زندگی کا نقشہخواب، شعور اور سمت کا فلسفہ
منشا قاضی حسبِ منشا
زندگی ایک بے کنار سمندر ہے جس میں ہر انسان اپنی اپنی کشتی لیئے سفر کر رہا ہے۔ کچھ لوگ محض لہروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے ہاتھوں میں سمت کا قطب نما تھامے ایک واضح منزل کی جانب بڑھتے ہیں۔ “Developing a Life Plan” جیسے موضوعات دراصل انسان کو اسی شعور سے روشناس کرواتے ہیں کہ زندگی محض گزارنے کا نام نہیں، بلکہ اسے بامقصد بنانے کا ہنر سیکھنا بھی ضروری ہے۔
Constructive Thinkers Network (CTN) کی جانب سے منعقدہ یہ معلوماتی نشست دراصل اسی فکری بیداری کا ایک اہم قدم ہے۔ چیئرمین مسعود علی خان کی قیادت میں یہ پلیٹ فارم ایسے مکالمات کو فروغ دیتا ہے جو فرد کو اپنے باطن میں جھانکنے اور اپنی زندگی کی سمت متعین کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
زندگی کا منصوبہ بنانا صرف اہداف کی فہرست تیار کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری اور روحانی عمل ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں، خواہشات اور حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
اس نشست کے مہمانِ خاص مقرر جناب خالد میر تھے ، جو ایک تجربہ کار لائف کوچ اور کاروباری شخصیت ہیں، اپنی چالیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی کے نچوڑ کو سامعین کے سامنے جس طرح انہوں نے پیش کیا ، وہ ان ہی کا خاصا اور پیشہ ہے اور ان کا تجربہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ، مستقل مزاجی اور خود آگہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اسی پہلو پر روشنی ڈالی ، کہ کس طرح ایک فرد اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں—ذاتی، پیشہ ورانہ اور روحانی—کو ہم آہنگ کر کے ایک بامقصد زندگی گزار سکتا ہے۔
اس نشست کے میزبان جناب سطوت بٹ، اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور سماجی خدمات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی اس تقریب کو نہ صرف وقار بخشتی ہے بلکہ مکالمے کو ایک سنجیدہ اور بامعنی رخ بھی دیتی ہے۔سطوت بٹ زندگی سے ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سے محبت کرتے ہیں ، کھیلنے اور روشن ستارے دیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور زندگی کی مالا میں ایسے قیمتی موتی جمع کر لیتے ہیں جن کی چمک سے سارے جہان میں روشنی پھیل جاتی ہے سطوت بٹ خوبصورت عادتوں کے دل فریب انسان ہیں وہ سی ٹی این کے ممبر کے طور پر بھی میرے نزدیک خوش نظری اور احترام کی سزاوار ہیں ۔
محترمہ فردوس نثار کا شکریہ ادا کرنے کا عمل اس بات کی علامت ہے کہ معاشرتی ترقی اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔
زندگی کا منصوبہ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل کو پہچانتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے، اور اس کا درست استعمال ہی ہمیں ہماری منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ بغیر منصوبہ بندی کے زندگی ایک بے سمت سفر بن جاتی ہے، جہاں انسان محض حالات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنی زندگی کے لیئے واضح اہداف متعین کرتے ہیں، تو ہم نہ صرف اپنی تقدیر خود لکھنے کے قابل ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیئے بھی روشنی کا مینار بن سکتے ہیں۔ محترمہ فردوس نثار نے کہا کہ زندگی جاگ کر اور عمر سو کر گزرتی ہے ہمیں سلیقے سے اپنی زندگی کو گزارنا نہیں چاہیئے ، بسر کرنا چاہئے ۔
زندگی خواہ مختصر ہو جائے
مگر سلیقے سے بسر ہو جائے
یہ نشست اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک خواب بستا ہے، مگر اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیئے ایک مضبوط منصوبہ اور مستقل عمل درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک دعوت ہے—اپنے آپ کو جاننے کی، اپنی سمت کو درست کرنے کی، اور ایک ایسی زندگی گزارنے کی جو نہ صرف کامیاب ہو بلکہ بامعنی بھی ہو۔کسی دانشور کا قول ہے کہ زندگی دس گیئر والی گاڑی جیسی ہوتی ہے ، ہم میں سے بہت سے لوگ کچھ گیئر زندگی بھر استعمال نہیں کر پاتے اس لیے پرمسر زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کسی سے محبت کرتا ہو کچھ کام کرتا ہو اور کوئی مقصد حیات رکھتا ہو زندگی کو یہ سمجھ کر بسر کریں کہ اس میں کچھ حصہ دوسروں کا بھی ہے زندگی کے چند لمحے دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف کر دینا بہت بڑی نیکی ہے جس طرح سی ٹی این کے چیئرمین مسعود علی خان دوسروں کے لیئے زندگی بسر کر رہے ہیں اپنے لیئے تو ہر کوئی جیتا ہے مزہ تو اسی میں ہے کہ ہم دوسروں کے لیئے جیئیں اگر آپ کی تمام تر زندگی انسان کی اجتماعی بہبود کو صِرف ایک قدم آگے بڑھانے میں بھی کامیاب ہو جائے تو سمجھ لیں کہ آپ نے اپنی پیدائش کا حق ادا کر دیا ، ہمیشہ زندہ رہنے کا میرے پاس تو ایک ہی فارمولا ہے کہ آپ اپنی زندگی قوم کے لیئے وقف کر دیں آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “Developing a Life Plan” محض ایک موضوع نہیں، بلکہ ایک فلسفہ ہے—ایسا فلسفہ جو انسان کو اس کی اصل پہچان دیتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا معمار بناتا ہے۔۔۔ اج کا دن اس حوالے سے بھی بڑا خوشگوار دن تھا کہ تین ابکری شخصیات سٹی این کی رکن کے طور پر تشریف فرما تھیں جن نے سی ٹی این کے چیئرمین اور سینیئر وائس چیئرمین میجر مجیب افتاب اور تمام اراکین نے پرجوش خیر مقدم کیا برگیڈیئر ڈاکٹر ساجد مشتاق شوکت ، محترمہ ڈاکٹر کنول خالد اور سطوت بٹ کی آمد نے فورم کو چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ اب یہ قافلہ ء نو بہار چیئرمین مسعود علی خان کی قیادت میں منزلِ مراد پر پہنچ کر دم لے گا اور دنیا جان لے گی کہ پاکستان کے آسمان پر فکری رعنائیوں اور خوشحالی کا سورج کیونکر طلوع ہوتا ہے ؟






