ری ہیبلیٹیشن سینٹر یا قتل گاہ ؟ایک تلخ حقیقت، ایک اجتماعی سوال
زاھد مصطفیٰ
معاشرے کی ترقی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور، بیمار اور بھٹکے ہوئے افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد اور ذہنی مریض وہ طبقہ ہیں جو سب سے زیادہ ہمدردی، دیکھ بھال اور پیشہ ورانہ علاج کے مستحق ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ان کی بحالی کے نام پر ایک ایسا اندھیر نگری نظام پروان چڑھ رہا ہے جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ بن چکا ہے۔
آج کل گلی محلوں، شہروں اور حتیٰ کہ دیہات تک میں ری ہیبلیٹیشن سینٹرز کی بھرمار نظر آتی ہے۔ بظاہر یہ ادارے انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ایک خوفناک کہانی سناتی ہے۔ ان میں سے بیشتر سینٹرز نہ تو کسی مستند ادارے سے رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی وہاں کوئی تربیت یافتہ ڈاکٹر یا ماہر نفسیات موجود ہوتا ہے۔ یہ محض چار دیواری میں قید ایسے مراکز ہیں جہاں مریض نہیں بلکہ قیدی رکھے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کئی جگہوں پر ان سینٹرز میں انسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ مریضوں کو زنجیروں سے باندھنا، انہیں بھوکا رکھنا، تشدد کا نشانہ بنانا اور غیر معیاری ادویات دینا معمول بن چکا ہے۔ بعض افسوسناک واقعات میں تو یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہاں داخل ہونے والے افراد زندہ واپس نہیں آتے۔
سوال یہ ہے کہ اگر بحالی کے مراکز سے لاشیں نکلیں تو انہیں کیا کہا جائے؟ کیا یہ واقعی “ری ہیبلیٹیشن سینٹر” ہیں یا پھر خاموش “قتل گاہیں”؟
معاملہ صرف بدانتظامی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں ایک خطرناک معاشرتی پہلو بھی شامل ہو چکا ہے۔ بعض کیسز میں یہ الزام سامنے آیا ہے کہ جائیداد کے لالچ میں اپنے ہی رشتہ دار ایسے سینٹرز کا سہارا لے کر مریض کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ کہیں ناخلف اولاد اپنے بوڑھے والدین کو زبردستی داخل کرا دیتی ہے، اور پھر واپس لینے کے لیے نہیں بلکہ صرف میت وصول کرنے آتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی زوال کی انتہا ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ کچھ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز خود منشیات کی فراہمی کے مراکز بن چکے ہیں۔ جہاں علاج ہونا چاہیے، وہاں نشہ فروخت ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا گھناؤنا کاروبار ہے جس میں انسان کی کمزوری کو منافع کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ان “موت کے گھروں” کو کون لگام دے گا؟ کیا ہمارے متعلقہ ادارے اس اندھے کاروبار سے بے خبر ہیں یا پھر یہ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے؟ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر تمام ری ہیبلیٹیشن سینٹرز کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے، باقاعدہ انسپیکشن کا نظام قائم کرے، اور غیر قانونی مراکز کو فی الفور بند کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی ناگزیر ہے۔
معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے پیاروں کو ایسے غیر مستند اداروں کے حوالے کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کرنی ہوگی۔ صرف سستی سہولت یا وقتی حل کے بجائے مستند اور رجسٹرڈ مراکز کا انتخاب ہی ہمارے عزیزوں کی جان بچا سکتا ہے۔
آخر میں یہ سوال ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے:
اگر ایک معاشرہ اپنے بیمار اور کمزور افراد کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، تو کیا وہ واقعی مہذب کہلانے کا حق رکھتا ہے؟
وقت آ چکا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، سوال اٹھائیں، اور ان “ری ہیبلیٹیشن سینٹرز” کے پردے میں چھپی حقیقت کو بے نقاب کریں
اس سے پہلے کہ مزید زندگیاں اس بے رحم نظام کی نذر ہو جائیں۔






