خلیجی ممالک خاص طور پر پریشان ہیں کہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔
صرف دو دن پہلے تک امید کی جا رہی تھی کہ جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے کا موقع دے گی، مگر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے واقعات، امریکی نیول بلاک ایڈ، اور اب توسکا پر کارروائی نے اس امید کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات سے پسپائی کے اشارے اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہیں۔
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے یا خطہ ایک نئی اور ممکنہ طور پر وسیع جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو جنگ بندی کا خاتمہ ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیںجہاں فیصلہ ہونا ہے کہ سفارت کاری جیتے گی یا تصادم۔

پاکستان کی کوشش سے جنگ بندی میں توسیع

24/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے