#کالم

جنگیں اسلحہ نہیں، حوصلہ جیتتا ہے

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
8 اپریل کا دن تاریخ کے اوراق میں ایک نئے باب کے طور پر محفوظ ہو جائے گا ایک ایسا باب جسے آنے والی نسلیں صرف پڑھیں گی نہیں بلکہ اس سے سبق بھی حاصل کریں گی۔ یہ دن ہمیں یہ سکھا گیا کہ جنگیں صرف بارود، ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ اصل فتح ان دلوں کی ہوتی ہے جن میں حوصلہ، یقین، وطن سے محبت اور قومی یکجہتی کی آگ جل رہی ہو۔ بظاہر جب جنگ بندی ہوتی ہے تو دنیا اسے محض ایک معاہدہ سمجھتی ہے ایک ایسی کیفیت جس میں نہ کوئی واضح فاتح ہوتا ہے اور نہ کوئی کھلا شکست خوردہ، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔ اگر جنگ آپ کی شرائط پر رکے اگر دشمن کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہونا پڑے، تو یہی دراصل خاموش مگر حقیقی فتح ہوتی ہے۔
ایران کی حالیہ صورتحال نے اس حقیقت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ وہ قوم جسے مسلسل پابندیوں، دباؤ اور خطرات کا سامنا رہا، اس نے جس استقامت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا کے لیے حیران کن تھا۔ جب دشمن نے اپنی طاقت کے زعم میں یہ سمجھا کہ وہ خوف کے ذریعے ایرانی قوم کو جھکا دے گا، تو اسے یہ اندازہ نہ تھا کہ وہ ایک ایسی قوم سے ٹکرا رہا ہے جس کی رگوں میں مزاحمت دوڑتی ہے۔ ایرانی عوام نے جس جذبے کے ساتھ خطرات کا سامنا کیا، وہ صرف ایک ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک نظریہ تھا ایک ایمان تھا۔
یہ ایک غیر معمولی منظر تھا جب وہ مقامات جنہیں ممکنہ حملوں کے لیے نشانہ بنایا گیا، وہاں خوف و ہراس کے بجائے انسانوں کی زنجیریں بن گئیں۔ لوگ موت کے خوف سے چھپنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کھڑے ہو گئے۔ یہ صرف جرات نہیں تھی، یہ ایک پیغام تھا کہ ہم بکھری ہوئی قوم نہیں، ہم ایک وجود ہیں۔ جب قومیں اس درجے کی یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہیں تو ان کے خلاف کوئی بھی طاقت زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتی۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر یہ جذبہ کہاں سے آتا ہے؟ یہ محض وقتی ردعمل نہیں ہوتا بلکہ برسوں کی تربیت، قومی شعور اور مشترکہ شناخت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے نظریے، اپنی سرزمین اور اپنی خودمختاری کو اپنی ذات کا حصہ سمجھنے لگے تو پھر وہ خوف کے سامنے نہیں جھکتی۔ یہی وہ کیفیت ہے جس نے ایرانی عوام کو ایک مثال بنا دیا۔
جنگوں کی تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی بڑی طاقتیں کبھی شکست نہ کھاتیں۔ ویتنام، افغانستان اور دیگر کئی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ جب عوام اپنے وطن کے لیے کھڑے ہو جائیں تو جدید ترین اسلحہ بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کا عزم ہوتا ہے، نہ کہ ہتھیاروں کا انبار۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے اور وہ ہے قیادت کا کردار۔ کسی بھی قوم کا جذبہ تبھی منظم شکل اختیار کرتا ہے جب اس کے پاس ایسی قیادت ہو جو حالات کو سمجھتی ہو، درست فیصلے کرتی ہو اور عوام کو اعتماد دیتی ہو۔ ایران کے معاملے میں یہ عنصر بھی نمایاں نظر آیا جہاں عوام اور ریاست ایک صفحے پر دکھائی دیے۔ یہی ہم آہنگی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں اس واقعے کا جائزہ لیا جائے تو کئی اہم نکات سامنے آتے ہیں۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو بے شمار چیلنجز سے گزر رہی ہے معاشی مسائل، سیاسی تقسیم، فرقہ وارانہ اختلافات لیکن اس سب کے باوجود ہمارے اندر ایک ایسی قوت موجود ہے جو ہمیں ایک کر سکتی ہے۔ جب بھی پاکستان کو خطرہ لاحق ہوا، اس قوم نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ہونے کا ثبوت دیا۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے مستقل بنیادوں پر زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی فوج اور حکومت نے ہمیشہ مشکل حالات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ صورتحال میں بھی جنگ کو پھیلنے سے روکنے، سفارتی سطح پر کوششیں کرنے اور امن کے قیام کے لیے اقدامات اٹھانے میں ان کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ چین اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے امن کے نکات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا میں اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے کچھ سیکھیں گے؟ کیا ہم اپنی اندرونی تقسیم کو ختم کر کے ایک قوم بن سکیں گے کیا ہم اپنے اختلافات کو اس حد تک محدود رکھ سکیں گے کہ وہ ہماری قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچائیں یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیں خود دینا ہے۔
ایران کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ اپنے مشترکہ مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتی ہیں۔ جب ہر فرد یہ سمجھ لے کہ اس کی شناخت صرف اس کی ذات تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک بڑی اکائی کا حصہ ہے تبھی حقیقی اتحاد ممکن ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اسی سوچ کو اپنانا ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کبھی بھی کوئی مثالی حل نہیں ہوتی۔ اس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ہوتے ہیں چاہے کوئی بھی فریق ہو۔ لیکن بعض اوقات جنگیں مسلط کی جاتی ہیں اور ایسے میں قوموں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ آپ نہ صرف اپنے دفاع میں کامیاب ہوں بلکہ دشمن کو یہ پیغام بھی دیں کہ آپ کو جھکایا نہیں جا سکتا۔
8 اپریل کا دن اسی پیغام کے ساتھ ہمارے سامنے آیا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ طاقت کا اصل معیار ہتھیار نہیں بلکہ انسان کا حوصلہ ہے۔ یہ دن ہمیں یہ بھی بتاتا رہے گا کہ اگر قوم متحد ہو جائے تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی اس کے عزم کو توڑ

جنگیں اسلحہ نہیں، حوصلہ جیتتا ہے

تبدیلی کی دستک

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے